کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۱۰)


از: نیلما ناھید درانی
محمد نثار حسین ، پی ٹی وی کے نئے جنرل مینجر اور بی آئی ٹرنر ایس پی ایڈمن سے ملاقات
پی ٹی وی کی نشریات دوبارہ شروع ہوئیں۔۔۔احتجاج کرنے والوں کو نوکری سے بر طرف کر دیا گیا تھا۔۔ لاہور سنٹر کے نئے جنرل مینجر محمد نثار حسین آ گئے تھے۔۔۔پی ٹی وی کے اندرونی گیٹ پر ایک مشین نصب کر دی گئی تھی جو ڈیوٹی ہر آنے اور باھر جانے والوں کا وقت نوٹ کرنے کے لیے تھی۔۔۔سب ڈرے سہمے کارکن اب وقت کے پابند بھی ہو گئے تھے۔۔۔
ٹرانسمیشن کے لیے بھی نئے احکامات آئے۔۔۔تمام نیوز کاسٹرز اور اناونسرز کے لیے سر پر دوپٹہ اوڑھنا لازمی ہو گیا۔۔۔
رات کو دکھائی جانے والی انگریزی فلم بند کر دی گئی۔۔۔۔جس کی وجہ سے ٹرانسمیشن رات ایک بجے ختم ہوتی تھی اور ھم لوگوں کو گھر پہنچتے ھوئے رات کے دو بج جاتے۔۔۔جس دن میری ڈیوٹی ہوتی مجھے بہت مشکل ھوتی کیونکہ صبح پولیس کی ڈیوٹی پر بھی جانا پڑتا۔۔۔
اب ٹرانسمیشن رات کے دس بجے ختم ہونے لگیں۔۔۔۔جس سے مجھے بہت آسانی ہو گئی۔۔۔
پنجاب اسمبلی میں جنرل اقبال خان آ گئے ان کے ساتھ بریگیڈیر فیاض غنی اور پھر تمام عملہ فوج کا تعینات ھو گیا۔۔۔مجھے دو دن کے لیے وھاں بھیجا گیا۔۔۔میں ڈرتے ڈرتے ڈیوٹی پر رپورٹ کرنے کے لیے۔۔۔ایک کرنل صاحب کے کمرے میں داخل ھوئی۔۔۔ان کو سیلوٹ کیا۔۔۔تو انھوں نے سر جھکا کر کہا۔۔۔بہنیں بھائیوں کو سیلوٹ نہیں کیا کرتیں۔۔۔
ان کے حسن اخلاق نے میرا خوف دور کر دیا تھا۔۔۔۔لیکن پھر بھی میں وھاں رہنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔کیونکہ باھر سائلین کی قطاروں میں کھڑی خواتین کے دکھ سننا میرے بس میں نہیں تھا۔۔۔
میں پولیس لائن واپس آ گئی۔۔۔۔ فرخندہ اقبال اور عاصمی خان کو اسمبلی ہال کی ڈیوٹی پر بھیج دیا گیا۔۔۔
بہت سالوں بعد میری ایک مجسٹریٹ سے ملاقات ہوئی ان کا نام مصطفے تھا۔۔۔۔انھوں نے میرا نام سن کر کہا۔۔”میں آپ کو جانتا ہوں۔۔”
میں نے حیرت سے پوچھا۔۔۔” میں تو آج پہلی بار آپ سے ملی ہوں “
اس پر انھوں نے بتایا کہ میری پوسٹنگ اسمبلی ہال میں تھی۔۔۔دو خواتین پولیس آفیسرز آپ کے خلاف بریگیڈیئر فیاض غنی کے پاس پیش ھوئی تھیں کہ آپ سرکاری آفیسر ھو کر پی ٹی وی پر بھی کام کرتی ہیں۔۔۔اس پر قانونی رائے کے لیے بریگیڈیئر صاحب نے مجھے بلا کر پو چھا تھا۔۔۔۔میں نے ان کو جواب دیا کہ اگر ان کو محکمے کی طرف سے اجازت ہے تو کر سکتی ہیں۔۔۔۔تحقیق پر پتہ چلا کہ آپ کو آئی جی پنجاب کی طرف سے خصوصی اجازت ملی ھوئی ہے۔۔۔۔اس لیے یہ معاملہ آپ تک پہنچنے سے پہلے ھی ختم ھو گیا “
شکایت کرنے والی خواتین انسپکٹر فرخندہ اقبال اور سب انسپکٹر مقدس عاصمی خان تھیں۔۔۔۔
پولیس لائن سےمجھے کچھ دن کے لیے ایس پی ایڈمن کے ساتھ ڈیوٹی پر بھیجا گیا۔۔۔۔
ایس پی ایڈمن بی آئی ٹرنر تھے۔۔۔یہ انگریز تھے جنہوں نے واپس برطانیہ جانے کی بجائے پاکستان میں رہنا قبول کیا تھا۔۔۔ان کے سارے رشتہ دار بہن بھائی برطانیہ میں تھے۔۔۔۔۔۔وہ سول لائنز کے سرکاری گھروں میں سے ایک گھر میں رھتے تھے۔۔۔شادی نہیں کی تھی۔۔۔والدہ ساتھ تھیں۔۔۔بیٹے کو چھوڑ کر نہیں گئی تھیں۔۔سب پولیس والے ان کو مدر کہتے تھے۔۔۔وہ لمبا فراک پہنے سول لائن کے احاطے میں اکثر دکھائی دیتیں۔۔اور سرکاری رھائش گاھوں میں رہنے والے بچوں کو ادھر ادھر پھرنے سے منع کرتیں اور ڈانٹتی نظر آتیں۔۔۔۔
