احمد ندیم قاسمی کی خاکہ نگاری : عامرسہیل

عامرسہیل
عامرسہیل
اردوادب میں خاکہ نگاری کی باضابطہ روایت کا نقطۂ آغاز اگر مرزا فرحت اللہ بیگ کے خاکے” ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی“(طبع ۱۹۲۷ء) کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی یہ روایت زیادہ پرانی نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود عوام و خواص کی مشترکہ پذیرائی نے اسے ادب کی اہم اور مقبول صنف بنا دیاہے۔ فن خاکہ نگاری کے ابتدائی نقوش یا اشارے با لعموم شعراءکے تذکروں اور باضاطہ ادبی تواریخ میں نظر آ تے ہیں۔ ان تذکرہ نگاروں نے اپنے ممد و حین کے ایسے جامع مرقعے تیار کیے جو آگے چل کر خاکہ نگاری کی بنیاد بنے محمد حسین آزاد نے
” آب حیات “ میں اور مرزا فرحت اللہ بیگ نے ” دلی کا آخری یادگار مشاعرہ “ کے ذریعے مرقع نگاری کے اعلیٰ نمونے یادگار چھوڑے ہیں۔
ہمارے ادب کی کئی معروف شخصیات نے خاکہ نگاری کو جزوی یا کلی طور پر اپنایا اور اس کی ارتقائی نشوونما میں قابل قدر اضافے کیے ، اگر ان سب مصنفین کے محض نام ہی گنوائے جائیں تو یہ سلسلہ بہت دور تک نکل جائے گا لہٰذا چند نمائندہ ناموں پر اکتفا کیا جاتا ہے،ان میں کچھ نام تو ایسے ہیں جنھوں نے ادب کی دیگر اصناف کے ساتھ خاکے بھی تحریر کیے مثلاً رشید احمد صدیقی، بابائے اردو مولوی عبد الحق، شاہد احمد دہلوی ، سعادت حسن منٹو، اشرف صبوحی، شوکت تھانوی، ممتاز مفتی ، فارغ بخاری، چراغ حسن حسرت، رئیس احمد جعفری، مولانا عبد الماجد، ابو الفضل صدیقی اور احمد ندیم قاسمی ۔ ادیبوں کی کہکشاں میں محمد طفیل ایسے لکھاری ہیں جنھوں نے اس صنف کو کلی طور پر اپنا یا اور اپنے معجز بیان قلم سے لازوال خاکے تخلیق کیے۔ مختار مسعود کا بھی زیادہ تر تخلیقی سرمایہ اسی صنف کا مرہونِ منت ہے۔ احمد ندیم قاسمی کا شمار اول الذکر قبیلے میں ہوتا ہے کہ انھوں نے افسانہ ، شاعری ، تنقید ،ادارت اور صحافت کے علاوہ خاکہ نگاری کو نہ صرف مستقل بنیادوں پر اپنایا بلکہ اس صنف میں بھی وہ اپنے پیش رو اور معاصرخاکہ نگاروں میں ممتازنظر آتے ہیں۔ اُن کے مختلف ادوار میں لکھے ہوئے خاکے کتابی صورت میں پہلی مرتبہ ” میرے ہم سفر “(۲۰۰۲ء) کی صورت میں سامنے آئے اور کچھ عرصے بعد دوسرا مجموعہ ”میرے ہم قدم“ (۲۰۰۶ء)کے نام سے طبع ہوا اورتیسرا مجموعہ ”تذکرے“ ابھی زیر طبع ہے۔ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مطبوعہ کتابوں کے مندرجات کا تعارفیہ پیش کردیا جائے تا کہ تمام مباحث واضح رہیں۔
