محبت برد : ناٸلہ خاور


نائلہ خاور 
محبت برد ہونے سے
بہت ڈرتا رہا گو دل
مگر جو ہو کے رہنا ہو
اسی کو ٹالنا مشکل
فشارِ جاں فشانی میں
کہاں تو تھا کہاں میں تھی
حیاتِ لا مکانی میں
جہاں تو تھا وہاں میں تھی
نظر تھی مل گئی ہو گی
بیک ساعت دلوں میں اک
کلی سی کھل گئی ہو گی
مگر کیا ہے کہ قسمت پہ
کسی کا بس نہیں چلتا
وہی دوری پہ ہوتا ہے
جسے ہونا نہیں ہوتا
کہ جیسےپاٹ دریا کے
ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں
کبھی پر مل نہیں پاتے
مگر حد ہےوفا کی کہ
سدا اک ساتھ جیتے ہیں
سدا اک ساتھ مرتے ہیں
فنا جب آن پہنچے تو
کبھی نہ ساتھ چھوڑیں گے
فنا کے گھاٹ جانے کو
وہاں بھی ساتھ ہو لیں گے
محبت برد ہونے سے
بہت ڈرتا رہا یہ دل۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post