سرخ ہے ہرگوشہء کشمیرکس کے خون سے

ابن عظیم فاطمی
 

خطہ  کشمیر    میرا    ہے    جو    دعویدار    ہیں
ہر نفس    جور ستم    پر    ہر گھڑی تیار ہیں

ہم سے تو ایک لفظ بھی ہوتانہیں حق میں ادا
اور    کشمیری    مسلسل بر    سر    پیکار ہیں

کس کی شہ رگ ہے یہ وادی کون ہے اس پرنثار
کس سے کہیے جگ میں جن کے دوہرے معیارہیں

ماں بہن بیٹی  جواں بچے ستم کے ہیں شکار
اور دنیا کہہ رہی ہے ٹھیک یہ آزار ہیں

سرخ ہے ہر گوشہ کشمیر کس کے خون سے
اہل ایماں خواب غفلت میں ہیں کیا بیدار ہیں

یہ نہتے لوگ ہیں پر عزم کے زندہ نشاں
دوسری جانب ہزاروں اسلحہ بردار ہیں

ہم کو حیرت ہے کہ دنیا بولتی کچھ بھی نہیں
مانتا ہوں میر و جعفر جیسے ہم غدار ہیں

ان کو جینے کا نہیں کیوں کوئی حق پروردگار
خون سے رنگین کیوں سارے گل و گلزار ہیں

تیری دنیا بٹ گئی خود غرضیوں کی حرص میں
ورنہ کیا مشکل تھی کب سب راستے دشوار ہیں

آدمی روز ازل سے خواہشوں کا ہے غلام
یوں کہاں دنیا میں قائمم مصر کے بازار ہیں

  یا خدا میرے خدا عاجز یہ بندے ہیں عظیم
ان پہ کر نظر کرم یہ امتِ سرکار ہیں      

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post