کُچھ کھٹی میٹھی یادیں (۳۷)


از : نیلما ناہید درانی
پولیس میں دس سال ۔۔۔۔ اک انجانا خوف
میری دوسری کتاب کے ڈسٹ کور پر میں نے کچھ زیر طبع کتابوں کے نام بھی لکھ دیے تھے۔۔۔
ان میں ایک نام تھا۔۔” پولیس میں دس سال “
اس نام میں نجانے کیا کشش تھی۔۔۔کہ میرے گھر جبار بٹ اپنے ساتھ جنگ اخبار کے صحافی روف ظفر کو لے کر آئے۔۔۔روف ظفر نے بتایا کہ وہ جنگ پبلشرز کے شعبہ میں ہیں۔۔۔۔اور اگر میں۔۔۔پولیس میں دس سال۔۔۔کا مسودہ انھیں چھاپنے کے لیے دوں۔۔۔تو وہ اس کے عوض مجھے دو لاکھ روپے ادا کریں گے۔۔۔اور کتاب بھی چھپ جائے گی۔۔۔۔
1990 میں دو لاکھ ایک بڑی رقم تھی۔۔۔۔مگر میں نے ان سے کہا کہ ابھی میں وہ شائع نہیں کروانا چاہتی۔۔۔وہ جس مشن پر آئے تھے۔۔۔مایوس واپس چلے گئے۔۔۔۔۔میری کتاب سے ناجانے کون خوفزدہ تھا۔۔؟
جبار بٹ کا سپیشل برانچ میں آنا جانا تھا۔۔۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا کوثر نیازی سے ان کے قریبی تعلقات ہیں۔۔۔شاید ان کے کہنے پر ہی۔۔۔۔میرے والد کی وفات پر۔۔۔مولانا کوثر نیازی نے فون کر کے مجھ سے تعزیت کی تھی۔۔۔۔میری مولانا کوثر نیازی سے کبھی ملاقات نہیں ھوئی۔۔۔۔لیکن ان کا طرز خطابت۔۔۔ اور انداز گفتگو بہت متاثر کن تھا۔۔۔۔ان کی تسلی کے کلمات نے غم کے ایام میں میرا بہت حوصلہ بڑھایا۔۔۔۔
برسوں بعد جبار بٹ نے مجھے جہانگیر بک ڈپو کے فواز نیاز سے متعارف کروایا۔۔۔۔۔ ان دنوں سعادت اللہ خان ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ تھے۔۔۔
فواز نیاز نے میری شاعری کا انتخاب بہت خوبصورت شائع کرکے مجھے تحفے کے طور پر پیش کیا۔۔۔
“اداس لوگوں سے پیار کرنا”
سپیشل برانچ میں اجمل نقوی سے بھی تعارف ہوا تھا۔۔۔یہ شیعہ کمیونٹی کی خبریں لے کر آتے تھے۔۔۔
ان دنوں سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد کا مقابلہ زوروں پر تھا۔۔۔۔چوھدری سردار محمد کے زمانے میں۔۔۔۔ان کے ساتھ محمد حسین اکبر بھی آیا کرتے تھے۔۔۔
ان دنوں شیعہ قوم کا مرکز ماڈل ٹاون میں جامع المنتظر ہوا کرتا تھا۔۔۔۔۔اس مرکزیت کو ختم کرنے ۔۔۔۔اور شیعہ قوم کو تقسیم کرنے کے لیے۔۔محمد حسین اکبر کو جوھر ٹاون میں۔۔۔منہاج الحسین بنوا دیا گیا۔۔۔
ایک محرم میں میری ڈیوٹی کنڑول روم میں لگا دی گئی۔۔۔۔
شاھدرہ میں باوا صدا حسین کی تین روزہ عزاداری کی محافل جاری تھیں۔۔۔
جس کی لمحہ لمحہ کی خبر رپورٹ ہو رھی تھی۔۔۔۔
شیعہ اور سنی مولویوں۔۔۔۔کے معترضہ بیانات رپورٹ ہو رھے تھے۔۔۔
ھم نے ان کو لکھ کر ڈائری بنانی تھی۔۔
میرے ساتھ جو ایس پی صاحب تھے۔۔ان کا نام اصغر تھا۔۔۔۔لیکن وہ خاصے متعصب تھے۔۔۔۔وہ سنی مولویوں کی لغو باتوں کو بھی نظر انداز کر رہے تھے۔۔۔لیکن شیعہ مولویوں کی معمولی باتوں کو بھی بڑھا چڑھا کر آگے بھیج رہے تھے۔۔۔۔
اس وقت احساس ھوا کہ۔۔۔۔ایسی ڈیوٹیوں پر کسی تنگ نظر متعصب افسر کا ھونا کتنا نقصان دہ ھو سکتا ہے۔۔۔
پولیس جیسے محکمہ میں بھرتی کے وقت ۔۔۔امیدواروں کا نفسیاتی تجزیہ بہت ضروری ھے۔۔۔تنگ نظر ، جانبدار یا شدت پسند لوگ کسی بھی بڑے سانحہ کا موجب بن سکتے ھیں۔۔۔۔۔
اور اس کا نتیجہ برسوں بعد گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی صورت میں سامنے آیا۔۔۔۔
                                                                                                (جاری ہے)
نیلما ناہید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post