کُچھ کھٹی میٹھی یادیں (۳۴)


نیلما ناہید درانی
تجھ سے بچھڑ کے حادثہ عجیب ھوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجاب بھر میں خواتین کے گھر کے چولہے سے جلنے کے واقعات عام ہو چکے تھے۔۔۔لیکن ان کو انصاف نہیں مل رھا تھا۔۔۔۔عاصمہ جہانگیر اور سوشل ایکٹوسٹ خواتین کا ایک جلوس آئی جی پنجاب کے دفتر پہنچا۔۔۔اور انھوں نے آئی جی پنجاب کا گھیراو کر لیا۔۔۔
جس پر آئی جی پنجاب چوھدری سردار محمد نے ان سے وعدہ کیا کہ ھم اپنی ڈی ایس پی نیلما ناھید درانی کو انچارج بنا کر خواتین کے مسائل کے حل کے لیے ایک سیل قائم کریں گے۔۔۔۔وہ آپ کے ساتھ ھر طرح تعاون کریں گی اور پنجاب میں جہاں بھی کسی خاتون کے ساتھ کوئی نا انصافی یا زیادتی ھوگی وہ اس کو انصاف دلانے میں آپ کے ساتھ ھر طرح سے تعاون کریں گی۔۔۔۔
اخبارات میں یہ خبر بھی شائع ھو گئی۔۔۔
مجھے ڈی آئی جی کرائمز برانچ۔۔صلاح الدین نیازی کا فون آیا۔۔۔ کہ آپ کو آئی جی پنجاب کی طرف سے ایک اھم ذمہ داری سونپی جارھی ھے۔۔۔آپ کو الگ دفتر ، عملہ گاڑی کے ساتھ پنجاب کے دیگر شہروں میں جانے کے لیے جہاز کا کرایہ بھی دیا جائے گا۔۔۔
میں ایسی کوئی ڈیوٹی نہیں کرنا چاھتی تھی جس میں مجھے رات کو گھر سے باھر رھنا پڑے۔۔۔
میں نے اسی وقت قربان لائنز پولیس ھسپتال کے ڈاکٹر علی امیر شاہ سے پندرہ دن کی بیماری کی چھٹی لی۔۔اور گھر چلی گی۔۔۔جس کے بعد فرخندہ اقبال ڈی ایس پی کو اس خواتین سیل کا انچارج لگا دیا گیا۔۔۔
1987 میں جب میں سپیشل برانچ میں تھی۔۔۔۔اے آئی جی ٹریننگ احمد نسیم نے مجھے کہا تھا کہ
“سنگاپور میں چار مہینے کی ٹریننگ کے لیے میں آپ کو نامزد کرنا چاھتا ھوں “
جس سے میں نے معزرت کی تھی کہ میں اپنے بچوں سے دور نہیں جانا چاھتی۔۔۔
جس پر انھوں نے بتایا تھا۔۔۔کہ جب وہ اپنی بیگم کے ھمراہ حج کرنے گئے تھے تب ان کی بیٹی ایک سال کی تھی۔۔۔لیکن میں سنگاپور کی ٹریننگ پر نہیں گئی۔۔۔
احمد نسیم بہت شاندار افسر تھے۔۔۔نہایت نفاست سے یونیفارم پہنتے۔۔ان جیسے ڈسپلن اور اچھا یونیفارم پہننے والے افسر پولیس میں بہت کم تھے۔۔۔۔
ڈیڈی ھسپتال سے گھر آکر تیزی سے صحت یاب ھو رہے تھے۔۔۔اپنے سب کام خود انجام دیتے۔۔۔لیکن خود کو بھول چکے تھے۔۔۔ھم میں سے کسی کو نہیں پہچانتے تھے۔۔۔۔
لیکن ان کے سرخ وسفید چہرے اور گہری نیلی آنکھوں سے کوئی بھیان کی ذھنی حالت کا اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
ایک دن اچانک گھر سے نکل گئے۔۔۔کسی کو پتہ نہیں چلا۔۔۔
ھم ان کو پریشانی کے عالم میں ھر طرف ڈھونڈ رھے تھے۔۔۔لیکن ان کا کہیں پتہ نہیں چل رھا تھا۔۔۔۔۔۔
میں نے اللہ سے دعا کی۔۔۔کہ ایک بار ڈیڈی مل جائیں ۔۔۔پھر چاھے ان کو ھمیشہ کے لیے لے جانا۔۔۔۔کم از کم اس گمشدگی کا دکھ تو نہیں ھوگا۔۔۔
اسی طرح دعائیں مانگتے پھر رھے تھے۔۔کہ اچانک ڈیڈی گورنمنٹ کالج کے باھر کھڑے دکھائی دیے۔۔۔
ھم نے ان کو دیکھ کر گاڑی روکی۔۔۔پوچھا کہ یہاں کیا کر رھے ھیں۔۔۔انھوں نے بتایا کہ ایک رکشہ والے کو کہا تھا مجھے گھر لے جاو۔۔۔اس نے یہاں اتار دیا۔۔۔اور میری گھڑی لے لی۔۔۔
اب ان کی نگرانی کرنا پڑتی تھی کہ دوبارہ اکیلے گھر سے باھر نہ نکل جائیں۔۔۔
میرے بھائی آغا مدثر کی پنجابی کہانیوں کی کتاب ” چٹے لیڑے میلے لوک ” مکمل ھو چکی تھی۔۔۔۔اب اشاعت کا مرحلہ باقی تھا۔۔۔۔اس نے کہا “میرے ساتھ شرکت پریس چلیں۔۔۔”
میں ، آغا مدثر اور آغا مزمل شرکت پریس گئے۔۔۔وھاں مزاحیہ شاعر انور مسعود بھی اپنی کتاب چھپوانے آئے ھوئے تھے۔۔۔ان سے پہلی ملاقات تھی۔۔۔ان کی دلچسپ باتیں سنتے کافی دیر ھو گئی۔۔۔
بھائی خوش تھا کہ گھر جا کر ڈیڈی کو بتائے گا کہ اس کی کتاب بھی چھپ رھی ہے۔۔۔۔
جب ھم گھر پہنچے۔۔۔تو امی نے بتایا۔۔۔ڈیڈی کی طبیعت خراب ہے۔۔۔سینے میں درد کی شکایت کر رھے ھیں۔۔۔ھم اسی وقت ڈیڈی کو سروس ھسپتال لے گئے۔۔۔وہ خود چلتے ھوئے ایمرجنسی میں گئے۔۔۔۔ وھاں انھیں سکریننگ کے بعد ھسپتال میں داخل کر لیا۔گیا۔۔۔۔۔رات گئے میں ان کے پاس رھی۔۔۔
اچانک انھوں نے میری طرف دیکھ کر کہا۔۔”۔بےبی بھی آگئی ہے”
(مجھے میرے والدین بےبی کہہ کرپکارتے تھے)
میں حیران تھی اور خوش بھی کہ ڈیڈی نے مجھے پہچان لیا تھا۔۔
مزمل نے کہا آپ جائیں میں رات ان کے ساتھ رھوں گا۔۔۔آپ صبح آجائیں۔۔۔
صبح سویرے مزمل کا فون آیا۔۔۔
ڈیڈی چلے گئے ہیں۔۔۔
جب میں ھسپتال پہنچی۔۔۔تو ان کو ایمبولینس میں رکھا جاچکا تھا۔۔۔
ایمبولینس کے قریب ان کے جوتے پڑے تھے۔۔۔۔
میرے ڈیڈی جو بہت خوش لباس تھے ان کا معمول تھا صبح سویرے ھی پینٹ شرٹ پہن کر ۔۔۔۔۔جرابیں شوز پہن کر تیار ھوجاتے۔۔۔۔اور دن بھر ایسے ھی پھرتے۔۔۔دن میں اگر نیند بھی آتی تو صوفے پر بیٹھے بیٹھے سوجاتے۔۔۔مگر شوز رات کو سوتے وقت ھی اتارتے تھے۔۔۔۔
اب شوز پہنے بغیر گھر جارہے تھے۔۔۔۔
                                                                                                    (جاری ہے)
نیلما ناھید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post