یہ وہی باغ ہے !!!


 شاعر: کبیراطہر
میرا بچپن لڑکپن، لڑکپن جوانی کا ہمشکل تھا
اور جوانی مری
رنگ۔آوارگی سے بھی آگے کے رنگوں کی تصویر تھی
میں جواں جب ہوا ایک باغ۔بدن کی
مہکتی بہار اپنے جوبن پہ تھی
جس کی مہکار میں سانس لینا تو کیا
ایسا میرے لیے سوچنا تک بھی ممکن نہ تھا
میں نے سن رکھا تھا
اس حسیں باغ میں بے بہا پھول ہیں
اور اس کے کسی پھول کا رنگ بھی
شہر کے باقی باغوں کے پھولوں سے ملتا نہیں
یہ وہی دور تھا
جب مجھے بے سروپا سفر کی صعوبت کا نشئہ تھا
اور زندگی میرے نزدیک اپنے تجسس کی تسکین کا نام تھی
دن نکلتا تو گھر سے نئے کھیل کی کھوج میں اس طرح میں نکلتا
کہ جیسے مجھے اب کبھی گھر پلٹنا نہیں
رات اور دن کی تفریق میری نگاہوں میں بے کار تھی
میں کتاب و قلم کی حراست سے مفرور ہوتا تو ہفتوں مہینوں تلک اپنے اسکول کے ہاتھ آتا نہ تھا
تاش کی گڈیوں سینما گھر کی سیٹوں سڑک چھاپ
یاروں کی صحبت کا رسیا تھا میں
مجھ کو اڑتے ہوئے رنگ بھاتے تھے
سو میں کبوتر اڑانے
پتنگوں کی ڈوروں کو ماجے لگانے میں مشہور تھا
اور پھر ایک دن
میری آنکھوں نے اس باغ کی اک جھلک دیکھ لی جس کی جانب مرے شوق کا کوئی بھی سلسلہ راہ پاتا نہ تھا
کیا عجب باغ تھا جس کے جادو بھرے حسن نے میرے خواب۔سفر کو نئی سمت دی
میں کتاب و قلم کی طرف ایسے راغب ہوا
جیسے ان سے مری دشمنی ہی نہ تھی
میں نے غزلیں کہیں میں نے نظمیں لکھیں میں نے وہ کچھ پڑھا اور ازبر کیا جس کو پڑھنے کا میرے لیے سوچنا تک بھی ممکن نہ تھا
کوئی پوچھے اگر باغ کا کیا بنا
سانس خوشبو بھرا لے کے کہتا ہوں میں
یہ وہی باغ ہے جس میں رہتا ہوں میں
کبیر اطہر

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post