اندھا شاعر اب دیکھنا چاہتا ہے : عادل وِرد

لازمی تو نہیں
سانحہ دیکھ کر اس پر نظمیں لکھوں
,دلخراشی,
مناظر کی بھرمار ہو
آنسوؤں سے بھری ایک تصویر ہو
خون ہو
شور
آزردگی
_____
نارسائی میں ڈوبا رہے یہ جہاں
رنگ بے رنگ ہوں
چاہے جیسا بھی ہو
کیوں ہمیشہ میں اوروں پہ نظمیں لکھوں
میں بھی موجود ہوں
تھک گیا ہوں مناظر کی افراط سے
اپنے دکھ سے بڑا کوئی موضوع نہیں
اک نئی نظم لکھنے کی مہلت تو دو,
دیکھنے دو مجھے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post