” میرے ہم سفر “ میں جن تیرہ شخصیات کے خاکے شامل ہیںاُن کے نام یہ ہیں:مولانا عبد المجید سالک،مولانا غلام رسول مہر،مولانا چراغ حسن حسرت،سعادت حسن منٹو،ن۔م۔راشد،فیض احمد فیض،سید ضمیر جعفری،امتیاز علی تاج،حکیم محمد سعید،خدیجہ مستور،ابنِ انشا،سجاد سرور نیازی اور محمد طفیل۔دوسرے مجموعے ”میرے ہم قدم“ میں جن احباب پر خامہ فرسائی کی گئی ہے اُن میں اختر شیرانی ، احسان دانش،اختر حسین جعفری،ظہیر بابر،مرزا محمد ابراہیم،دادا امیر حیدر،ظہیر کاشمیری،کرشن چندر،شیخ خورشید احمد،مختار صدیقی، میاں عبدالحمیدؒ،ڈاکٹر اقبال شیدائی،ظہور نظر،میر خلیل الر حمن،پروین شاکر،ریاض شاہد،اطہر نفیس، حسن عابدی اورکاوش بٹ شامل ہیں۔
احمد ندیم قاسمی کا ہرخاکہ زیرِ مطالعہ شخصیت کی جامع قلمی تصویر پیش کرتا ہے ؛اُن کا انداز تجزیاتی ہے اور اکثر اوقات وہ ایک ماہرِ نفسیات کی طرح تحلیلِ نفسی سے بھی کام لیتے ہیں ۔شگفتہ اُسلوبِ نگارش اور عمیق مشاہدات کے حسین امتزاج نے تما م خاکوں کا صوری اور معنوی حسن بڑھا دیا ہے۔ اختصار، جامعیت اور جاذبیت کا متواز ن امتزاج ہر تصویری خاکے میں نمایاں ہے۔
اُردو ادب میں خاکہ نگاری کے نام پر شخصیت نگاری، اوصاف نگاری اور سوانحی مضامین لکھنے کا رواج عام ہے اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ بہت کم ادیب اس صنف کے فنی لوازم کے ساتھ انصاف کر پائے ہیں۔ محمد طفیل کو اس فن کے حدود و ثغور، اُسلوب اور کیفیت کا پورا پورا شعور حاصل ت ہے اسی لیے وہ کہتے ہیں:
” میرے نزدیک خاکہ نگاری خدائی حدود میں قدم رکھنے کے مترادف ہے یعنی جو کچھ آپ کو خدا نے بنایا ہو اس کے عین مین اظہار کا نام خاکہ نگاری ہے۔ “( محبی ، ص ۷)
احمد ندیم قاسمی کا فنِ خاکہ نگاری اُن تمام اوصاف سے مزین ہے جو اس خدائی حدود میں قدم رکھنے کے لیے لازمی ہیں ؛یعنی لطف و بے ساختگی،اپنائیت،ذاتی نقطہ ءنظر،بذلہ سنجی، مشاہدہ،شخصیت کے باطن کا مطالعہ،بے تکلفی،واقعات کے انتخاب میں سنجیدگی اور حسن ِ ترتیب۔کسی خاکہ نگار کے ہاں ان تمام اوصاف کا بیک وقت موجود ہونا کوئی آسان بات نہیں ہے۔قاسمی کا فن ِ خاکہ نگاری کٹھن ریاضت کی منزلیں سر کرنے کے بعد یہاں تک پہنچا ہے۔
ایک اور اہم وصف جس کا میں نے اُوپر اس لیے ذکر نہیں کیا کہ خود قاسمی صاحب کی زبان سے اس کا اعتراف دکھانا چاہتا تھا۔ ” میرے ہم سفر “ کے ابتدائیے ” سرِ آغاز “ میں جناب قاسمی لکھتے ہیں :
” مجھے انفرادی اور اجتماعی سطح پر سچ بولنا بھی آتا ہے “
ایک ذمہ دار خاکہ نگار میں اس خوبی کا ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اسی کی بدولت معیاری خاکہ وجود میں آتا ہے ” میرے ہم سفر “ کا طویل ترین خاکہ فیض احمد فیض کا ہے یہ خاکہ بلا مبالغہ فیض پر لکھی جانے والی کئی ضخیم سوانح عمریوں پر بھاری ہے، کیونکہ یہاں زیرِ مطالعہ شخصیت کے تمام اوصاف کو حق سچ کی میزان میں تولنے کے علاوہ ادبی رکھ رکھاﺅ کے ساتھ پیش کر دیا گیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں فیض پر توصیفی اور مدحیہ نثری قصاید لکھنے کا رواج کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے اس مدلل مداحی کی وجہ سے اصل شخصیت سات پردوں میں چھپ کر رہ گئی ہے۔قاسمی صاحب اس روایت سے یقینا باخبر تھے اس لیے اُنھوں نے فیض کے بارے میں وہی لکھا جو اُن کے نزد یک درست تھا ۔
یہ جملے ملاحظہ ہوں:
(۱) ” دراصل فیض صاحب بو ژوا قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور اُنھی کی صحبت میں خوش رہتے تھے“ ( میرے ہم سفر،ص ۱۱۰)
(۲) ” فیض صاحب کی ترقی پسندی تو کسی بھی شک و شبہ سے بالا تر تھی مگر ترقی پسندوں کی سر گرمیوں میں وہ بھرپور دلچسپی کم ہی لیتے تھے جس کی اُن سے توقع کی جاتی تھی۔“
( میرے ہم سفر،ص ۱۱۱)
اگر خاکہ نگار اپنے ممدوح کی سوچ نہ پڑھ سکے تو پھر وہ محض شخصیت کا خول ہی تیار کر ے گا شخصیت کی روح نظر نہ آئے گی۔ فیض احمد فیض پر ان کے قریبی رفقا نے بھی خاکے لکھے ہیں بلکہ ایک اہم خاکہ اُن کی زوجہ ایلس فیض کا نقوش کے ” شخصیات نمبر “ کی زینت بن چکا ہے لیکن یہ تمام خاکے یا تو اندھی عقیدت کے زیرِ اثر لکھے گئے یا ظاہری شخصیت کے بیان تک محدود ہیں، ان میں سے کسی نے بھی فیض کی اصلی تصویر کشی نہیں کی۔ احمد ندیم قاسمی کو فیض کی زندگی کے ایسے انوکھے اور منفرد پہلوﺅں سے آشنائی حاصل تھی جو دوسروں کے لیے بظاہر ممکن نہ تھی یا اگر ممکن تھی بھی تو اظہار کا کا مسئلہ آڑے آ جاتا تھا۔
ممتاز مفتی ” اوکھے لوگ“ کے ” پیش لفظ “ میں شخصیت کے اسرار ور موز پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں :
” شخصیت کی گہرائی کی بات کریں تو جادو گر کے ڈبے کے مصداق ہے ایک ڈبہ کھولو تو
اندر سے دوسرا ڈبہ نکل آتا ہے دوسرا ڈبہ کھولو تو تیسرا ، ڈبے میںڈبہ ، ڈبے میں ڈبہ،تضاد
کو دیکھیں تو شخصیت فقیر کی گدڑی ہے۔پیوند ہی پیوند۔بنت میں رنگ میں کوالیٹی میں
شکل میں ہر ٹکڑا دوسرے سے مختلف۔“ (اوکھے لوگ ،ص:۳)
شخصیت کا مطالعہ بذات خود بڑا دلچسپ مضمون ہے ۔ماہرینِ نفسیات اور فلسفیوں نے شخصیت کی اخلاقیاتی ، عینی ، سماجی ، عملیاتی، فطری ، مارکسی ، حقیقت پسندانہ اور وجودی وغیرہ جیسی مختلف النوع تعریفیں پیش کی ہیں اور ہر زاویے سے انسانی شخصیت کو پرکھنے اور اس کے اعمال و افکار کا تجزیاتی مطالعہ کرنے کی مسلسل کوششیں کی ہیں جس کے نتیجے میں انسانی شخصیت کے بارے میں ہمارا علم ہر چند کہ حرفِ آخر نہ ہو ، مگر رنگا رنگ ضرور ہے ۔
فیض کی ساحرانہ شخصیت سے احباب اس قدر مسحور تھے کہ اُنھوں نے مدلل مداحی ہی میں اظہار ِ محبت کی آسان راہ تلاش کی اور اُن شخصی تضادات تک رسائی حاصل نہ کر سکے جن کا ذکر کیے بغیر فیض کی شخصیت اُدھوری اور یک رخی رہ جاتی ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے اس طلسم کو بڑی جرأت سے توڑا اور فیض کی مکمل شخصیت سے ہمارا تعارف کرایا۔ ہمارے اردگرد ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو فیض سے اندھی عقیدت کا دم بھرتے ہیں اور محض تعریف و توصیف تک محدود رہ کر بات کرنا پسند کرتے ہیں۔ جنابِ قاسمی بھی فیض سے دلی ارادت رکھتے ہیں اور اُن کی شاعری اور دیگر شخصی اوصاف کی دل سے قدر بھی کرتے ہیں لیکن وہ دوسروں کی طرح اُنھیں پیر و مرشد یا ولی سمجھنے کے بجائے انسان ہی سمجھتے ہیں ۔” میرے ہم سفر “ کے دیباچے ” میری رائے “ میںمنصورہ احمد کا یہ جملہ دعوتِ فکر دیتا ہوا نظر آتا ہے :
” وقت کا شہ زور گھوڑ ابہت سفاک ہے کمزور اور غیر حقیقی چیزیں اس کے سمّوں تلے روند دی جاتی ہیں “ (ص ۱۵)
احمد ندیم قاسمی کا خاکہ نگاری کے بارے میں اپنا ایک خاص وژن ہے۔ وہ شخصیت کی حلیہ نگاری اور دیگر ظاہری جزئیات بیان کرنے کے بجائے براہ ِراست شخصیت کے باطن میں جھانکتے ہیں اور ایسا صرف قریبی تعلق کے باعث ہی ممکن ہو سکتا ہے ۔فنِ خاکہ نگاری اور افسانہ نگاری کی اسلوبیاتی تکنیک بھی کم و بیش ایک ہی جیسی ہیں۔خاکے میں کبھی کوئی شخصیت پوری نظر نہیں آتی بلکہ اصل تصویر کی ایک جھلک دکھا دینا ہی کمال ہے۔ افسانہ بھی زندگی کا کوئی ایک گوشہ یا پہلو مصور کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ قاسمی صاحب کے ہاں کسی شخصیت کو اُجاگر کرنے کے لیے واقعات کا ایک ایسا سلسلہ ملتا ہے جو زیرِ مطالعہ شخصیت کے نو بہ نو زاویے دکھاتا چلا جاتا ہے۔ ہرواقعہ شخصیت کے مزاج، کردار اور افکار پر تفصیلی روشنی ڈالتا ہے۔ ان واقعات کا مقصد محض ممد و حین کے عیب و ہنر دکھانا نہیں ہے باطن کو مجسم کرنا بھی ہے۔
خاکہ نگاروںکو ہم اُسلوب اور برتاﺅ کے اعتبار سے کئی دبستانوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔ ممتاز مفتی کا دبستانِ خاکہ نگاری عقیدت کے راستوں سے ہوتا ہوا تصوف کی وادیوں میں جا نکلتا ہے اور پھر طعن و تشنیع پر دم توڑ دیتا ہے۔ منٹو نے اپنے کرداروں کے منفی پہلوﺅں کو اپنے مخصوص اُسلوب میں اس طرح بیان کیا کہ وہ شخصیات افسانوی مرقع بن کر رہ گئیں ۔رشید احمد صدیقی نے خاکہ نگاری کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے ممدوحین کے اوصافِ حمیدہ سے سروکار رکھا اور یہ بھول گئے کہ خاکہ نگاری میں عقیدت کا در آنا اصل شخصیت کو نظروں سے اوجھل کردیتا ہے۔احمد بشیر نے خاکہ نگاری میں ذاتی پسند اور ناپسند کو اس انداز سے شامل کیا ہے کہ اُن کے پیش کردہ خاکوں میں برہمی اور شدید غصے کے عناصر وافر مقدار میں جمع ہو گئے ہیں جس نے خاکہ نگاری کے نازک فن کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔اُردو ادب میں ایسے ادبا کی بھی کوئی کمی نہیں ہے جنھوں نے خاکہ نگاری کے نام پر سوانحی اورتحقیقی مضامین لکھ کر دکھا دیئے۔بخوفِ طوالت ان کے نام گنوانے سے گریز کرتا ہوں،مفصل مطالعے کے لیے” نقوش“ کا ”شخصیات نمبر“ کافی ہے۔
