ارتکاز : انیس احمد


تمام مومی حروف ، سنگی مجسموں میں بدل گئے ہیں
عجیب موسم کہ جگنوئوں نے بھی
آتشی پیرہن کو اپنے بدن کا نغمہ قرار دے کر
حیات افروز ساعتوں کو
سپرد آتش کیا ہے ایسے
جو خاک_ انکار ، حالت_ انتشار میں تھی
اسے بھی اثبات کو نفی میں بدلنے کا اختیار تفویض کر دیا ہے
جو میں نے صدیوں کی التجائوں کے بعد حاصل کیا تھا
وہ ارتکاز تحلیل ہو گیا ہے
مرا بدن جو زمین بھی آسمان بھی تھا
نہ جانے کس نے ہے صور پھونکا
مرا بدن جو زمین بھی آسمان بھی تھا
خلا میں روئی کے گالے بن کر بکھر گیا ہے
زمین پر کاروبارحیات ویسے ہی چل رہا ہے
مجھے بہت فکر ہے کہ میرے تمام اعمال ناگ بن کر انیس احمد
مری اناؤں کو ڈس رہے ہیں

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post