کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۷)

از: نیلماناھید درانی

بندیا کو حسن طارق کی فلم ” بیگم جان ” میں کام مل گیا ۔۔۔ وہ بہت خوش تھی۔۔۔۔ بڑی ادا سے کہتی اس فلم میں بیگم رانی ھیں اور جان ھم ھیں۔۔۔۔ بندیا بولتے ھوئے اپنے لیے میں کی بجائے ھم کا لفظ استعمال کرتی تھی۔۔۔۔ بیگم جان کی شوٹنگز شروع ھوئیں تو۔۔۔۔ بندیا نے ٹی وی کو خیرباد کہہ دیا۔۔۔۔
پی ٹی وی لاھور کے جنرل مینجر زمان خان۔۔۔بندیا کو بہت پسند کرتے تھے۔۔۔۔کیونکہ بندیا کی شکل و صورت ان کی سابقہ بیگم ریشماں سے ملتی تھی۔۔۔جو بنگلہ دیش میں فلموں کی ھیروئن تھیں۔۔۔۔
بندیا کے جانے کے بعد یاسمین خان نئی اناونسر آئیں۔۔۔۔یہ پہلے ٹی وی اور سٹیج کی اداکارہ رہ چکی تھیں۔۔۔اور کسی مجسٹریٹ کی بیگم تھیں۔۔۔۔کچھ دن بعد حمیرا رسول کی شادی ھوگئی وہ بھی چلی گئی۔۔۔اب ھم تین اناونسرز رہ گئیں۔۔شوکیہ۔۔یاسمین اور میں
پولیس لائن میں ھماری ٹریننگ جاری تھی۔۔۔پھر وہی معمول تھا ۔۔صبح سویرے پی ٹی ۔۔۔پریڈ۔۔۔سکول اور شام کو ہھر پریڈ۔۔۔۔ایس پی ھیڈکوارٹرز سعادت اللہ خان کا گھر۔۔پریڈ گراونڈ کے ساتھ ھی تھا۔۔۔۔وہ اور ان کی بیگم ڈاکٹر جمیلہ کبھی کبھی اپنے برآمدے میں کھڑے ھو کر ھماری پریڈ دیکھتے۔۔۔۔
پولیس میں آ کر ایک بات یہ پتہ چلی۔۔۔کہ کانسٹیبل سے لے کر سب انسپکٹر رینک کے ملازمین کو گھر جانے کی اجازت نہیں ھوتی۔۔۔۔یعنی بھرتی ھوتے ھی ان کو چوبیس گھنٹے پابند رھنا پڑتا ھے۔۔۔۔ لہذا جس نے گھر جانا ھو اس کو۔۔اپنے لیے ” شب باشی ” منظور کر وانی پڑتی ھے۔۔۔اور روزانہ گھر جاتے وقت روز نامچہ میں رپورٹ درج کرنی پڑتی ھے۔۔۔۔” من سب انسپکٹر۔۔۔۔۔برائے شب باشی خانہ خود روانہ ھوتاھوں یا ھوتی ھوں ”
یہ تحریر انگریز دور سے چلی آ رھی تھی۔۔۔جس کو بدلنے کی کسی نے ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔۔۔۔
اسی طرح صبح ڈیوٹی پر آ کر ۔۔۔روزنامچہ میں رپورٹ درج کرنی پڑتی ھے۔۔۔ کہ” من سب انسپکٹر۔۔۔۔۔ بعد گزارنے شب باشی ڈیوٹی پر حاضر آیا ھوں یا آئی ھوں “
میری ساتھی سب انسپکٹرز کو ” شب باشی ” کی درخواست لکھ کر منظور کروانی پڑی۔۔۔۔انسپکٹرز کو استثنا حاصل تھا۔۔۔۔
ٹریننگ مکمل ھونے پر امتحان ھوا۔۔۔جس میں میں نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔۔۔۔