احمد ندیم قاسمی، مختار مسعود اور محمد طفیل کا تعلق کم و بیش ایک ہی دبستان سے ہے ،تینوںکے ہاں قوتِ مشاہدہ اور ماضی کے واقعات کو خوبصورت گلدستہ بنا کر پیش کرنا قدر ِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دبستان تہذیبی قدروں کو اہمیت دیتا ہے اور شخصیت کے تمام
پہلوؤ ں کو ایک خاص اخلاقی اور ثقافتی پس منظر میں دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کرتا ہے،نیز شخصی کمزوریوں کا بیان حد درجہ نفیس اور تہذیبی پیرائے میں کرتے ہیں۔ فکر کی بالیدگی اور انسان دوستی کا عنصر بھی ان کے خاکوں میں موجود رہتا ہے۔
خاکہ نگاری، نثر میں غزل کہنے کا فن ہے ایک عمدہ اور معیاری خاکے میں غزل کے شعر جیسی تاثیر اور مختصر افسانے کی سی وحدت پائی جاتی ہے۔ اس نازک فن میں معمولی آنچ کی کسر خاکہ نگاری کو سوانحی مضمون بنا سکتی ہے ڈپٹی نذیر احمد دہلوی پر بڑے بڑے لوگوں نے خاکے لکھے، لیکن مرزا فرحت اللہ بیگ کا خاکہ ” ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی “ شاہکار مانا جاتا ہے وجہ صرف یہی ہے کہ اُنھوں نے خاکہ نگاری اور سوانح نگاری کے باہمی فرق کو سمجھ کر قلم اٹھایا ہے۔
احمد ندیم قاسمی کے تمام خاکے اس فن سے وابستہ خوبیوں سے مملو ہیں۔ اس کے علاوہ اگر اضافی خوبیوں پر نظر کی جائے تو قاسمی صاحب کا فن ِخاکہ نگاری مرکز آشنا یعنی Center Orientedبھی ہے ۔جناب قاسمی اپنی بیان کردہ شخصیات کے حوالے سے جن واقعات کا انتخاب کرتے ہیں اُن کی مدد سے نہ صرف اصل شخصیت کا عکس سامنے آ جاتا ہے بلکہ ان واقعات کو دہرانے کا بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ پڑ ھنے والا خود بھی اُن شخصیات کا تجزیہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ شخصیت کے نقوش اُبھارنے کی خاطر غیر ضروری مواد کا سہارا لینے کے قائل نہیں ہیں: اس کے بجائے وہ کم مواد کے سہارے شخصیت کے اعماق تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں ۔ انکشاف و عرفان کے یہ تمام مراحل زیر بحث شخصیت سے اس قدر مربوط ہو تے ہیں کہ قاری خود کو خاکہ نگار کی کیفیات تک پہنچ کر ادیبوں سے ملاقات کے قابل ہو جاتا ہے۔
کسی بھی شخصیت کی باطنی تہوں تک پہنچ جانا بظاہر امر محال ہے لیکن ایک ذہین خاکہ نگار اس مشکل سے آسان گزر جاتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی کا فن یہ ذمہ داری قبول کرتا ہے کہ ہر شخصیت کی باطنی روشنی حاصل کر کے عام کر دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قاسمی صاحب کے سجائے گئے شخصیات کے اس نگار خانے میں ہر تصویر بولتی اور چلتی پھرتی نظرآتی ہے۔ ہر مورت کا رنگ اور انگ مختلف ہے اور اپنے
