کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۲۴)


از : نیلما ناہید درانی
مرغی کی اذان ۔۔۔۔۔ اور میں
اوول کے ہیرو فضل محمود کے لیے بھی میری آمد غیر متوقع تھی۔۔۔انھوں نے اپنے آفس سپرنٹنڈنٹ کو بلا کر کہا کہ مجھے میرا آفس دکھا دے۔۔۔
اپر مال کی ایک خوبصورت کوٹھی جو کسی پیپلز پارٹی کے لیڈر کی ملکیت تھی۔۔۔لے کر ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب کا دفتر بنایا گیا تھا۔۔۔گیٹ میں داخل ہو کر دائیں طرف لان اور سامنے گیراج تھا۔برامدے کے ساتھ والا ڈرایئنگ روم۔۔۔ڈی آئی جی کا دفتر تھا۔۔۔جس کے باھر ان کا ٹیلی فون آپریٹر بیٹھتا تھا۔۔۔۔درمیان میں راہداری تھی۔۔۔بائیں ہاتھ پر دو کمرے تھے جن کے ساتھ باتھ روم اٹیچ تھے۔۔۔شاید یہ بیڈ رومز ہوں گے۔۔۔پہلا کمرہ میرا دفتر تھا۔۔۔اور دوسرا کمرہ ڈی ایس پی ھیڈ کوارٹرز کا تھا۔۔۔
اس دفتر میں صرف تین آفیسر تھے۔۔۔باقی تمام کلیریکل سٹاف تھا۔۔۔
جن کے دفاتر بالائی منزل پر تھے۔۔۔
فضل محمود روزانہ صبح سات بجے آفس میں آجاتے۔۔۔۔اور اپنے کمرے سے ہر آنے والے کا ٹائم نوٹ کرتے۔۔۔۔چونکہ ان کا کمرہ فرنٹ پر تھا۔۔۔اور وہ ہر آنے جانے والے کو دیکھ سکتے تھے۔۔۔لہذا نہ تو کسی کا کوئی ملنے والا آتا اور نہ ہی کوئی کارکن دفتری اوقات میں باھر جا سکتا تھا۔۔۔۔ ملازمین کا کہنا تھا کہ اس دفتر میں پرندہ پر نہیں مار سکتا۔۔۔۔
دفتر کے سارے ملازمین ظہر اور عصر کی نماز ڈی آئی جی فضل محمود کی امامت میں پڑھتے۔۔۔۔مغرب سے کچھ پہلے وہ گھر تشریف لے جاتے تب ملازمین کو چھٹی ملتی۔۔۔
کئی ملازمین یہ بھی کہتے کہ فضل محمود نے تو بیوی کو طلاق دے رکھی ہے۔۔۔ان کا گھر جانے کو دل نہیں کرتا۔۔۔ھم تو بچوں والے ہیں۔۔۔
فضل محمود کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا تھا۔۔۔انھوں نے مجھے نصیحت کی کہ کبھی کسی ماتحت کے ساتھ چائے نہ پینا۔۔۔لہذا لنچ ٹائم میں ان کا اردلی مجھے بلانے آ جاتا۔۔۔۔
پھر وہ اسے مکئی کی چھلیاں اور چائے لانے کا کہتے۔۔۔
مکئی کے فوائد بتاتے اور یہ ھمارا لنچ ہوتا۔۔۔
کبھی کبھی وہ لہر میں آکر اپنے کرکٹ کے زمانے کے قصے سنانے لگتے۔۔۔کہ ایک میچ میں فلمی اداکارہ مالا سنہا نے ان سے تین وکٹ لینے کی فرمائش کی تھی۔۔۔۔تو انھوں نے ہیٹ ٹرک کرنے کے بعد مالا سنہا سے کہا تھا کہ اگر آج آپ چھ وکٹوں کی فرمائش کرتیں تو میں وہ بھی پوری کر دیتا۔۔۔۔
برطانیہ کی کوئین الزبتھ کی بہن شہزادی مارگریٹ ان پر عاشق تھی۔۔اور ان کے قدموں میں بیٹھی رہتی تھی۔۔۔۔
میں نے ان سے کہا میرے بچے چھوٹے ھیں اگر اجازت ھو تو میں دفتر ٹائم ختم ھونے پر گھر چلی جایا کروں۔۔۔یہ سن کر انھوں نے کہا۔۔” کوئی ماں فضل محمود جیسا بچہ پیدا نہیں کر سکتی۔۔”
بہر حال مجھے نماز عصر سے پہلے گھر جانے کی اجازت مل گئی۔۔۔مگر جونہی میں گھر جانے کے لیے تیار ہوتی۔۔۔ان کا اردلی پیغام لے کر آجاتا کہ ڈی آئی جی صاحب نے کہا ھے۔۔ان سے مل کر جائیں۔۔۔
اس وقت وہ نماز عصر پڑھا رھے ہوتے اور مجھے انتظار کرنا پڑتا۔۔۔۔
ایک روز ایک لڑکی کا فون آیا۔۔”۔کیا تم اب بھی اتنی خوبصورت ہو جتنی یونیورسٹی کے زمانے میں تھی۔۔۔”۔۔۔۔ میں حیرت میں گم تھی کہ اس نے قہقہہ لگا کر کہا غزالہ نثار بول رھی ہوں۔۔۔۔
میں نے اسے کہا ” مجھے تب کیوں نہیں بتایا کہ میں خوبصورت ھوں “
پھر ھم دیر تک طالب علمی کے دنوں کو یاد کرتے رہے۔۔
ایک روز اسلم ملک اپنی نئی نویلی دلہن مسرت کلانچوی کو ملانے آیا۔۔۔جو نہ صرف خوبصورت ، اور ذھین تھی بلکہ سرائیکی کی کہانی کار بھی تھی۔۔۔۔اس کی پہلی کتاب ” ڈکھن کنی دیاں والیاں ” مجھ سے پہلے میری امی نے پڑھ لی تھی۔۔۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب کا تعلق لاہور ٹریفک سے نہیں تھا لاھور ٹریفک اور دیگر اضلاع کی ٹریفک وھاں کے ڈی آئی جیز کے ماتحت تھی ۔۔۔ڈی آئی جی ٹریفک کے ماتحت پورے پنجاب کے ھائی ویز پر تعینات انسپکٹرز تھے۔۔۔اس محکمے میں کوئی ایس پی یا ایس ایس پی نہیں تھا۔۔۔۔
سارے پنجاب سے ھائی ویز پر ٹریفک کی صور ت حال کے متعلق ھفتہ وار، پندرہ روزہ، ماہانہ ڈائریاں موصول ھوتی تھیں۔۔۔جن کی رپورٹ بنا کر آئی جی پنجاب اور گورنمنٹ کو بھیجنی ہوتی تھی۔۔۔
چھ ماہ کے بعد پھر رپورٹ بنتی تھی۔اور سال کے آخر میں سالانہ رپورٹ بنانی ھوتی تھی۔۔۔
پنجاب بھر کی گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والا ادارہ بھی ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب کے ماتحت تھا۔۔۔وھاں کام کرنے والے کلرک MVO کہلاتے تھے۔۔۔جن کا گریڈ 11 تھا۔۔۔۔
آفس سپرنٹنڈنٹ نے میرے آنے کے بعد کا م کرنا چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔اس کا کام فائل تیار کر کے۔۔۔ڈی آئی جی کے احکام پر مجھ سے دستِخط کروانے ہوتے تھے۔۔۔مگر وہ میرے دفتر میں نہیں آتا تھا۔۔۔۔
فضل محمود اس کو بلا کر ڈانٹتے کہ کام کیوں نہیں کر رھے۔۔۔۔
ایک دن اس نے کہا۔۔۔” مرغی کی اذان جائز نہیں تو میں کسی عورت کو اپنا افسر کیسے مان لوں۔۔۔”
ڈی آئی جی صاحب نے اسے بہت برا بھلا کہا۔۔۔لیکن پھر بھی اس کا رویہ تبدیل نہ ہوا۔۔۔۔
آخر کار فضل محمود نے اس سے پوچھا تم کام کیوں نہیں کرتے۔۔۔اس بار اس نے کہا” میں بیمار ھوں “
اس پر انھوں نے کاغذ قلم اسے دے کر کہا۔۔ اس پر لکھ کر دو کہ تم بیمار ھو اور کام نہیں کر سکتے۔۔۔
اس نے لکھ دیا۔۔۔۔ڈی آئی جی صاحب نے اسی وقت اس کی بیماری کی وجہ سے ریٹائرمنٹ کا حکم جاری کردیا۔۔۔
اب دفتر کی ذمہ داری اظہر نامی ایک اسسٹنٹ نے سنبھال لی۔۔۔۔
فضل محمود نے کہا “آپ یہاں اکیلی ھیں اپنی کسی دوست کو بھی بلا لیں۔۔۔جس سے دفتر والے بھی خواتیں کے ساتھ کام کرنے کے عادی ھو جائیں گے۔”۔۔میں نے فرناز ملک اور شاھدہ بھٹی کا نام دیا۔۔۔
ان کی ٹرانسفر ٹریفک ھائی ویز میں ہو گئی۔۔اور وہ میرے دفتر میں میرے ساتھ بیٹھنے لگیں۔۔۔
ساری ڈائریاں۔۔۔اسسٹنٹ اظہر اکٹھی کرکے رپورٹ بنا کر ڈی آئی جی صاحب کو دکھانے لے جاتا۔۔۔۔اکثر ان کو پسند نہ آتیں۔۔۔۔وہ اپنے مطابق تبدیل کرواتے رھتے۔۔۔۔جب ان کے مزاج کے مطابق رپورٹ تیار ہو جاتی تو وہ میرے دستخط کے ساتھ ڈی آئی جی کے پاس جاتی۔۔۔جس پر کوورنگ لیٹر لگا کر آئی جی پنجاب کو بھیجا جاتا۔۔۔
فضل محمود کو بطور ڈی آئی جی ٹریفک کام کرتے پانچ برس ھو چکے تھے۔۔۔ان کا خیال تھا کہ وہ ریٹائر منٹ تک اسی پوسٹ پر رہیں گے۔۔۔
وہ باقاعدگی سے گورنر پنجاپ جنرل غلام جیلانی کے بچوں کو کرکٹ کھیلنا سکھاتے تھے۔۔۔۔
ان کی ساری زندگی بہت رنگین داستانوں سے بھری تھی۔۔۔۔خوبصورتی میں بھی کوئی ان کا ثانی نہیں تھا۔۔۔
مگر اب وہ بہت مذہبی ھو چکے تھے۔۔۔پانچ وقت نماز پڑھتے۔۔۔سادگی ایسی کہ دفتر میں اے سی نہیں چلاتے تھے۔۔۔کبھی کبھار گاڑی کی بجائے دفتر سے گھر تک سائیکل پر جاتے۔۔۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی وجہ سے پنجاب بھر کی ٹریفک کنٹرول ہے۔۔۔ھر سال پہلے سے کم حادثے ھوتے ھیں۔۔۔۔ھلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بھی کم ہے۔۔۔۔
میرے بعد جو بھی آئے گا۔۔۔تو سڑکوں پر حادثات بڑھ جائیں گے۔۔۔
اصل صورت حال یہ تھی۔۔۔کہ سڑکوں پر آبادی اور گاڑیوں کی تعداد زیادہ ھونے سے حادثات کی تعداد بڑھ رھی تھی۔۔۔لیکن وہ ھمیشہ اسے کم کر کے بتاتے تھے۔۔۔رپورٹس میں حادثوں، زخمیوں اور اموات کی تعداد کم لکھی جاتی۔۔۔۔
فرناز ملک اور شاھدہ بھٹی کو بھی لنچ بریک میں کبھی میرے ساتھ ھی بلا لیا جاتا۔۔۔اور ان کو بھی اپنے کرکٹ کے زمانے کے کارنامے سنائے جاتے۔۔۔۔لیکن ان کو جلدی جانے کی اجازت تھی۔۔۔۔کیونکہ ان کے ذمہ ٹریفک ٹریننگ سکول جا کر لکچر دینے کی ذمہ داری تھی۔۔۔
فضل محمود نے ایک اسلامی کتاب بھی لکھی۔۔۔جس کا نام ” تلاش حق ” تھا۔۔۔
اس سے پہلے مہاتما گاندھی کی سوانح عمری بھی ” تلاش حق ” کے نام سے اردو میں ترجمہ ھو چکی تھی۔۔۔۔
کبھی کبھی ایک سب انسپکٹر دفتر میں آتا۔۔۔وہ فضل محمود کا کار خاص تھا۔۔۔ان کے گھریلو کام بھی اس کے ذمہ تھے۔۔۔اس روز ہم لنچ میں مکئی کی چھلی کی بجائے۔۔۔انٹرنیشنل ھوٹل سے نان حلیم کھاتے۔۔۔۔لیکن یہ اس دوران دو یا تین بار ھی ہوا۔۔۔۔
اچانک ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب کی ٹرانسفر کا لیٹر آگیا۔۔۔۔فضل محمود ذھنی طور ہر اس کے لیے تیار نہیں تھے۔۔۔مگر تبادلہ ھو چکا تھا۔۔۔۔دراصل گورنر جیلانی بھی تبدیل ھو چکے تھے۔۔۔۔فضل محمود کو آئی جی آفس رپورٹ کرنے کا کہا گیا۔۔۔۔
وہ آئی جی آفس چلے گئے۔۔۔۔جہاں نا تو ان کی پوسٹنگ کی گئی نہ انھیں کوئی آفس دیا گیا اور نہ ہی انھیں گاڑی دی گئی۔۔۔۔
ان کی ریٹائرمنٹ کو دو سال کا عرصہ رہ گیا تھا۔۔۔۔ایسے میں ان کا تبادلہ ھونا اور پھر ساری سہولیات کا خاتمہ ایک عجیب بات تھی۔۔۔۔قومی ھیرو جو قوم کا ایک اثاثہ تھا۔۔۔آئی جی آفس میں۔۔۔۔منیر ڈار کے کمرے میں ایک کرسی ہر بیٹھے ھوتے۔۔۔اور آئی جی دفتر سے گڑھی شاھو تک باوردی سائیکل پر اپنے گھر جاتے۔۔۔۔
اپنی نوکری کے آخری ایام انھوں نے ایسے ہی گزارے۔۔۔۔مگر کسی کو اپنے حقوق کے لیے درخواست نہیں دی۔۔۔
                                                                                                 (جاری ہے)
نیلما ناھید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post