بی آئی ٹرنر کا دفتر ڈی آئئ جی لاھور کے دفتر کے ساتھ تھا۔۔۔۔ان کا عملہ بلا روک ٹوک کمرے کے اندر باھر پھر رھا تھا۔۔۔کمرے کے دروازے کھلے تھے ۔۔کوئی دربان نہیں تھا۔۔۔جو چاھے ان سے مل سکتا تھا۔۔۔اس کمرے میں ایک طرف انسپکٹر این اے شاہ کی میز کرسی تھی۔۔۔وہ حج پر گئی تھیں ۔۔۔مجھے ان کی جگہ کام کرنا تھا۔۔۔۔دن بھر مختلف علاقوں سے رپورٹس آتی تھیں جن کو مرتب کر کے آفیسرز کو بھجوانا ھوتا تھا۔۔۔یہ رپورٹس شہر کے امن و امان کے بارے میں ھوتیں۔۔۔۔میرے لیے یہ سب نیا تھا۔۔۔میں نے چار بجے ٹی وی پر بھی جانا ھوتا تھا۔۔۔مجھے ٹی وی کی گاڑی لینے آجاتی۔۔۔
بی آئی ٹرنر ایک اھلکار کو کہتے کہ ان کو رپورٹس پڑھ کر سنائے۔۔۔۔اپنا ٹائپ رائٹر منگواتے اور خود ٹائپ کر لیتے۔۔۔۔انھوں نے کبھی مجھے رک کر کام مکمل کرنے کا نہیں کہا۔۔۔
دو پہر کو کھانے کے وقت کبھی کبھار میں بھاٹی چوک سے اپنی پسندیدہ نان حلیم منگواتی۔۔ اور ان کو بھی کھانے کی دعوت دیتی۔۔۔۔کھانا کھاتے ہوئے پہلے ان کے کان سرخ ہوتے۔۔۔پھر گال لال ھوتے اور آنکھوں سے پانی بہنے لگتا۔۔۔اتنی مرچوں کے باوجود وہ چپ چاپ کھانا کھاتے رہتے۔۔۔۔
ایک دن انھوں نے بتایا کہ وہ کچھ دن کی چھٹی جا رہے ہیں۔۔۔ان کی جگہ میجر ضیا الحسن کام کریں گے۔۔۔مجھے پیشی والا واقعہ یاد آگیا۔۔۔میں نے بی آئی ٹرنر سے کہا مجھے بھی دس دن کی چھٹی دے دیں۔۔۔جو انھوں نے منظور کر دی۔۔۔اور میں گھر آگئی۔۔۔
پولیس لائن میں نئے ایس پی آچکے تھے۔۔قریشی صاحب۔۔۔ان کی ایک بیٹی اے ایس ایف ائرپورٹ سیکیورٹی فورس میں کام کرتی تھی۔۔۔قریشی صاحب ہم سب سے اپنی بیٹیوں جیسا برتاو کرتے تھے۔۔۔ہم بغیر کسی پروٹوکول کے ان سے مل سکتے تھے۔۔۔۔
منصورہ سب انسپکٹر چھٹی لے کر گھر گئی۔۔۔تو اس کا باپ اور بھائی اسے ملنے آئے۔۔۔۔لیکن وہ ھاسٹل میں نہیں تھی۔۔۔۔
انھوں نے ایس پی ھیڈ کوارٹرز کو بہت برس بھلا کہا۔۔۔کہ ھم نے اپنی بیٹی کو نوکری کے لیے بھیجا تھا۔۔ آپ نے کہاں غائب کر دیا ہے۔۔۔
قریشی صاحب بہت غصے میں تھے۔۔کہ منصورہ ان سے چھٹی منظور کروا کر گھر گئی تھی ۔۔۔مگر گھر نہیں پہنچی تھی۔۔۔
کچھ دن بعد منصورہ پولیس لائن آ گئی۔۔ اس کو خبر نہیں تھی کہ اس کس بھائی اور والد اس کی غیر موجودگی میں آئے تھے۔۔۔۔جب اس کو بتایا گیا تو اس نے بتایا۔۔۔۔کہ وہ اپنے گھر جانے کی بجائے ملتان اپنی تائی کے گھر گئی تھی۔۔۔اور اس نے اپنے تایا زاد سے شادی کر لی ہے۔۔۔۔
قریشی صاحب منصورہ سے بہت ناراض تھے۔۔۔ان کا غصہ ٹھنڈا کرنے میں، نزھت،اور باجی زینب ان کے آفس گئے۔۔۔اور ان کو طرح طرح کی مثالیں اور واسطے دے کر قائل کیا کہ وہ منصورہ کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیں۔۔۔
وہ ھمارے دلائل سے راضی ہو گئے۔۔۔ھم نے منصورہ کے لیے پارٹی کا انتظام کیا جس میں ایس پی صاحب کو بھی بلایا۔۔۔اور سب نے مل کر منصورہ کو شادی کی مبارکباد اور تحائف دیے۔۔۔۔
                                                                                                       (جاری ہے )
نیلما ناھید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post