عصر سے پوری طرح جڑی ہوئی ہے۔ گو کہ جناب قاسمی نے ہر خیال کو مکرر تخلیق کیا ہے لیکن پھر بھی اصلی خیال کی شکل و صورت اور مزاج میں اجنبیت کا شائیہ نہیں ہے۔ ایک خاکہ نگار کی حیثیت سے انھوں نے اپنی انفرادیت برقرار رکھی ہے ان کے خاکوں سے چند مثالیں دیکھے ۔
محمد طفیل کے ساتھ اپنی غیر مشروط محبت کا اظہار اس انداز سے کرتے ہیں:
’ ہم دونوں میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں جسمانی لحاظ سے بھی اور نظریاتی و جذباتی لحاظ سے بھی ۔ اگر کسی چیز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تووہ طفیل صاحب کی اور میری دوستی کا رشتہ تھا جو کئی بار طنبورے کی تارکی کی طرح تن گیا مگر ٹوٹا ایک بار بھی نہیں کہ اس کے ٹوٹنے کا احتمال ہی ختم ہو چکا تھا (میرے ہم سفر: ص ۲۰۹)
ابنِ انشا کا خاکہ لکھتے ہوئے قاسمی کہتے ہیں :
” ابھی ہم خاص مدت تک یہ فیصلہ نہیں کر پائیں گے ابن انشا بہت پیارا شاعر تھا یا بہت پیارا فکاہیہ نویس تھا یا بہت پیا را سفر نامہ نگار تھا یا بہت پیارا مترجم تھا یا بہت پیا را نسان تھا۔
دراصل ہم لوگ شخصیتوں کو خانوں میں بانٹے کے عادی ہیں کیونکہ اس طرح اس شخصیت کے محاکمے میں اور نتیجتاً اس کی حق تلفی میں سہولت رہتی ہے ،اور وہ شخصیتیں ہمیں بہت کھلتی ہیں جو ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہوتی ہیں اور جن کی خصوصیات یوں موبوط ہوتی ہیں کہ ایک خصوصیت کو دوسری سے الگ کرو تو ایسی ٹیس اُٹھے جیسے گوشت سے ناخن کو جدا کیا گیا ہے ۔“ ( میرے ہم سفر: ص ۱۹۸)
یہ اقتباس قدرے طویل ضرور ہے لیکن اس کی مدد سے ہم نہ صرف ابن انشا کی تمام ادبی حیثیات سے واقف ہو جاتے ہیں بلکہ شخصیت نگاری کے حوالے سے جناب قاسمی کے نظریات کی ایک واضح جھلک بھی نظر آ جاتی ہے۔ اُنھوں نے ایمائی اور علامتی انداز میں بات کرنے کے بجائے وضاحت سے اپنے نظریہ ءفن کی تر جمانی کر دی ہے ۔
احمد ندیم قاسمی کی خاکہ نگاری کا ایک اہم وصف انسان دوستی ہے،اِس کی طرف میں نے اُوپر اشارہ بھی کیا ہے لیکن اس پر تفصیلی بات کی ضرورت ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جناب قاسمی کی شاعری او ر افسانوں میںا نسان دوستی کے حوالے بکثرت موجود ہیں تاہم یہ بات بھی واضح رہے کہ اِن کی خاکہ نگاری میں بھی یہ وصف اپنی پوری توانائی اور رعنائی کے ساتھ موجود ہے۔وہ اپنے ارد گرد موجود کسی انسان کو محض اس لیے رد نہیں کرتے کہ وہ بشری کمزوریوں کا شکار ہے