سعادت اللہ خان کا تبادلہ ھو گیا۔۔۔ھم سب خواتین آفیسرز نے ان کو الوداعی پارٹی دینے کا انتظام کیا۔۔۔۔ پولیس لائن کے سکول میں۔۔۔یہ پارٹی تھی۔۔۔ جس میں اے ایس پی محمد وسیم اور اے ایس پی جاوید بھی شامل ھوئے۔۔۔۔ھم نے ایک شرارت کی۔۔۔ایک گڑیا اور ایک گڈا پیک کر کے۔۔۔۔سعادت اللہ خان کو ان میں سے ایک اٹھانے کا کہا۔۔۔۔انھوں نے جو پیکٹ اٹھایا۔۔۔اس میں گڑیا تھی۔۔۔۔اگلے روز ان کی بیٹی پنکی پیدا ھوئی۔۔۔۔
زمان علی خان کی بیگم رعنا سید کے ھاں بھی بیٹی پیدا ھوئی۔۔۔ میں ھاسپٹل میں اسے دیکھنے گئی تو زمان خان سے اپنے شوھر کی نوکری کے لئے کہا۔۔۔۔انھوں نے وعدہ کر لیا کہ۔۔۔جو میں کر سکتا ھوں وہ ضرور کروں گا۔۔۔۔چند دن بعد انھوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ۔۔
الیکشن ھو چکے تھے۔۔۔پنجاب اسمبلی میں حلف وفاداری کی تقریب ھونی تھی۔۔۔میری ڈیوٹی اسمبلی ھال کے اندر تھی۔۔۔۔میرے ساتھ سب انسپکٹر طاھرہ تھی۔۔۔جبکہ باقی تمام لیڈیز فورس کو سول لائن پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا تھا۔۔۔۔متحدہ محاز کا جلوس نکلا۔۔۔ جماعت اسلامی کے دفتر سے نوجوان لڑکے برقعے پہن کر ھاتھوں میں اینٹیں لے کر آئے۔۔۔۔پتھراو۔۔۔آنسو گیس لاٹھی چارج چیرنگ کراس پر ایک جنگ کا سماں تھا۔۔۔۔جو ھم نے اسمبلی ھال کی چھت پر جا کر دیکھا۔۔۔۔
شام کو پتہ چلا کچھ خواتین ملازمین زخمی بھی ھوئی ھیں۔۔۔ان سب کی انچارج انسپکٹر فرخندہ اقبال تھی۔۔۔۔۔
پولیس میں خواتین کی تعداد بہت کم تھی۔۔۔ میرے سمیت کل چار انسپکٹرز۔۔۔15 سب اسپکٹرز تھیں۔۔ کانسٹیبلز کی تعداد بھی بیت کم تھی۔۔۔لیکن جس دن لا ٹھی چارج ھوا ،اس دن چیرنگ کراس پر یونیفارم میں کافی خواتین موجود تھیں۔۔۔ایک ذرائع کے مطابق۔۔۔ پیپلز پارٹی کی ورکرز کو یونیفارم پہنا کر لایا گیا تھا۔۔۔۔۔
لیکن دوسرے روز اخبارات نے خبر لگائی کہ۔۔۔”پولیس نے نتھ فورس سے جلوس پر لاٹھی چارج کروایا ھے۔۔”
وہ خواتین دوبارہ کسی نے نہیں دیکھیں۔۔۔۔
اس دن کے بعد سب لوگ سول لائن میں ہی ڈیوٹی پر رھنے لگے۔۔۔۔ ھم ایس ایچ او کے کمرے میں بیٹھتے۔۔۔ وہ غصے میں آ کر جھانکتا اور واپس چلا جاتا ۔۔۔۔ فرخندہ اقبال کو ھم گانے کی فرمائش کرتے ۔۔۔۔۔وہ خوش ھو کر لتا اور مکیش کے گانے گاتی رھتی۔۔۔۔۔
(جاری ھے)
نیلما ناھید درانی

حسن طارق کی بیگم “رانی” اور جان ” بندیا ”

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post