غزل


شاعرہ : نیلم ملک
میری پلکوں سے جو پوروں پہ ﺍُٹھائے نیلم!!
کس سیہ بخت کے آنچل پہ سجائے نیلم!!
ﭨﯿﺲ ﺑﻦ ﮐﺮﺟﻮ ﺗﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍُﭨﻬﮯ ﯾﺎﺩ ﻣﺮﯼ
ﮨﺎﺗﮫ سینے پہ ﺩﻫﺮﮮ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﮨﺎﺋﮯ ﻧﯿﻠﻢ!!
ﺍﻭﺭﺳﺐ ﺭﻧﮓ ﺗﻮﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺭﮐﻬﮯ ﻣﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ
ﺍُﺱ سیہ ﭼﺸﻢ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﻬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﻧﯿﻠﻢ
کانچ کے ٹکڑوں کے اس رنگ محل میں صاحب!
ہو جو یک رنگی کا قائل، وہ ﺍُٹهائے نیلم
کیسے کیسے نہ یہاں جل کے نگیں راکھ ہوئے
عشق آتش سے خدا تجھ کو بچائے نیلم!!
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻬﯽ ﭼﯿﺰ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﻬﮑﺎﻧﮯ نہ لگی
لعل ﮔﺪﮌﯼ ﻣﯿﮟ ، ﺗﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ آئے ﻧﯿﻠﻢ
جوہری! ان کا کوئی مول لگے گا کہ نہیں!!
غم کا سم گهول کے اشکوں میں ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻧﯿﻠﻢ
بے محل بهی وہ مرا نام لیے جائے گا
تم کرو ذکرِ فرات اور وہ بہائے نیلم
عین ممکن ہے موافق ہو، میسر نہ رہے
یہ بهی ممکن ہے تجهے راس نہ آئے نیلم
اپنا مرجان تغافل میں گنوایا میں نے
میری انگوٹھی کی تقدیر پرائے نیل
یہ خراشیں کسی ہیرے سے پڑی ہیں اس پر
ورنہ پتهر سے کبهی زخم نہ کهائے نیلم
نیلم ملک (نیلی آنچ)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post