نظم

ذہن کا لمحاتی واہمہ : عادل وِرد

 

کچھ سکوں کے وزن سے بٹوہ اور بھی بھاری ہو جاتا ہے

کاغذ کے ٹکڑوں پر لکھی آدھی نظمیں

حساب کتاب کے کچھ مفروضے

پھٹی پرانی کچھ رسیدیں

پڑھنے والی چند کتابوں کی اک لسٹ

چھوٹے سائز کی فیملی فوٹو اور اک یاد

اپنے ہونے کے تصدیقی اک دو کارڈ

اب تک سب محفوظ ہی کیوں ہیں

بٹوے کے خفی خانے میں

ایک شرارت رکھ کر میں تو بھول گیا تھا

کہاں رکھی تھی!!!؟؟ _____ بھول گیا ہوں

اگلی بار مہینے کی پہلی تاریخ

شاید تھوڑا پہلے آئے

پہلے آ جانے سے شاید

اور ذرا سا زندہ رہ لوں

 

 

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی