ایک نئی بوطیقا

شاعرہ : نجمہ منصور

 سُنو!

تمہارے پھپھوند لگے جذبے

اب کسی کو متاثر نہیں کر سکتے

کیونکہ حروف تہجی سے لفظوں کی

ایک نئی بوطیقا لکھی جارہی ہے

جس میں

م سے محبت، دسے درد اور ج سے جُدائی نہیں

شاید ان لفظوں کو زنجیروں سے باندھ کر

کسی اندھے کنویں میں

پھینک دیا گیا ہے

لفظ بھی اب تو سازشیں کرنے لگے ہیں

محبت کو دیوار میں چُن کر

نفرتیں سینہ تان کر چلتی ہیں اور

دُکھ خوشیوں کو پتی پتی بکھیر کر کھلکھلاتے ہیں

اور تو اور

اب پرندے بھی آسمانوں پر نہیں اُڑتے کہ

کہیں کسی نامعلوم ڈرون کی زد میں آکر

زمیں بوس نہ ہوجائیں

تتلی کے پروں پر نیل پڑے ہوئے ہیںاور

بھونرے دندناتے پھرتے ہیں

مگر کوئی آسماں نہیں پھٹتا

اس لئے سُنو!

لفظوں کی نئی بوطیقا لکھی جا رہی ہے تو

اور کچھ نہیں تو تم

اپنی آدھی ادھوری نظمیں

اس میں پیش لفظ کے طور پر

شامل کردو

اس سے پہلے کہ وہ

کسی آتش دان کا ایندھن بنیں یا

کسی کوڑے دان سے اُن کے پرزے

ہوا کے ہاتھ لگ جائیں

اور ہوا انہیں ریل کی پٹڑی پر

پھینک آئے

اور اس سے بھی پہلے کہ نظمیں

خود کشی کرلیں اور

لفظوں کی نوحہ خوانی سے

دُعائیں رستہ بھول جائیں

یا پھر آو ایسا کریں کہ

لفظوں کی نئی بوطیقا میں

وہی پرانے لفظ ہی کاشت کریں

یعنی م سے محبت

د سے درد

اور ج سے جُدائی __!!!

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post