ریس کورس سے تانگے تک : مشتاق احمد یوسفی

مشتاق احمد یوسفی
مشتاق احمد یوسفی
اسکول ماسٹر کا خواب
جیسے جیسے بزنس میں منافع بڑھتا گیا، فٹن کی خواہش بھی شدید تر ہوتی گئی۔ بشارت مہینوں گھوڑے کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے گھوڑے کے بغیر انکے سارے کام بند ہیں۔ اور بادشاہ رچرڈ سوم کی طرح وہ ہر چیز گھوڑے کی خاطر تج دینے کے لئے تیار ہیں:
“A horse! a horse!my kingdom for a horse”
ان کے پڑوسی چودھری کرم الٰہی نے مشورہ دیا کہ ضلع سرگودھا کے پولیس اسٹڈ فارم سے رجوع کیجئے۔ ویاں پولیس کی نگرانی میں ‘تھارو بریڈ‘ اور اعلٰی ذات کے گھوڑوں سے افزائشِ نسل کروائی جاتی ہے۔ گھوڑے کا باپ خالص اور اصیل ہو تو بیٹا لامحالہ اسی پر پڑے گا۔ مثل ہے کہ باپ پرپُوت، پتا پر گھوڑا، بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا۔ مگر بشارت کہنے لگے کہ“ میرا دل نہیں ٹھکتا۔ بات یہ ہے کہ جس گھوڑے کی پیدائش میں پولیس کا حمل دخل ہو، وہ گھوڑا خالص ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ گھوڑا پولیس پر پڑے گا۔“
گھوڑے کے بارے میں یہ گفتگو سن کر پروفیسر قاضی عبد القدوس ایم اے-بی ٹی نے وہ مشہور شعر پڑھا اور حسبِ معمول بے محل پڑھا، جس میں دیدہ ور کی ولادت سے رونما ہونے والی پیچیدگیوں کے ڈر سے نرگس ہزاروں سال روتی ہے۔ مرزا کہتے ہیں کہ پروفیسر قاضی عبد القدوس اپنی دانست میں کوئی بہت ہی دانائی کی بات کہنے کے لئے اگر بیچ میں بولیں تو بیوقوف معلوم ہوتے ہیں۔ اگر نہ بولیں تو اپنے چہرے کے نارمل ایکسپریشن کے سبب اور زیادہ بیوقوف لگتے ہیں۔ گویا:
گویم مہمل وگرنہ گویم مہمل
پوفیسر مزکور کے نارمل ایکسپریشن سے مراد چہرے پر وہ رنگ ہیں جو اس وقت آتے اور جاتے ہیں جب کسی کی زپ اَدھ بیچ میں اٹک جاتی ہے۔
خدا خدا کر کے ایک گھوڑا پسند آیا جو ایک اسٹیل ری رولنگ مل کے سیٹھ کا تھا۔ تین چار دفعہ اسے دیکھنے گئے اور ہر دفعہ پہلے سے زیادہ مطمئن لوٹے۔ اس کا سفید رنگ ایسا بھایا کہ اٹھتے بیٹھتے اسی کے چرچے، اسی کے قصیدے۔ ہم نے ایک دفعہ پوچھا “پچ کلیان ہے؟“ حقارت آمیز انداز سے ہنسے۔ فرمایا “پچ کلیان تو بھینس بھی ہو سکتی ہے۔ فقط چہرہ اور ہاتھ پیرسفید ہونے سے گھوڑے کی دُم میں سُرخاب کا پر نہیں لگ جاتا۔ گھوڑا وہ جو آٹھوں گانٹھ کمیت ہو۔ چاروں ٹخنوں اور چاروں گھٹنوں کے جوڑ مضبوط ہونے چاہیئں۔ یہ بھاڑے کا ٹٹّو نہیں،ریس کا خاندانی گھوڑا ہے۔“ یہ گھوڑا ان کے اعصاب پر اس بُری طرح سوار تھا کہ اب اسے ان پر سے کوئی گھوڑی ہی اتار سکتی تھی۔ سیٹھ نے انھیں ایسوسی ایٹڈ پرنٹرز میں طبع شدہ کراچی ریس کلب کا وہ کتابچہ بھی دکھایا جو اس ریس سے متعلق تھا جس میں اس گھوڑے نے حصّہ لیا اور اوّل آیا تھا۔ اس میں اس کی تصویر اور تمام کوائف مع شجرہً نسب درج تھے۔ نام White Rose ولد Wild Oats ولد Old Devil۔ جب سے یہ اعلٰی نسل کا گھوڑا دیکھا، انھوں نے اپنے ذاتی بزرگوں پر فخر کرنا چھوڑ دیا۔ ان کے بیان کے مطابق اس کے دادا نے ممبئی میں تین ریسیں جیتیں۔ چوتھی میں دوڑتے ہوئے ہارٹ فیل ہو گیا۔ اس کی دادی بڑی نرچگ تھی۔ اپنے زمانے کے نامی گرامی ولایتی گھوڑوں سے اسکا تعلق رہ چکا تھا۔ اس کے دامنِ عصمت سے تمسّک و تمتّع کی بدولت چھ نرینہ اولادیں ھوئیں۔ ہر ایک اپنے متعلقہ باپ پڑی۔ سیٹھ سے پہلے وہائٹ روز ایک بگڑے ریئس کی ملکیت تھا جو باتھ آئی لینڈ میں ایک کوٹھی “ونڈر لینڈ“ نام کی اپنی اینگلوانڈین بیوی ایلس کے لئے بنوا رہا تھا۔ ری رولنگ مِل سے جو سَریا وہ خرید کر لے گیا تھا اس کی رقم کئی مہینے سے اس کے نام کھڑی تھی۔ ریس اور سٹے میں دِوالا نکلنے کے سبب ونڈرلینڈ ‌کی‌ تعمیر ‌رک ‌‌‌‌‌‌‌گئی اور‌‌‌‌ایلس ‌اسے ‌حیرت زدہ چھوڑ کر ملتان کے ایک زمیں دار کے ساتھ یورپ کی سیر کو چلی گئی۔ سیٹھ کو ایک دن جیسے ہی خبر ملی کہ ایک قرض خواہ اپنے واجبات کے عوض پلاٹ پر پڑی ہوئی سیمنٹ کی بوریاں اور سَریا اٹھوا کے لے گیا، اس نے اپنے منیجر کو پانچ لٹھ بند چوکیداروں کی نفری ساتھ لے کر باتھ آئی لینڈ بھیجا کہ بھاگتے بھوت کی جو چیز بھی ہاتھ لگے، کھسوٹ لائیں۔ لٰہذا وہ یہ گھوڑا اصطبل سے کھول لائے۔ وہیں ایک سیامی بلی نظر آگئی۔ سو اسے بھی بوری میں بھر کے لے آئے۔ گھوڑے کی ٹریجڈی کو پوری طرح ذہن نشین کرانے کے لئے بشارت نے ضمناً ہم سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ فرمایا “یہ گھوڑا تانگے میں جتنے کے لئے تھوڑا ھی پیدا ہوا تھا۔ سیٹھ نے بڑی زیادتی کی، مگر قسمت کی بات ہے۔ صاحب تین سال پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ آپ یوں بینک میں جوت دیے جائیں گے۔ کہاں ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی کرسی اور کہاں بینک کا چار فٹ اونچا اسٹول!“

You might also like
Loading...