اے شام گواہی دے


شاعر: امجد حسین امجد
بوسوں کی حلاوت سے جب ہونٹ سُلگتے ہوں
سانسوں کی تمازت سے جب چاند پگھلتے ہوں
اور ہاتھ کی دستک پر
جب بندِ قبا اُس کے، کھلنے کو مچلتے ہوں
عشق اور ہوس کے بیچ ، کچھ فرق نہیں رہتا
(کچھ فرق اگر ہے بھی، اس وقت نہیں رہتا)
جب جسم کریں باتیں ، دریابھی نہیں بہتا
میں جھوٹ نہیں کہتا
اے شام گواہی دے
(فشار)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post