کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۸)


از: نیلما ناھید درانی
اوول کے ہیرو۔۔۔فضل محمود سے پہلی ملاقات
انسان پر کبھی کبھی ایسی کیفیت ہوتی ھے کہ خوشی اور غمی جیسے احساسات بے معنی سے ہو جاتے ہیں۔۔۔اناونسمنٹ سے پہلے ٹرانسمیشن اسسٹنٹ جمیل مسکرانے کا اشارہ کرتا۔۔۔مگر میں کوشش کے باوجود مسکرا نہ پاتی۔۔۔۔میرے پاس اتنا وقت بھی نہیں تھا کہ کھل کر رو سکوں۔
اشکوں کے ساتھ کوئی عداوت نہ تھی مجھے
لیکن تمہارے غم کی اجازت نہ تھی مجھے
اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے۔۔۔جگہ بدلنے کا سوچا۔۔۔۔گڑھی شاہو میں فضل سٹریٹ پر ایک گھر کی بالائی منزل کرایے پر لے لی۔
بالکونی کے سامنے ایک بڑا سا گھر تھا۔۔۔جس کے ایک طرف ایک انیکسی تھی۔۔۔اور بڑے سے باغ میں رنگ برنگ گلاب کے پودے تھے۔۔۔۔
یہاں نیلی آنکھوں والے خوبرو کرکٹر فضل محمود رہتے تھے۔۔۔۔وہ اس وقت پولیس میں ڈی آئی جی تھے۔۔۔روزانہ شام کو وہ اور ان کی بیٹی شائستہ اپنے باغیچے میں بیٹھ کر شام کی چائے پیتے۔۔۔۔شائستہ اپنے والد کی طرح بہت خوبصورت تھی۔۔۔
فضل محمود کا ذکر میں نے اپنی امی سے بہت سنا تھا۔۔۔امی کا گھر۔۔۔برانڈرتھ روڈ پر تھا۔۔۔جہاں وہ پیدا ہوئی تھیں۔۔۔میں بھی اسی گھر میں پیدا ھوئی۔۔۔اور اسی سکول سے تعلیم حاصل کی جہاں میری امی پڑھتی رہی تھیں۔
اس گھر کی تیسری منزل کی کھڑکیاں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کی گراونڈ میں کھلتی تھیں۔۔۔۔اسی کھڑکی سے امی نے فضل محمود کو کڑکٹ کھیلتے دیکھا تھا۔
اسی کھڑکی سے امی نے قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی دیکھا تھا۔۔۔جب وہ انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں تقریر کر رہے تھے۔۔۔تو خاکسار تحریک کے بانی علامہ مشرقی نے مسجد میں جاکر اذان دینی شروع کر دی۔۔۔۔قائد اعظم نے اپنی گھڑی میں ٹائم دیکھ کر کہا ابھی نماز کا وقت نہیں ہے۔۔۔اور تقریر جاری رکھی۔۔۔جس پر خاکساروں نے ان پر بیلچوں سے حملہ کر دیا۔۔۔۔انتظامیہ نے قائد اعظم کو اپنی حفاظت میں لے کر گاڑی تک پہنچایا۔
یہ سب واقعات میں نے امی سے کئی بار سن رکھے تھے۔۔۔۔فضل محمود کا نام بھی اجنبی نہیں تھا۔۔۔۔
فضل محمود کا بڑا بیٹا شاھد اور اس کے بیوی بچے گھر کے دوسرے حصے میں رھتے تھے۔۔۔
فضل محمود کی بیٹی شائستہ اور چھوٹا بیٹا بنٹی ان کے ساتھ تھا۔۔۔بیگم کو طلاق دے چکے تھے۔۔۔لیکن وہ کبھی کبھار بچوں سے ملنے آتی تھیں۔۔۔
گھر میں ایک ادھیڑ عمر ملازمہ تھی جس نے گھر سنبھالا ہوا تھا۔۔۔۔
ایک دن مجھے پیغام ملا کہ۔۔۔فضل محمود نے مجھے چائے پر بلایا ہے۔۔۔
میں ان کے گھر گئی۔۔۔حسب معمول شائستہ کے ساتھ گھر کے لان میں بیٹھے تھے۔۔۔۔انھوں نے چائے کے دوران بتایا کہ مجھ سے ملنا شائستہ کی خواھش تھی۔۔۔اس کے بعد انھوں نے اپنے گلاب کے تمام پودوں کا تعارف کروایا۔۔۔کہ وہ کس کس ملک سے خریدے گئے ہیں۔۔۔۔
اپنی انیکسی کے بارے میں بتایا کہ یہ چار مرلے میں ھے۔۔۔۔جسے ان کے آرکیٹکٹ داماد۔۔جو ان کی بڑی بیٹی شاھدہ کے شوھر ھیں اوراسلام آباد میں مقیم ھیں نے ڈیزائن کیا ہے۔۔۔۔
اس کے بیسمنٹ میں لائبریری بھی تھی۔۔۔شائستہ نے لاھور کالج سے گریجوائشن کیا تھا۔۔۔اب وہ گھر پر ھی رھتی تھی۔۔۔۔فضل محمود کی خواھش اور کوشش کے باوجود ان کے بیٹوں کو کر کٹ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔فضل محمود نے طاھر القادری کی بیعت کر رکھی تھی۔۔۔اور ان کے ٹی وی پروگراموں کی ریکارڈنگز میں بھی شامل ہوتے تھے۔۔۔۔
میرا مالک مکان حیران تھا کہ انھوں نے مجھے کیسے بلا لیا۔۔۔کیونکہ وہ محلہ میں کسی سے میل جول نہیں رکھتے تھے۔
مجھے روزانہ پولیس کی گاڑی صبح لینے کے لیے آتی۔۔۔اور شام کو پی ٹی وی کی گاڑی آجاتی۔۔۔۔ایک دن میں جلدی فارغ ھو گئی۔۔۔۔تو سوچا رکشہ لے کر گھر چلی جاوں۔۔۔۔رکشہ والا ایک نوجوان لڑکا تھا۔۔۔۔اس نے رکشہ میں بہت سے شیشہ لگائے ھوئے تھے۔۔۔وہ شیشہ سے جھانک کر کبھی بال سنوارتا۔۔۔کبھی عجیب عجیب حرکتیں کرتا۔۔۔میں نے پہلے خیال نہیں کیا ۔۔لیکن جب اس نے لہک لہک کر گانا بھی شروع کر دیا تو مجھے اس پر غصہ آیا۔۔۔میں نے اسے رکشہ روکنے کا کہا۔۔۔گڑھی شاھو پولیس اسٹیشن سامنے تھا۔۔۔میں نے اس کو ڈانٹا تو وہ بدتمیزی پر اتر آیا۔۔۔۔ یہ پہلا موقع تھا جب مجھے غصہ آنے کے ساتھ پولیس اسٹیشن دیکھ کر حوصلہ بھی ہوا۔۔۔۔ھمیں ٹریننگ کے بعد چالان بکس بھی دی گئی تھیں۔۔میں نے اس سے کاغذات دکھانے کو کہا۔۔۔اور اس کی رجسڑیشن بک لے کر چالان کر دیا۔
رجسڑیشن بک اور چالان میں نے پولیس اسٹیشن کے محرر کے حوالے کی۔۔۔۔یہ میری زندگی کا پہلا اور آخری چالان تھا۔۔۔۔جس کا مجھے افسوس بھی تھا۔۔۔اور خوشی بھی کہ آئندہ یہ شخص کسی تنہا لڑکی کو دیکھ کر بدتمیزی کی کوشش نہیں کرے گا۔۔۔۔
مجھے اپنی خود اعتمادی پر حیرت بھی تھی اور فخر بھی۔۔۔۔مجھے اپنی بچپن کی کلاس فیلو صوفیہ کی بات یاد آئی جو لندن میں مقیم ھے۔۔۔۔جب اسے پتہ چلا کہ میں نے پولیس جوائن کی ھے۔۔۔اس نے مجھے فون کر کے کہا تھا۔۔۔”۔مجھے حیرت ھے تم تو اتنی نازک تھی کہ سکول میں سبق سناتے ھوئے ۔۔کتاب نہیں سنبھال سکتی تھی اور وہ گر جاتی تھی۔۔۔ان ھاتھوں میں پولیس کی لاٹھی کیسے پکڑتی ہو گی؟ “
                                                                                                       (جاری ہے)
نیلما ناھید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post