یہ کیسی صبح : نواز انبالوی

 

یہ کیسی صبح
نظارے کی روح میں
آبسی ہے
کہ صباحتیں بے ساختہ پھیلنے کو ہیں
دل کی گہرائیوں میں
ان پیچیدہ کھائیوں میں
کسی احساس کا ابھی جنم ہوا ہے
یہ پھولوں کے باغیچے کیسے ہیں؟
یہ طائروں کے گیت سہانے کیسے ہیں؟
یہ سبزے کی رنگین قطاریں کیسی ہیں؟
یہ جو چار سو کثرت سے
پھیلی ہوئی ہیں
یہ سورج اس قدر کیوں ڈگمگا رہا ہے؟
سوچ رہا ہوں
یہ حقیقت ہے یا خواب ہے کوئی
یا فصلِ بہاراں ہے جو
دل کی سرزمیں پر
بچھ سی گئ ہے
یہ جو کچھ بھی ہے
میں ان سب کا دائمی احساس چاہتا ہوں
میں آنکھ جھپکانا چاہوں اگر
تو جھپکا نہیں سکتا ہوں
یہ کیسی صبح نظارے کی روح میں
آبسی ہے

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post