مسدود راستے : محمدجاوید انور


محمدجاوید انور
اگر میں بوجھ بن جاوں
اگر تم لوٹنا چاہو
اشارے سے بتادینا
——-
یہ میں نے ہی کہا تھا
اور گھڑی وہ آن پہنچی ہے
مگر اب یہ کھلا ہے
لوٹنا آسان نہیں اتنا
اگرچہ لوٹنا تو ہے
مگر یہ جان لیوا ہے
اگرچہ بھولنا ہوگا
مگر یہ روح فرسا ہے
مگر سچ آن پہنچا ہے
حقیقت سامنے ہے بس
مگر ہونی تو ہوگی ہی
مگر سورج تو نکلے گا
اگرچہ جان جائے گی
اگرچہ روح تڑپے گی
مگر سب راستے مسدود ہیں
اور لوٹنا ہوگا
مگر جاناں
وہ میری نظم جو محفوظ رکھی ہے
نکالو اور اُسے دیکھو
—–تو آخر میں یہ لکھا تھا
کبھی جو یاد آوں تو —-
میں اپنی آخری خواہش بدلنے کا مکلّف ہوں
تمہیں آذاد کرتا ہوں
اور اس کا حق بھی دیتا ہوں
مجھے یکسر بھلا دینا
کبھی تم یاد مت کرنا
مجھے یکسر بھلا دینا !!

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post