نظم

آئینے سے پتا پوچھنے والے لوگ : ڈاکٹر اسحاق وردگ


سائنس و فلسفے کے لیے
ماضی "استعمال شدہ” وقت ہے
لیکن اہل دل کے لیے
یہ ایک جادو بھری روح ہے۔۔
جس کی زنبیل میں حیرت کی روشنی
ہمہ وقت مراقبے میں ہوتی ہے
ماضی
قدیم عمارتوں
شعروں،افسانوں اور صوفیانہ اقوال
کو اپنی روح کا لباس پہنا کر
وقت کے حصار کو توڑ دینے پر قادر ہے۔
ماضی تاریخ کے کوڑے دان کا نہیں
گل دان کا پھول ہے
جس کے عقیدت مندوں میں خزاں بھی شامل ہے
ماضی کی کیمسٹری ملاحظہ ہو
کہ وہ دل سے سوچنے والوں کو
اپنی موجودگی کے سگنل دیتا ہے
وہ گم شدہ منزلوں کے مسافروں
کی آخری پناہ گاہ ہے۔
ماضی کے جیب میں کھوٹے
سکے ہیں
جو ناسٹلجیا کے گاوءں کی دکانوں
پر ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں
ان دکانوں میں خواب کی تعبیر
کے نقشے آویزاں ہیں
مستقبل کے پلاٹ کچی مٹی
کی دیواروں پر
نقش ہیں
وہی دکانیں جن کے دروازے نہیں
کہ ان سے چوری ممکن نہیں
ماضی کے باب میں
سب دیانت دار ہوتے ہیں
ماضی کی روح کے پیکر
شہر کی قدیم گلیوں میں تلاشنے
چاہئیں
جہاں کے قدیمی مکیں
چار پیسے کمانے کے بعد
جدید بستیوں میں آباد ہو چکے ہیں
انہوں نے شناخت کے خدوخال بیچ کر
احساس کمتری کی الجھن کی
ڈور خرید لی ہے
اور اب اسے عمر بھر سلجھاتے
رہیں گے۔۔
وہ بھول چکے ہیں
کہ شہر کی قدیم گلیوں سے گزرتے ہوئے
بزرگ مکانات کی دیواریں
ماضی کا چہرہ ہیں
ان پر ویران طاقچے آنکھیں ہیں
چوب کاری کے فن کدے میں
جنم لینے والے دروازے
دل نواز بانہیں ہیں
جو ہر شام سورج کا
کھاتہ بند ہوتے ہی شہر کے ان
قدیم باسیوں کے انتظار
میں
کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں
جنہیں احساس کمتری کی
ڈور سلجھانے سے فرصت نہیں
اس لیے کہ تہذیب کی جڑوں سے کٹ جانے
والوں سے تہذیب کا پروردگار
زندگی کا ہنر چھین لیتا ہے
اور یوں ان کے شناختی کارڈ کے لفظوں
سے معنویت روٹھ جاتی ہے
اور پھر سورج کا کھاتہ بند ہونے کے لمحوں
میں وہ آئینے سے اپنا پتا پوچھتے ہیں
جو وقت کی مٹی میں
دفن ہو چکا ہے

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی