Poetry نظم

کرب وبلا ۔۔۔ شاعر: یوسف خالد


یوسف خالد
ہزار موسم گزر گئے ہیں
ستم گروں کی جفا وہی ہے
ابھی بھی دھرتی سلگ رہی ہے
ابھی بھی آہ و بکا وہی ہے
ابھی بھی ہر سو ہے سوگواری
ابھی بھی ماتم بپا وہی ہے
ابھی بھی مظلوم جل رہے ہیں
ابھی بھی کرب و بلا وہی ہے
امامِ عالی مقام لیکن
کہیں کہیں جو دیے ہیں روشن
وفا شعاروں کے ان دیوں میں
تمہاری سیرت کی روشنی ہے

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی