ایک تھی بستی کالاباغ (1)


از : حمید قیصر

           الف لیلوی قصبہ کالاباغ میری جنم بھومی ہے۔ تحیرکدہ کالاباغ کا مجھ پر قرض ہے کہ میں اس قصبے کی بھرپور رونمائی کروں۔ اس کیلئے میں نے 2011ء میں کالاباغ کے ثقافتی، سماجی، تاریخی اور سیاسی پس منظر میں ناول لکھنے کا تہیہ کیا تھا۔ ناول کا نام “ایک تھی بستی کالاباغ” میرے محسن جناب افتخار عارف نےتجویز کیاہے۔جس کیلئے میں تہہ دل سے انکا ممنون ہوں۔بہت تحقیق اور تلاش و جستجو کے بعد اب ناول کا آغاز ہونے جارہا ہے۔ جس کیلئے اللہ کابہت شکرگزار ہوں جس نے مجھے یہ صلاحیت بخشی۔ ناول کی پہلی قسط پیش خدمت ہے۔ یہ تخلیقی و تحقیقی کام جوں جوں آگے بڑھے گا۔ آپکے سامنے پیش کیا جاتا رہے گا۔اس کےساتھ ساتھ مجھےآپکی راہ نمائی کی بھی ضرورت رہے گی کہ آپ ہی میرے بہترین نقاد ہیں ۔۔۔

ایک تھی بستی کالاباغ (1)
وقت اور دریا کی اپنی اپنی روانی ہے۔ دونوں کسی کا انتظار نہیں کرتے، نہیں رکتے بلکہ قرنوں سے محو سفر ہیں۔اپنے منبع و ماخذ ،سطح سمندر سے پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر بہنے والی جھیل من سرور کے ٹھنڈے میٹھے پانیوں سے بچھڑ کر نشیب کی طرف بہنا سندھو کی مجبوری ہے ،سو بہہ رہا ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے وقت کا دھارا ازل سے بہے چلا جارہا ہے۔ ویسے ہی بائیں جانب صبح کے سورج کی اولین کرنوں میں چمکتا دریائے سندھ بھی صدیوں سے بنا کچھ کہے اور بنا کچھ سنے چپ چاپ بس بہے چلا جاتا ہے۔دریا کایخ بستہ پانی طویل سفر کرکے، سنگلاخ چٹانوں سے سر ٹکراتا ، راستے میں آنے والی ہر شے کو بہاتا، جھومتا جامتا سلسلہ کوہ کے آخری تنگنائے سے نکل کر پرسکون ہو جاتا ہے۔ جہاں دائیں بائیں چوکیدار کی مانند ایسادہ دو قدیم آبادیاں پرانی ماڑی اور وانڈہ ککڑانوالہ سندھو کا مسکرا کے استقبال کرتی ہیں۔ یہیں بلندتر کوہ سلاگر سے پہلی بار اسکا سامنا ہوتا ہے۔اسی تاریخی مقام پرآکردریااور وقت اپنی تھکن اتارتے ہیں۔ یہاں سے دریا کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسے آگے کہیں نہیں جانا۔یہاں پہنچ کر دریا اور وقت کو اپنی وسعت اور اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔دریا کا پاٹ پھیل کر بہت چوڑا ہوجاتا ہے اور وقت جیسے ٹھہر سا جاتا ہے کہ پہلی بار انکا سامنا ایک قدیم الف لیلوی بستی کالاباغ سے ہوتا ہے۔جسکی فضا میں گلاب، موتیئے اور چمبیلی کی بو باس رچی بسی ہے۔ جسکے سبز باغ اتنے گھنے ہیں کہ دن کو بھی دور سے کالے نظر آتے ہیں۔ جہاں وقت کے ساتھ جنم لینے والی خوں آشام داستانیں، بلندی پر نظر آتے اوپر نیچے بنے گھروں میں کہیں گم، اندھیری اور تنگ گلیوں کی طرح کسی کو نظر نہیں آتیں مگر جنکے نقش اتنے گہرے ہیں کہ وہ کالاباغ کے بغوچیوں کے سینے اورسلاگر کی کوہان پر جماندو کی طرح ثبت ہیں۔ یہ بستی حملہ آوروں نے جانے کتنی بار اجاڑی اور یہاں کے باسیوں کے پرکھوں نے خون دل دے کے،جانے کتنی بار اس بستی کے رخ برگ گلاب کو نکھارا ہو گا؟ کوئی نہیں جانتا مگر یہ دریا صدیوں سے وقت کی طغیانیوں پر جنم لینے والی داستانوں کا خاموش گواہ ہے۔ کوہ سلاگر آج بھی اپنے دامن میں نمک کا خزانہ اور ہندو راجہ سلاگر کی یاد کو سمیٹے خاموش کھڑاہے۔ دریا کے اس پار پرانی ماڑی کی پہاڑی پر قدیم ہندو قبائل کوروئوں او ر پانڈوئوں کےمندروں کےآثاراب بھی گزرے وقتوں میں انسان کے ہاتھوں انسان کی جان کنی کے لمحات کی کیفیات بتلاتے نظر آتے ہیں۔
یہ 1960ء کا دہے کا اگست ہے اور پاک وطن کی آزاد فضائوں میں پرندے ہوا کے دوش پر آزادی کے نغمے گنگناتے اڑتے پھرتے ہیں۔چھوئی کے قبرستان سے گلی موتی مسجد میں اترتے راستے کے موڑ کے پہلے گھرکی وسیع و عریض چھت پر بچھی چارپائیوں پر سونے والے بیدار ہوکر جاچکے ہیں مگر چارپائیوں پر تکیئے اور چادریں اب تک موجود ہیں۔درمیان کی ایک چارپائی کےساتھ بندھی کپڑے کی گنگھوٹی میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہلکا سا ارتعاش اور کھسماہٹ جاگتی ہے۔اسکے ساتھ ہی چارپائی کے پائے سےبندھا معصوم سا پلا آنکھیں کھول کر فاصلے سے گنگھوٹی میں، ساتھی معصوم بچے کا احساس کرکے پھر سے آنکھیں موند لیتا ہے۔ صبح کاسورج سست روی کا شکار ابھی تک مشرقی پہاڑیوں سے سر نکالے سوتی جاگتی بستی کو دیکھ رہا ہے۔ جنوبی سمت بالکل سامنے دریا یوں جیسے لیٹا ہو، بہے چلا جا رہا ہے۔ دریا کے کنارے دھرم شالہ سے مسجد عید گاہ تک پھیلے بزرگ برگد نے ،حافظ خدا بخش سے درس قرآن لینے والے جن زادوں کووقت سحرسے بہت پہلے اپنے دامن میں سمیٹ لیا تھا۔اب وہاں سےدرس قرآن لیتےبچوں کی مترنم صدائوں کی گونج ہوا کے دوش پر بستی میں چاروں اور پھیل کر خدائے بزرگ و برتر کی ربوبیت کا اقرار کررہی تھی۔ پیر و جواں دریا میں گم ہوتی مسجد کی سیڑھیوں پر صبح دم نہا کر تازہ دم ہورہے تھے۔دوسری جانب دھرم شالہ اور ہندو سیٹھ رام سرن کےبنگلے کےدرمیان لٹاڑاں والے پتن پر پھیلی ریت پرجوان جہان کشتی کےدائو پیچ آزمانے میں مگن تھے۔ عیدگاہ کے برابر دریا ہی کے کنارے عظیمو ملیار کے باغ میں چلتاجھلار فضا میں لمبے سروں کے راگ چھیڑ رہا ہے۔آم، شہ توت اور جامن کے پیڑوں میں پھدکتے رنگا رنگ پرندوں کے چہچہے اپنی الگ موسیقی الاپ رہے ہیں۔ سورج کچھ اور نمایاں ہو کر ایک سفید بدلی کی اوٹ لے لیتا ہے۔
ایسے میں گھر کی کھلی چھت پہ گھنگوٹی میں حرکت کو زباں مل جاتی ہے۔ میرے رونے کی آواز میں پلا اپنی معصوم غراہٹ بھی شامل کرنے لگا ہے۔ یوں جیسے ہوش سنبھالتے ہی گھر والوں نے مجھے چپ کرانے یا ڈرانے کی ڈیوٹی اسے سونپ دی ہو ۔چھت سے اترتی چوبی سیڑھیوں سےنیچے رسوئی سے پرچ پیالیوں کےٹکرانےکی آوازیں،دیسی گھی اورشکر بھری بھشلیوں کی اشتہا انگیز خوشبو ناشتے کی تیاری کی اطلاع دے رہی تھیں۔بچونگڑے کی بھوک، پائے سے بندھی پرانی لیر تڑانے میں بےبس نظر آتی تھی۔ وہ بار بار زبان سے ہونٹ چاٹتااور دودھ سےخالی تباخڑے کو پائوں مارکر احتجاج کناں تھا۔ میں جس ڈر سے پہلے پہل مانوس ہوا تھا وہ پلے کی معصوم غراہٹ تھی۔ جس نے مجھ سے رونے تک کی صلاحیت چھین لی تھی۔ گنگھوٹی میں چہار سو اندھیرا، گھٹن ،بھوک اور پیاس ناقابل برداشت ہو رہی تھی۔بس اک صدائے احتجاج تھی جسے نکلنے سے پہلے ہی دبوچ لیا جاتا تھا۔ میں صورتحال سمجھنے سے قاصر ہوں۔ہر احساس غیر مانوس اور نیا نیاسا ہے۔ میری آنکھیں کھلی ہیں مگر ہرطرف اندھیرا ہی اندھیرا چھایا ہے۔ مجھے اپنا آپ گھیلا گھیلا محسوس ہورہا ہے۔ مگر ہاتھ پائوں ٹانگوں کے ساتھ سیدھے چپکے ہیں۔ میں انہیں حرکت بھی نہیں دے سکتا۔خالی پیٹ میں شدید درد ہےاور اب میں کسی پلےولے کی پرواہ کیئے بغیرمسلسل روئے جارہا ہوں اور اپنے ہونے کا احساس دلا رہا ہوں مگر کوئی سنتا ہی نہیں۔ شاید رسوئی کی آوازیں اوپر کی ناتواں آواز پرحاوی ہیں،جونکل کر کھلی فضا میں تحلیل ہوجاتی ہے۔شاید بھوکے پیٹ لذیز ناشتے کی لذت بھی انسان سےکمزور آوازوں کوقبول کرنےکی صلاحیت چھین لیتی ہے۔ میں اپنے تئیں پوری مگر کمزور آواز سے رو رہا تھا کہ میری آواز کو کندھوڑی سے پرے بی بی ماسی کی پر زور آواز نے سہارا دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک انتہائی مانوس سراپے کی خوشبو نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔رس ہولے ہولےمیرے حلق میں ٹپکنے لگا۔آسودگی کا احساس مجھے اپنی جانی پہچانی دنیا میں واپس لے گیا۔
میں اس سے قبل احساسات و محسوسات کی دنیا سے دورکہیں رہتا تھا۔ معلوم نہیں پھر کیا ہوا کہ اچانک مجھے سوئیاں سی چبھنےلگیں اور سب کچھ بدل کر رہ گیا۔ مجھے ایک دم عجیب قسم کے درد نے آن دبوچا ۔ میں اس درد کے بارے میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتا تھا۔ درد کے مارے میرے منہ سے چیخیں نکل رہی تھیں۔ بس ایک جھلنگا سا جھول رہا تھا۔جب میں آنکھیں کھولتا تو جھولے کے ہلکوروں سے میرے اوپر تنی ہوئی چھت بھی ہلنے لگ جاتی تھی۔ میں چیختا تو بچونگڑا بھی غرانے لگ جاتا۔ میں اسکے ڈر سے چپ ہوجاتا۔ کبھی میرے منہ میں کوئی نرم سی چیز آتی تو اسے چوستے ہوئے مجھے بڑی فرحت محسوس ہوتی اور رو رو کر خشک ہوتا میرا حلق تر سا ہوجاتا۔ جس سے تھوڑی دیر کیلئے میرے پیٹ کا درد بھی ٹھیک ہوجاتا اور مجھے بہت راحت محسوس ہوتی۔ میں زیادہ تر تو تنہا ہی پڑا رہتا تھا۔ کبھی کبھی میرے آس پاس آوازوں کا شور بڑھ جاتا۔ کوئی ہنستا تو کوئی زور سے بولتا محسوس ہوتا۔ یہ سب کچھ میرے لئے بہت اجنبی سا تھا۔ البتہ ایک لمس ایسا تھا جو اگرچہ مجھے بہت دیر بعد محسوس ہوتا تھا مگرجب بھی ملتا تو اس لمس سے الگ ہونے کو جی نہ چاہتا۔ اس کیفیت میں میرے پیٹ کا درد بھی ختم ہو جاتا اور مجھے یوں لگتا جیسے میں درد بھرے احساسات سے نکل کر ،اپنی مانوس فضا میں واپس آ گیا ہوں۔ میرا جی چاہتا کہ میں اپنی اس مانوس سی جانی پہچانی دنیا سے درد بھری دنیا میں کبھی واپس نہ جائوں مگر نہ چاہنے کے باوجود بھدک کر میری آنکھ کھل جاتی ۔ شاید میں بے بس تھا۔ میرے آس پاس وہی تیز اور دھیمی آوازوں کا رقص شروع ہوجاتا۔ ہر آواز اور ہر احساس میرے لئے بالکل نیا تھا، بالکل میری سمجھ سے بالاتر۔ کبھی کبھی جب مجھے درد محسوس نہ ہورہا ہوتا تو میں آنکھیں کھولے چہروں کو تکتا اور ہاتھ پائوں چلانے لگتا۔ کچھ چہرے مجھے اپنے بالکل قریب تو کچھ مجھے اپنے سے دور محسوس ہوتے۔ کوئی مجھ سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگتا۔ کبھی کوئی ہاتھ میری طرف بڑھتا تو میں اسے پکڑنےکی کوشش کرتا۔کبھی کوئی بہت من موہنی، ننھی اور پیاری سی صورت میرا ہاتھ پکڑ لیتی اور کبھی میں اسکا ہاتھ پکڑ کر منہ میں لے جانے کی کوشش کرتا۔میرے لئے یہ سب نیا نیا تھااور دھیرے دھیرے یہ سب اچھا لگنے لگا تھا۔
پھر آہستہ آہستہ میں ان سب چیزوں سے مانوس ہونے لگا۔ سبھی چھوٹے بڑے چہرے مجھے اپنے اپنے سے لگنے لگے۔ ہولےہولے میں ذائقوں سے آشنا ہونے لگا۔جب کبھی میرے منہ میں کوئی کڑوی شے انڈیل دی جاتی تو میں پھر سے رونے لگ جاتا ،کہ مجھےاسکے علاوہ اور کچھ آتا ہی نہ تھا۔ میرے رونے سے سب پریشان ہوتےنظرآتے ہیں۔ جب ہر طرف آنکھیں چندھیا دینے والی روشنی پھیل جاتی ہے تو مجھے اس جھلنگے کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ نہیں معلوم وہ پلا کس لئے پالا گیا تھا مگر جسکے رونے سے میں ڈر کر سہم جاتا اور میری مردہ سی آواز حلق میں ہی دب کر رہ جاتی ۔ معلوم نہیں ایسا کب تک چلتا رہا اور جانے کب میرے رونے کو چپ سی لگ گئی اور کب میں بھی اپنے آس پاس رہنے والوں جیسا ہوگیا۔ تب مجھے بھی آہستہ آہستہ انکی ساری رمزیں سمجھ آنے لگ گئیں۔ میرے اندر پہلا احساس راحت بخشنے والے دنیا کے خوبصورت لمس کے لئے جاگا، جسے ماں کہتے ہیں۔جس نے مجھے پہلی بار میرا حمیدکوثر کہہ کر بلایا تھا۔مجھے لگا کہ دنیا کا سب سے پیارا رشتہ صرف ماں ہی ہے۔ باقی رشتے بہت بعد میں آتے ہیں۔ اسکی بڑی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ اباجی میرے بچپن سے حصول روزگار کیلئے دوبئی سدھار گئے تھے۔ ماں مجھے اباجی کے بارے میں بتایا کرتی تھیں کہ وہ دوسرے ملک گئے ہیں۔ جب چھ ماہ بعد آئیں گے تو میرے لئے کھلونے اور ٹافیاں لیکر آئیں گے۔بچپن میں جو مجھے سب سے زیادہ تنگ کیا کرتے تھے وہ بھائی جان عبدالمجید تھے۔ مجھ سے چھوٹی گول مٹول سی ایک بہن شمع تھی ۔جسے میں بات بے بات تنگ کرکے اپنے بدلے اتارا کرتا تھا۔ یہ تھی وہ کل کائنات جسے کنبہ کہتے ہیں۔ گھر جس میں، میں نے آنکھ کھولی وہ میرے دادا سردار محمد رمضان کی نشانی ہے ۔ جو کالاباغ کے محلہ پیر فضل حسین شاہ کی گلی موتی مسجد میں بہت اونچائی پر دائیں جانب واقع ہے۔ چڑھائی چڑھتے ہوئے اگر مزید اوپر جائیں تو چھوئی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ چھوئی مقامی زبان میں پہاڑی کو کہتے ہیں ۔ جس پر بستی کا قبرستان پھیلا ہوا ہے۔ اس پہاڑی کے فورا بعد ایک بڑی وسیع کھائی ہے۔ جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا تو ہم سب لڑکے بالے تیرتے اور چھلانگیں لگاتے تھے۔ چھوئی پر شمال کی جانب بڑھتے جائیں تو چپ فقیر کی زیارت پہنچ جاتے ہیں۔ چپ فقیر کے آس پاس کچی پکی ہزاروں قدیم قبریں نظر آتی ہیں ۔ میرے ننھیال اور ددھیال کا قبرستان بھی وہیں ہے۔
دس مرلے کے اس آبائی گھر کے گلی والے ایک کمرے میں ہم تینوں بہن بھائی ماں کے ساتھ رہتے تھے۔ دوسرے کونے پر میرے تایا یارمحمد اور انکا کنبہ مقیم تھا۔ درمیان میں ایک کمرہ تھا جسے میں نے جب سے دیکھا تھا، اس پر پرانے طرز کا وزنی آہنی تالا پڑا رہتا تھا۔ یوں جیسےاس کمرے پرکسی آسیب کا سایہ ہو۔ ایک دن ماں نے بتایا کہ یہ کمرہ میری پھوپھی کی ملکیت ہے جنکا ملتان میں بیاہ ہوگیا تھا ۔ پھوپھا فضل کریم کھاد فیکٹری ملتان میں ملازم تھے۔ میری پھوپھی کبھی سال میں ایک بار کالاباغ کا چکر لگاتیں تواس کمرے میں رکھے سازو سامان کو ہوا لگوانے کیلئے تالا کھولتی تھیں۔انہوں نے مزید بتایا تھاکہ میرے دادا جی کی دو شادیاں تھیں ۔ پہلی شادی میں انکے چار بیٹے تھے۔ جبکہ دوسری شادی سے میرے تایا، والد اور میری پھوپھی تھیں۔جبکہ انکے ایک سگے بھائی محمد قاسم وفات پاگئے تھے۔ گھر کا نقشہ کچھ یوں تھا کہ تینوں کمروں کے سامنے برآمدہ تھا۔ ہمارے کمرے کے سامنے برآمدے کے نصف سے سیڑھیاں گلی والے دروازے سے اوپر کو آتی تھیں اور انہی سیڑھیوں کے اوپر لکڑی کی سیڑھی چھت کو جاتی تھی۔ گھر کی چھت پر پہنچ کر اسکی وسعت کا اندازہ ہوتا تھا۔ ہر سال بارشوں کے بعد مٹی اور بھوسہ ملے گارے سے چھت کی لپائی کی جاتی تھی۔چھت کے چاروں اور لکڑی کا اونچا جنگلہ لگایا گیا تھا۔ چھوئی والی سمت میں گارے سے پتھروں کی چنائی سے مضبوط دیوار لپی ہوئی تھی۔ اسکی دوسری طرف ہمارے پڑوسی چاچا پیر بخش اور بی بی ماسی کا گھر تھا۔ جبکہ مشرق کی جانب چاچا عنائت اللہ ہمارے پڑوسی تھے اور درمیان میں پختہ اینٹوں کا محض چار فٹ اونچاجنگلہ تھا۔ جسے ضرورت کے وقت پھاند کر ہم انکے گھر بھی چلے جاتے تھے۔انکے گھر کا راستہ دوسری گلی سے نکلتا تھا۔ جس میں میرے کلاس فیلو خالد محمود طاہر کا گھر تھا۔ اسی گلی میں عارف اللہ کے بھائی مجید اللہ اور حمیداللہ کا گھر بھی واقع تھا۔ وہ دونوں میرے ہم عمر اور دوست تھے۔ جبکہ عارف اللہ حافظ خدابخش کے سینئر شاگردوں میں سے تھے جو ہم جیسوں پر کڑی نظر رکھنے پر مامور تھے۔
حافظ خدابخش ایک ایسے برگزیدہ انسان تھے جو خود تو مادر زاد نابینا تھے مگر انہوں نے قرآن پاک کے نور بصیرت سے ہزاروں آنکھوں کو بینا کردیا تھا۔کڑاکے کی سردیوں میں صبح چار بجے اُٹھ کر دریائے سندھ کے خون منجمد کر دینے والے یخ پانی سے وضو کرنا اور حفاظ کی منزل اور اسباق سننا،جو دوپہر کے کھانے اور قیلولے کے مختصر وقفے کے بعد مغرب کی اذان تک جاری رہتا۔ سنا تھا کہ جنات بھی اُن سے فیض حاصل کرتے تھے۔ پتا یوں چلا کہ ایک دفعہ حافظ صاحب مسجد کے صحن میں رات کو قرآن سُن رہے تھے۔ پیاس لگی تو قرآن پاک سنانے والے شاگرد کو پانی لانے کو کہا۔اُس نے پلک جھپکتے ہی دریا سے پانی کا پیالہ بھر کر پیش کر دیا ۔ دریا کو اترتی سیڑھیاں وہاں سے کم و بیش پچاس میٹر دور تھیں۔اُستاد محترم نے حیرانی سے پوچھا کہ اتنی جلدی پانی کیسے لائے؟ اس پر شاگرد نے اپنے جن ہونے کا اعتراف کیا ۔اسی طرح ایک مرتبہ رات کو مسجد کے صحن سے گزرتے ہوئے ایک سوئے ہوئے آدمی کی ٹانگوں سے ٹکرائے تو پوچھا کہ کون ہے؟ جواباً آواز قدرے دور سے آئی تو احساس ہوا کہ وہ تو جن تھا۔ حافظ صاحب ساری عمر مجرد رہے مگر انکی زندگی کا دامن سفید لٹھے کی طرح بے داغ رہا۔ وہ بلا کے خودار تھے ،زندگی بھرکسی سے سوال نہ کیا۔ کچھ احباب اور شاگرد ہدیہ کر دیتے تو بہ تکلف قبول کرلیتے ۔میرے اباجی، تایا، ماموں اور دیگر رشتہ داروں نے انہی سے قرآن پاک پڑھا۔ تیس پینتیس ہزار نفوس کی اس بستی میں شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے حافظ خدا بخش سے فیض نہ پایا ہو۔میرے اور مجید بھائی کے درمیان تین چار سال کا فرق تھا۔ ابا جی کے بیرون ملک جانے کے بعد ہم دونوں ہی گھر کے بڑے تھے۔اوائل عمری میں ہر کام اکٹھے ہی کیا کرتے تھے۔ ناشتے کے بعد صبح اسکول جانا، موتی مسجد کے کنوئیں سے پینے کیلئے ٹھنڈا پانی بھر کے لانا، دریا پہ صبح و شام نہانا اور حافظ خدابخش کے درس میں جانا۔ حافظ صاحب کی یاداشت کا یہ عالم تھا کہ اپنے تمام شاگردوں اور انکے والدین کو انکے نام سے جانتے اور پکارتے تھے۔ ہم دونوں بھائیوں کو وہ مجیدو اور حمیدو کے نام سے پکارتے تھے۔ ویسے بھی اس پکار کی ضرورت ہمیشہ غصے میں درپیش آیا کرتی تھی۔ وہ غصے کے بڑے کافر تھے۔ ذرا سی غلطی ہوئی نہیں اور انکی بید کی سوٹی لہرائی نہیں۔ مجید بھائی قدرے سینئر ہونے کےناتے بڑے لڑکوں میں بیٹھتے اور میں اپنے ہم عمر لڑکوں کی قطار میں درس لیا کرتا۔ بڑے لڑکوں کوحافظ صاحب خود پڑھایا کرتےتھے۔ جبکہ ہمیں حافظ خلیل الرحمن،حافظ غلام قاسم،حافظ عارف اللہ اور ان جیسے فارغ التحصیل حفاظ کرام درس دیا کرتے تھے۔ ہفتے میں ایک دن حافظ خدابخش ہر لڑکے سے الگ الگ ہفتے بھر کے اسباق سنتے تھے، جس میں تلفظ اور ادائیگی پر خصوصی توجہ دیاکرتےتھے۔ سبق سنانے والے کو دو فٹ دور بیٹھنےکا حکم تھا۔ تاکہ غلطی کی صورتمیں حافظ صاحب کا بید سیدھا کمر پر پڑے۔ ایک دن میں نے اپنے دوست ضمیر کو حافظ صاحب سے مار کھاتے جو دیکھا تومیری جان ہی نکل گئی۔ اس روز میں نے سوچا کہ اگر نابینا حافظ صاحب کی سوٹی میری آنکھ میں لگ گئی تو میں اس خوبصورت اور دلفریب دنیا کا نظارہ کیسے کر پائوں گا؟ ڈر سے تو میری ویسے ہی خاص دوستی تھی۔ تب سے حافظ صاحب کی سوٹی کا ڈر میرے اندر بیٹھ گیا۔ چنانچہ جس روز حافظ صاحب کےپڑھانے کا دن ہوتااس روز میں کوئی بہانہ کر دیتا۔ اگر بہانے کی گنجائش نہ ہوتی توگھر سےدرس کو جاتے ہوئے چھوئی کوجاتی کسی گلی میں غائب ہوجاتا۔ایسابہت عرصہ تک چلتا رہا۔ میں اور ضمیر اکٹھے غائب ہونے لگے۔ایسے ہی ایک روز میں اکیلا غائب ہوکر چپ فقیر کی زیارت کے آس پاس مٹر گشت کرتا پھرتا تھا۔ بھوک لگتی تو بیر اور پیلو توڑ کے کھا لیتا اور پیاس لگتی تو قبرستان کی سبیل سے پانی پی لیتا۔اس روز ضمیر مجھے چکما دے گیا تھا اور میں اکیلا ہی دھر لیا گیا تھا۔
حالت یہ تھی کہ سارا منظر ہی الٹا دکھ رہا تھا۔ میرا پورا جسم فضا میں معلق محسوس ہورہا تھا۔ ہر چیز حرکت میں تھی۔ جیسے کسی نے مجھے زبردستی پنگوڑے میں لٹا کر زور سےجھولا جھلا دیا ہو اور میرا وجود ہوامیں ہلکورے لےرہاہو۔ یکبارگی مجھےلگاجیسے کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ میں نے بار بار آنکھیں کھولیں اور بند کیں مگر یہ حقیقت تھی، ایک تلخ اور اٹل حقیقت! میرے دونوں بازو اور ٹانگیں، خانی، اکی، میرو اور احمد کے مضبوط ہاتھوں میں تھیں۔ میں کئی روز سے حافظ خدا بخش کے درس سے غائب تھا۔ وہاں سے حکم صادر ہو اتھا کہ حمیدی کو جہاں کہیں بھی ہو پکڑ کر لایا جائے اور مجیدی کو بھی بلا کے پوچھا جائے کہ یہ کہاں غائب رہتا ہے؟ مجید بھائی تب تلک ناظرہ قرآن ختم کرچکے تھے۔ حافظ صاحب کا چنگیزی حکم اور میری عمر سے دوگنی عمر کے لڑکوں کا میرے پیچھے آنا یوں تھا گویا ملک الموت کا آنا ۔ یہ چاروں مشٹنڈے اپنی کاوش میں کامیاب ہوچکے تھے ۔ میں قبرستان میں چپ فقیر کے پاس پانی کی سبیل کے پچھواڑے پیلو چنتے ہوئے دھر لیا گیا تھا۔غلیل میری شلوار کے نیفے میں پھنسی قمیض کے چاک سے جھانک رہی تھی۔
” بچو درس قرآن سے بھاگتے ہو، حافظ صاحب کو جانتے نہیں کیا۔۔۔؟”
”اماں تجھے بھیجتی ہیں کہ جا بیٹا پڑھ آ اور تو ہے کہ غلیل لئے چڑیاں شکار کرتا ہے۔۔؟”
”اب پتہ چلے گا تجھے شکار کیسے ہوتا ہے ؟ جب حافظ صاحب کا بید تیرے پیچھے پڑے گا۔۔”
” تو کیا سمجھتا تھا کہ ہم تجھے ڈھونڈ نہیں پائیں گے؟ کئی دنوں سے تیرے ورنٹ نکلے ہوئے ہیں۔۔”
” بڑا آیا تیس مار خاں کہیں کا ۔۔۔ساری رام کہانی بتا دی ہے تیرے ضمیر کے بچے نے۔۔”
یہ چاروں بدمعاش راستےمیں بھانت بھانت کی بولیاں بول کر لگے تھے میراخون جلانے۔ انکے اس نئے انکشاف سے میرا خون کھول اٹھا اور میرا جی چاہا کہ میں ابھی جاکر اس ضمیر کے بچے کا منہ نوچ لوں۔ اسے کچا چبھا ڈالوں مگر میں یہ دونوں کارنامے سرانجام نہیں دے سکتا تھا کہ فی الحال تو یہ جان ناتواں آہنی شکنجے میں بری طرح کسی ہوئی تھی۔ اب میں آنے والے قیامت خیز لمحوں کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہورہا تھا۔ ابھی مسجد عید گاہ کئی اترائیاں ، چڑھائیاں اور گلیوں کے فاصلے پر تھی۔ میں نے ایک بار پھر آنکھیں موند لیں۔ ان تلنگوں کی دھمکیوں کی بازگشت میں حافظ صاحب کا بید میری آنکھوں کے سامنے یوں لہرانے لگا ۔ جیسے بچپن میں جھلنگے میں لیٹے لیٹے نگاہوں کے عین سامنے کھلونا پرندے لہرایا کرتے تھے۔ تب تو روتے ہوئے جی بہل جاتا تھا مگر اب یہ حافظ خدا بخش کا مولابخش،اللہ کی پناہ، اب کیا ہوگا؟ آج یا تو میری آنکھ پھوٹے گی یا پھر سر پر گومڑ ابھرے گا اور کچھ نہیں تو پیٹھ پر بید سے لہرئیے تو ضرور چھپیں گے۔ ابھی انہی بھیانک خیالوں میں غلطاں، چار خون کے پیاسوں کے ہاتھوں میں میرا پھول ایسا جسم جھول رہا تھا کہ معا لوہے کا پہاڑ میری پسلیوں سے آ ٹکرایا۔ میری ارتھی مین بازار سے گزر رہی تھی کہ ان بدمعاشوں کی بے خبری کی وجہ سے عین دریا والی گلی کے بیچ کوئی سائیکل سوار بڑے زور سے مجھ سے آٹکرایا تھا۔ آٹھ سال کے بچے کی کتنی سی جان ہوگی؟ جسے ڈنڈا ڈولی کرکے ہاتھ پائوں جکڑے ہوئے ہوں، اس حادثے کے نتیجے میں اس پر کیا بیتی ہوگی؟۔ دھماکے سے قبل بس اتنا یادہے کہ میرے چاروں طرف سے سائیکل رکشے ریڑھے اور پیدل چلنے والوں کا تیزی سے بھاگتا ہوا اژدھام تھا اور میں جیسے دھیرے دھیرے اندھے کنویں میں گرتا چلا جارہا تھا۔
”ہائے اماں۔۔۔ میں مرگیا۔۔۔مجھے بچائو۔۔۔استادجی میں پھر کبھی نہیں بھاگوں گا۔۔۔ مجھے مت ماریں۔۔۔ہائے میری پسلیاں ٹوٹ گئیں۔۔۔ہائے۔۔ ہائے ۔۔میں مرگیا” میری فریادیں دور دور تک سنائی دینے لگیں۔۔
سول ہسپتال کے بیڈ پر میں آہستہ آہستہ ہوش میں آرہا تھا۔ ماں جی اور شمع بہن مجھے بمشکل سنبھال رہے تھے۔حافظ خدابخش کی چھڑی کااس قدر خوف کہ بےہوشی میں بھی اسی کی یاد نے ذہن کو جکڑ رکھا تھا۔ پوری طرح ہوش میں آنے پر پتہ چلا کہ جیسے ہی ان کمینوں کی نااہلی کی وجہ سے سائیکل والا مجھ سے ٹکرایا،ان چاروں نے اپنی جان بچانے کیلئے مجھے چھوڑ دیا۔ میرا سر بازار کے فرش سے ٹکرایا اور سائیکل اپنے سوار سمیت میری پسلیاں لتاڑتے ہوئے گزر گیا تھا۔ سر کے زخم سے بہت خون بہا اور دونوں طرف کی چار پسلیاں ٹوٹیں۔ ماں بیچاری میری حالت دیکھ کرحافظ صاحب اور ان چارخبیثوں کو لگی تھیں کوسنے اور وہ کر بھی کیا سکتی تھیں بیچاری؟
اس حادثے کی وجہ سےاگرچہ میں دو ماہ تک چارپائی پر رہا ۔تاہم حافظ صاحب کی سلطنت کی فصیلوں میں دراڑ سی پڑ گئی۔ میرا یہ حشر ان لچوں کی مستی سے ہوا تھا۔میری جان ناتواں کی اس عظیم قربانی سے آئندہ کسی ”باغی” بلکہ بقول بھائی خلیق الرحمن کے کسی ” کالا باغی” کویوں ڈنڈاڈولی کرکے اٹھانے کی روایت ترک کردی گئی تھی کہ اس میں کسی کی جان جانےکےامکانات روشن ہوگئےتھے۔ حافظ صاحب کے نابینا پن اور انکی چھڑی سے جانے کیوں میرے دل میں اپنی آنکھ چلے جانےکا ڈر بیٹھ گیا تھا؟۔ اسی ڈر کی بدولت میں انکے درس سے فرار ہوتا تھا۔ ماں جی کو پتہ تھا کہ میں دریا پرنہا کےسیدھا درس میں جائوں گا اور شام کو گھر واپس آئوں گا مگر اس واقعہ کےبعد نہ تو میں درس سے فرار ہوا اور نہ ہی مجھے کبھی حافظ صاحب نے سزادی۔ میں نے بھی انہی سے ناظرہ قرآن پڑھا۔ میرے دل سے آج بھی حافظ خدابخش مرحوم کیلئے دعا نکلتی ہے کہ جنہوں نے اس قدر درستی کے ساتھ قرآن مجید پڑھایا اور بہت سی سورتیں زبانی یاد کرائی تھیں .جو آج بھی زاد راہ کی طرح میرے ساتھ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔  جاری ہے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post