احمد ندیم قاسمی کا اُسلوبِ خاکہ نگاری تازہ کاری کی عمدہ مثال ہے ۔ فالتو الفاظ و تراکیب سے دامن بچا کر چلنا، ڈرامائی صورتِ حال پیدا کرنا اور ہلکا پھلکا مزاح اُن کے تقریباً ہر خاکے میں نظر آتا ہے ۔ الفاظ کا استعمال ایسا جچا تلا ہے کہ ہر خاکہ نگار اس پر رشک کر سکتا ہے ۔ اُسلوب کی یہ جمالی صفات بہت کم تخلیق کاروں کو ارزانی ہوئی ہے۔بہترین اُسلوب کی ایک پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ اُس میں اظہار کے تمام قرینے اختصار کی راہ سے گزر کر منزل آشنا ہوتے ہیںاس حوالے سے کچھ اہم مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
ڈاکٹر اقبال شیدائی کا خاکہ محض پہلی سطر میں شخصیت کا واضح تصور قائم کردیتا ہے:
” اتنا شفیق، اتنا تابندہ ، اتنا شگفتہ طبع ،اتنا حوصلہ مند اور جری بوڑھا میری نظر سے آج تک نہیں گزرا“ (میرے ہم قدم:ص ۹۹)
اختر حسین جعفری کے خاکے میں جب وہ اُن کی فن شناسی پر بات کرتے ہیں تو یہی اختصار خضرِ راہ کا کام کرتا ہے:
” اختر حسین جعفری ایک بے مثال طلسم کار تھا۔وہ جذبے کو چھوتا تھا تواُسے کائنات گیر بنا دیتا تھا اور جب لفظ کو مس کرتا تھا تو اُسے نئے سے نئے مفاہیم سے جگمگا دیتا تھا۔زندگی میں اُس نے دو کام کیے۔محبت کی اور شاعری کی۔یہ دونوں کام اس نے اتنی والہیت سے کیے جیسے عبادت کر رہا ہے۔یہی سبب ہے کہ اس نے جس سے محبت کی اُس سے زندگی بھر محبت کی۔جذبہءمحبت کی یہی تکمیل اس کی شاعری میں بھی انعکاس پذیر رہی۔اُس نے اپنی نظموں کے ایک ایک مصرعے کو perfectionکی مثال بنا دیا“
(میرے ہم قدم:ص ۹۹)
اختصار کی اس خوبی نے احمد ندیم قاسمی کے تمام خاکوں کی معنوی سطحیں گہری کر دی ہیں،یہی اضافی صفت اُن کے تمام تخلیقی پیکر متحرک بناتی ہے اور خیا ل آفرینی کی بدولت ہر خاکہ با انداز ِ دگر رفعتِ فکر اور حساسیّت کا نامیاتی استعارہ بنتا چلا جاتا ہے۔اگر قاری ذرا توجہ کرے تو اسے یہ اندازہ بھی ہو جائے گا کہ غزل اور مختصر افسانے کا اختصار خاکے میں اپنی پوری رعنائی کے ساتھ آن موجود ہوتا ہے،یہی اختصار ایک خاکے کو معیاری خاکہ بنانے کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔شعر کے بارے میں یہ عمومی خیال دہرایا جاتا کہ:
بات بین السطور ہوتی ہے
شعر میں حاشیے نہیں ہوتے
اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خاکہ نگاری میں بھی حاشیے نہیں ہوتے بلکہ اختصار کا سکہ چلتا ہے۔بے جا طوالت خاکے کی وحدت پارہ پارہ کردیتی ہے۔
احمد ندیم قاسمی کی خاکہ نگاری میںخود اُن کی اپنی ذات کا عکس بھی خاصا نمایا ں ہے۔دوران ِ مطالعہ بار بار ہماری ملاقات اُن سے ہو جاتی ہے۔میرا خیال ہے کہ اگر کوئی محقق یا تخلیق کار صرف ان خاکوں کی مدد سے قاسمی صاحب کی شخصیت کو دریافت کرنا چاہے تو اُسے کئی ایسے نادر نکات ہاتھ لگ جائیں گے جو شاہد کسی اور جگہ سے دستیاب نہ ہو سکیں۔احمد ندیم قاسمی کے سوانح نگار کو چاہیے کہ وہ وقتاً فوقتاً ان خاکوں سے بھی رجوع کرے۔اختر شیرانی والے خاکے میں جناب قاسمی کہتے ہیں:
”جب استفسار کرنے والوں کو بتاتا ہوںکہ جب میں نے شعر کہنا شروع کیا تو بیک وقت اقبال،جوش،ظفر علی خان اور اختر شیرانی سے متاثر تھا،توبہت حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ ”بعد المشرقین“ اُن کیسمجھ میں نہیں آیا اور میں اُنھیں سمجھا بھی نہیں پاتا“(میرے ہم قدم:ص۱۱)
اسی خاکے کا یہ معلوماتی حصہ ملاحظہ ہو:
”میری شاعری کا آغاز تھا اور اُس زمانے کع ادبی رسالوں میں اختر کے ”رومان“ کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ میرا پہلا افسانہ بھی ”رومان“ ہی میں شائع ہوا تھا اور میرا ابتدائی کلام بھی ”ہمایوں“ کے علاوہ ”رومان“ میں درج ہوتا رہا“ (میرے ہم قدم:ص۱۱)
یہ بیان بھی توجہ طلب ہے:
” انجمن حمایتِ اسلام کی گولڈن جوبلی کے موقع پر شعرا کو دعوت دی گئی کہ ” پیغامِ عمل“ کے عنوان سے نظمیں لکھیں۔بہترین نظم لکھنے والے کو سونے کا تمغہ انعام میں دیا جائے گا۔علامہ اقبال،جوش ملیح آبادی اور مولانا ظفر علی خان کی شاعری کا مطالعہ میرا ممد ثابت ہوا۔ میں نے بھی اس موضوع پر نظم لکھی اور اُسے بہترین نظم قرار دیا گیا۔“(میرے ہم قدم:ص۱۴)
احمد ندیم قاسمی کی خاکہ نگاری محض کسی فردِ واحد کی داستان طرازی نہیں ہے بلکہ ایک پورے عہد کی مستند تاریخی دستاویز بھی ہے۔ان میں اصل موضوع کے پہلو بہ پہلوکئی اور تہذیبی اور ثقافتی حوالے فطری انداز سے ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔
حکوتِ پاکستان نے جب منٹو اور اختر شیرانی کے یاد گاری ٹکٹ جاری کیے تو قاسمی اس موقع پر قومی شعور کے حوالے سے یہ اعتراف کرتے ہیں:
” چلیے نصف صدی بعد سہی مگر پاکستان نے کے محکمہ ءڈاک کی طرف سے منٹو اور اختر شیرانی کے یاد گاری ٹکٹ توجاری ہو گئے۔بحالاتِ موجودہ یہیغنیمت ہے۔یہ سب عظیم لوگ تھے مگر بر وقت اُنھیں ٹھیک سے پہچان ہی نہ پائے۔ہمارے وطنی شعور کا یہ اچھا ثبوت نہیں ہے۔“ (مرزا محمد ابراہیم:ص۵۷)
جناب قاسمی کے خاکوں میں موضوعات کا تنوع حیران کن ہے۔اُنھیں اس بات پر قدرت حاصل ہے کہ وہ اصل موضوع کا ذایقہ برقرار رکھتے ہوئے اِدھر اُدھر کی سیر بھی کراتے ہیں،مثلاً ڈاکٹر اقبال شیدائی والے خاکے میں جہاں وہ اپنے ممدوح کی شخصیت کا ذکر کرتے ہیں وہاں اپنی صاف گوئی کی جھلک بھی دکھا جاتے ہیں:
“ اُنھوں نے میرا نام سنا تو یوں تپاک سے ملے جیسے میں کوئی اہم آدمی ہوں،بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سب سے اسی طرح ملتے ہیں“
غرض احمد ندیم قاسمی کی خاکہ نگاری اپنے جلو میں جہانِ معنی کا طلسم ہے۔اس میں ہر قسم کا قاری حسبِ ضرورت استفادہ کرسکتا ہے۔
اُ مید ہے کہ آنے والا کوئی جواں فکر نقاد اور محقق ان خاکوں کی اصل معنویت آ شکار کرے گا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post