کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۱۵۔۱۶)


از: نیلما ناہید درانی
اعجاز الحق کی شادی۔۔۔ملتان کی گرد ،گرما ، گدا اور گورستان
اعجازالحق کی شادی جنرل رحیم الدین اور ثاقبہ رحیم الدین کی بیٹی سے ملتان میں ھو رہی تھی۔۔۔مجھے اور 3 سب انسپکٹرز کو ڈیوٹی کے لیے ملتان جانا تھا۔۔۔۔
ڈی ایس پی ھیڈ کوارٹرز خان نواب خٹک نے ہمیں کہا۔۔۔صدر پاکستان کی ریل کار ملتان جارھی ہے۔۔۔آپ لوگ اسی میں چلے جائیں۔۔۔
خان نواب خٹک پٹھان ھونے کی وجہ سے میری بہت عزت و احترام کرتے تھے۔۔۔
ھم ملتان پہنچے تو سلور سینڈ ھوٹل میں ھماری رھائش کا انتظام تھا۔۔۔میرے کمرے میں نصرت مہدی سب انسپکٹر میرے ساتھ تھی۔۔۔ اس کی کچھ ملنے والی خواتین ھوٹل میں آئیں تو انھوں نے مجھے دیکھ کر کہا۔۔۔”یہ وہ ھی اناونسر ھیں جن کی ناک اور دائیں گال کا ڈمپل ھمیں بہت پسند ہے”۔۔۔ جس پر نصرت مہدی نے کہا۔۔۔”ہمیں تو ان کی آنکھیں پسند ہیں “
شام کو ھم نے شادی کے پنڈال میں جانا تھا۔۔۔مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ ثاقبہ رحیم الدین کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔۔۔
ثاقبہ رحیم الدین کوئٹہ کی ادبی تنظیم قلم قبیلہ کی روح رواں تھیں۔۔اور ان کی ادبی خدمات کے ساتھ پرکشش شخصیت کے ہم مداح تھے۔۔۔
لیکن تقریب کے دوران جس حصے میں ھم تھے وھاں سے ان تک رسائی نہ ہو سکی۔۔۔اعجازالحق کی دلہن شکل و صورت میں اپنی والدہ کی طرح نہایت حسین تھی لیکن ان میں اپنی والدہ کی شخصیت جیسی کشش اور وقار نہیں تھا۔۔۔
دوسرے روز ہم نے شہر ملتان دیکھنے کا ارادہ کیا۔۔۔گرد و غبار سے اٹے شہر میں اپنی قدامت کا حسن تھا۔۔۔شاہ رکن عالم کے مزار کا فن تعمیر خوبصورتی میں اپنی مثال تھا۔۔ یہاں ہر مزار کے احاطے میں ھزاروں قبریں تھیں ۔۔۔گنبدوں کے اندر اور باھر قبروں کا ایک جہاں آباد تھا۔۔۔
  درانی خاندان کا شجرہ نسب احمد شاہ ابدالی سے شروع ھوتا ہے۔۔ان کی جائے پیدائش بھی ملتان میں ہی ہے۔۔۔۔
مشہور فارسی شاعر عراقی کا مدفن بھی یہاں ھے۔۔۔ان کے بارے میں ایک روایت ھے کہ وہ حجرہ نشین تھے۔۔۔بہت کم کسی سے ملتے۔۔۔زیادہ وقت عبادت اور ریاضت میں گزارتے۔۔۔ایکبار کچھ لوگوں نے ان پر طنز کیا۔۔۔کہ آپ خود کوگوشہ نشین کہتے ھیں۔۔۔۔جبکہ آپ کا کلام۔۔۔ملتان کی طوائفیں کوٹھوں پر گا رہی ہیں۔۔۔ اس پر انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور یہ شعر کہا۔۔
۔
چو خود کردند راز خویشتن فاش
عراقی را چرا بدنام کردند
مختلف گلی کوچوں سے گزرتے۔۔ملتانی کڑھائی کے ملبوسات۔۔۔اونٹ کی کھال سےبنی آرائشی اشیا کو سراھتے ھوئے ہم شاہ شمس تبریز کے مزار پر پہنچے۔۔۔۔
ان کے بارے میں بچپن سے کئی حکایات سن رکھی تھیں۔۔۔۔مولانا رومی۔۔۔والے شمس تبریز یہی ہیں یا نہیں۔۔۔اس کا ابھی تک جواب نہیں مل سکا۔۔۔
واپس چلے تو مزار کے صحن میں ایک کونے میں ایک ھٹا کٹا فقیر بیٹھا تھا۔۔۔اس نے مانگنے کے لیے صدا لگائی۔۔۔۔ھم نے اس کو نظر انداز کیا تو اس نے کہا۔۔”۔این ھمہ دشمنان حسین ھستند”( یہ سب امام حسین کی دشمن ھیں )
اس کا یہ جملہ سن کر ھم خوب ھنسے اور آگے بڑ ھ گئے۔۔۔ ایک مانگنے والا فقیر پیسے نہ ملنے پر ھمیں یہ سند دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
شہ زوری ۔۔۔کی شہ زوری نیلوفر عباسی
وہ مجھ سے ھوئے ہمکلام اللہ اللہ
کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ
آج صوفی غلام مصطفے تبسم کا یہ شعر یاد آ رھا ہے۔۔۔مجھےنیلوفر عباسی کا فون آیا۔۔۔۔ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔مگر ان کی مداحی میں چار دھائیاں گزر چکی ھے
۔۔۔پاکستان ٹیلی ویژن کے جن ڈراموں نے دھوم مچائی تھی۔۔۔ان میں ” شہ زوری” پہلے نمبر پرتھا۔۔۔اس کے بعد ” خدا کی بستی ” پھر ” کرن کہانی ” اور پھر کئی اور خوبصورت ڈرامے کراچی سنٹر سے پیش کیے گئے۔۔۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اولین دور میں کراچی مرکز ھی اچھے ڈراموں کا مرکز تھا تو بے جا نہ ہوگا۔۔۔۔لاہور سنٹر نے بہت بعد میں ڈراموں میں شہرت کمائی۔۔۔۔
” شہ زوری” میں شہ زوری کا کردار ایک نٹ کھٹ لڑکی جو حسن و جمال سے بھی مالا مال تھی نیلوفر علیم نے ادا کیا۔۔۔اتنی دھائیاں گزرنے کے بعد بھی وہ ڈرامہ دیکھنے والے نیلوفر علیم کی بے ساختہ اداکاری اور معصوم چہرہ نہیں بھلا سکے۔۔۔
نیلوفر علیم کی شادی ریڈیو پاکستان کے آفیسر شاعر ، ادیب ، ڈرامہ نویس اور کئی کتابوں کے مصنف قمر علی عباسی سے ہوئی۔۔۔تو وہ نیلوفر عباسی بن گئیں۔۔۔
پچھلے بیس برس سے امریکہ میں مقیم ہیں۔۔۔۔
ایک فنکار کا اپنے عروج کے زمانے میں یوں چھوڑ چھاڑ کر گمنامی کی زندگی اختیار کر لینا بڑی ہمت کا کام ہے۔۔
      اس زمانے میں جب ان کا عروج تھا۔۔۔پاکستان کا اکلوتا ٹی وی چینل پی ٹی وی ھی تھا۔۔۔۔اور ٹی وی بھی محلے کے کسی ایک گھر میں ہوتا تھا۔۔۔۔سارے محلے کے بچے، بڑے، عورتیں۔۔۔
ڈرامہ شروع ھونے سے پہلے اس گھر میں جمع ھو جاتے۔۔۔ان دنوں لوگ بھی فراخ دل ہوا کرتے تھے۔۔۔جن کے پاس ٹی وی ھوتا وہ اپنے گھر کے دروازے کھول کرآنے والوں کے بیٹھنے کا انتظام کرتے۔۔۔ گرمی کے دنوں میں گھر کے صحن میں ایک میز پر ٹی وی رکھ کر اس کے سامنے چارپائیاں بچھا لی جاتیں۔۔۔اگر لوگ زیادہ ھوجاتے تو بچوں کے لیے فرش پر چادر بچھا کر بیٹھنے کا انتظام کر دیا جاتا۔۔۔۔سب لوگ بےتابی سے پروگرام شروع ھونے کا انتظار کرتے۔۔۔لیکن مجال ہے کہ کوئی شور شرابا یا دھکم پیل ھوتی۔۔۔۔اس زمانے کے بچے بھی بہت سلجھے ھوئے ہوتے تھے۔۔۔۔کتابیں پڑھنا اور نانی دادی سے کہانیاں سننا ان کے مشاغل میں شامل ھوتا تھا۔۔۔۔پروگرام کو شروع سے آخر تک بڑی توجہ اور رغبت سے دیکھتے اور پھر جو لوگ کسی وجہ سے وہ قسط دیکھنے سے محروم رہ جاتے۔۔۔۔دوسرے روز ان کو پوری کہانی سناتے۔۔۔اسی دن سے اگلی قسط کا انتظار شروع ہوجاتا۔۔۔۔۔۔
بچوں کے لیے تو شہزوری کی نیلوفر علیم پریوں جیسی تھیں۔۔۔وہ سوتے جاگتے ان کو خوابوں میں دیکھتے۔۔۔اس زمانے کے نوجوانوں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی۔؟۔۔۔کیونکہ۔۔۔رابطے کے کوئی ذرائع ہی نہیں تھے۔۔۔کہ کوئی لاھور والا کراچی کی لڑکی کو ایس ایم ایس کرتا۔۔۔یا فیس بک پر فرینڈ ریکویسٹ بھیجتا۔۔۔ٹویٹر
پر ٹویٹ کرتا۔۔۔یا انسٹا گرام پر تصویر دیکھ کر دل پر کلک کرکے اپنی پسند کا اظہار کرتا۔۔۔۔
ان سب ایجادات سے پہلے زندگی میں نام کمانے والے واقعی مہان فنکار تھے۔۔۔جن کی پبلسٹی ان کا اپنا فن تھا۔۔ ان کی کارکردگی تھی۔۔۔ان کو اپنی شہرت کے لیے کسی مصنوعی سہارے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔
میری کٹھی میٹھی یادوں کی یہ قسط نیلوفر عباسی کے نام ہے۔۔۔۔جن سے ملاقات میرا ایک دیرینہ خواب ہے۔۔
                                                                                                  جاری ہے
نیلما ناھید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post