کُچھ کھٹی میٹھی یادیں (۶)


از: نیلما ناھیددرانی
ساس نندوں کی گالیاں۔۔۔۔اورحِنا کی رخصتی
  پی ٹی وی سے واپسی پر جب گھر کے اندر داخل ہوتی تو نئے مسائل میرے انتظار میں ہوتے ۔چھ نندیں،ان کے شوھر،ساس اور ساس کی سات بہنیں اپنے اپنے راگ الاپنے لگتیں ۔کسی کو میرا برقعہ نہ پہننے پر اعتراض تھا اور کسی کو میرا سید نہ ہونے پر ۔دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے وہ گالی گلوچ سے بھی پرہیز نہیں کرتی تھیں ۔
جب میرے سسر نے میرے والد سے میرا رشتہ مانگا تھاتو انھوں نے کہا تھاکہ میرے پاس گھر ہے، جو میرے دو بیٹوں کا ہے ۔بیٹیوں کو میں جہیز کی صورت میں حصہ دے چکا ہوں۔ جب تک میرا بیٹا بر سر روزگار نہیں ہوتا، ان کا کھانا پینا بلکہ ہر خرچہ میرے ذمہ ہوگا۔
مگر ساس صاحبہ نے ایک ھفتہ بعد ہی کھانا دینا بند کر دیا تھا۔ان کی مشیران وہ چار شادی شدہ بیٹیاں تھیں جو اپنے شوہروں اور بچوں سمیت ماں باپ کے گھر میں رہتی تھیں۔ساری سکولوں میں پڑھاتی تھیں۔لہذا ان کے بچے نانی کی نگرانی میں رہتے۔
دو کنواریاں بھی استانیاں تھیں ۔ایک سب سے چھوٹی اور ایک عمر رسیدہ۔جس سے چھوٹی تین بہنوں کی شادیاں ھو چکی تھیں اور وہ گھر کے ایک کمرے میں اپنے جہیز کی چیزوں کے ساتھ رھتی تھی۔
ان سب کا نشانہ میں تھی۔سب مجھ سے بڑی تھیں کیونکہ میری شادی کے وقت میرے سسر ستر برس کے تھے اور میرے والد 45 برس کے۔میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی اور شوھر اپنے آٹھ بہن بھائیوں میں ساتویں نمبر پر۔اتنا زیادہ جنریشن گیپ اور معاشرت کا فرق۔ مجھے گویا دن رات میں کوئی لمحہ سکون کا میسر نہ تھا۔ میں نے اپنے سسر سے کہا۔کہ ان سب کے زمہ دار وہ ہیں کیونکہ وہ گھر کے سربراہ ھیں۔
جس پر انھوں نے کہا کہ ان سب کو آپکی نوکری پر اعتراض ہے ۔میں نے کہا۔۔۔میں اپنے ماں باپ کے گھر نوکری نہیں کرتی تھی۔۔۔۔اگر آپ میرا خرچہ دینے کا وعدہ کریں تو میں نوکری چھوڑ سکتی ہوں۔
اس پر وہ خاموش ہوگئے۔۔۔۔پھر ایک بے بس انسان کی طرح گویا ہوئے کہ تمہاری ساس کو میں نے 45 سال برداشت کیاہے،تم بھی برداشت کرو۔
کچھ دن بعد میری ساس اور نندوں نے میری تنخواہ لینے کا مطالبہ کر دیا۔۔۔۔۔جو میں پہلے ھی اپنے شوھر کے حوالے کر دیتی تھی۔۔۔۔جس پر میری دوست جو سب انسپکٹر بھی تھی مقدس عاصمی خان۔۔۔نے مجھے سمجھانے کی کوشش بھی کی۔۔۔کہ ایسی بےوقوفی نہ کرو۔۔۔لیکن میرا خیال تھا۔۔۔کہ اس طرح میرا شوھر احساس کمتری کا شکار نہیں ھوگا۔۔کہ اس کے پاس پیسے نہیں ھیں ا۔۔۔پھر گھر کا خرچ چلانے کے لیے میرے پاس تو وقت بھی نہیں ھوتا تھا۔۔۔۔
جب میرے سسرال والوں کو میری تنخواہ ملنے میں ناکامی ھوئی تو انھوں نے ایک اور حربہ سوچا۔۔۔۔۔
انھوں نے میرے سسر کو سکھایا کہ گھر کے سارے بل بیٹے سے وصول کرو۔۔۔۔جس کے جواب میں بیٹے نے باپ سے کہا۔۔۔کہ گھر میں جتنے خاندان رھتے ھیں سب پر بل برابر تقسیم کر دیا کریں۔۔۔۔میں اپنا حصہ دینے کو تیار ھوں۔۔۔۔اور پہلے بھی دے رھا ھوں۔۔۔۔
اس پر ساس نے کہا بیٹیاں اور داماد تو مہمان ھیں۔۔۔۔وہ تو نہیں دیں گے۔۔۔
اب بیٹے نے جواب دیا۔۔۔۔مہمان وہ ھوتے ھیں جو کبھی کبھار آئیں۔۔۔یہ تو مستقل یہاں رھتے ھیں۔۔۔۔
جس پر دو داماد جو سگے بھائی بھی تھے اور نہایت شرارتی ذھنیت کے مالک تھے۔۔۔۔انھوں نے سسر صاحب کو دھمکی دی کہ ھم آپکی بیٹیوں کو چھوڑ دیں گے۔۔اگر۔آپ نےاپنے بیٹے اور بہو کو گھرسے نہ نکالا ۔۔۔۔۔
اس پر سسر صاحب نے بیٹے کو گھر سے جانے کا کہا۔۔۔۔
اور ھم نے ایک بلڈنگ میں کرایہ پر ایک فلیٹ لے لیا۔۔۔۔
ایک دن میری پولیس کی ساتھی طاھرہ سب انسپکٹر نے خواھش ظاھر کی کہ وہ چاھتی ھے میں اس کی ساڑھی پہن کر اناونسمنٹ کروں۔۔۔
میں کسی دوسرے کی کوئی چیز استعمال نہیں کرتی۔۔۔میں نے کبھی اپنی سگی بہنوں کے بھی لباس یا جوتے یا زیورات استعمال نہیں کئے۔۔مجھے بچپن سے ھی یہ پسند نہیں تھا۔۔۔بلکہ اس سلسلے میں میرے تجربات اچھے نہیں تھے۔۔۔۔ھمیشہ نقصان ھی ھوا تھا۔۔۔
ایک بار سکول کے زمانے میں۔۔۔انارکلی ڈرامے میں۔۔۔دل آرام کا رول کرنے کے لیے میں نے اپنے محلے کی خاتون سے ساڑھی مستعار لی تھی۔۔۔وہ سکول میں چوری ھوگئی۔۔۔۔اور مجھے اپنے والدین سے ڈانٹ بھی پڑی اور میرے والد نے اس خاتوں کو ویسی ھی ساڑھی خرید کر بھی دی۔۔۔
میں طاھرہ کی ساڑھی نہئں پہننا چاھتی تھی۔۔۔لیکن اس کے اصرار پر انکار نہ کر سکی۔۔۔۔
اس روز اناونسمنٹ ختم ھوئی۔۔۔تو میرے شوھر مجھے لینے آ گئے۔۔۔جبکہ عام طور پر میں پی ٹی وی کی گاڑی پر گھر جایا کرتی تھی۔۔۔۔
فروری کی رات تھی۔۔۔میں نے ساڑھی کے اوپر شال اوڑھ رکھی تھی۔۔۔۔اچانک مجھے محسوس ھوا کہ ساڑھی کی فال میرے ھاتھ کی گرفت سے نکل گئی ھے۔۔۔میں نے اپنے شوھر سے موٹر سائیکل روکنے کا کہا۔۔۔لیکن اس نے روکنے کی بجائے پوچھنا شروع کر دیا۔۔۔۔کیوں روکوں ؟ کیا ھے ؟
سارھی موٹر سائیکل کے پچھلے پہیے میں لپٹ چکی تھی۔۔۔میں سڑک ہر گر گئی اور موٹر سایئکل رکنے تک سڑک پر گھسٹتی گئی۔۔۔
میں کافی زخمی ھو چکی تھی۔۔۔چہرے۔ بازووں ، ٹانگوں پر چوٹیں آئی تھیں۔۔۔۔ساڑھی بھی پھٹ چکی تھی۔۔۔۔جس کی قیمت بعد میں طاھرہ کو ادا کر دی۔۔۔
مجھے ڈاکٹر نے پندرہ دن کی بیڈ ریسٹ دی۔۔۔۔اور میں گھر رھنے لگی۔۔۔امی حنا کو لے کر میرے پاس آگئیں۔۔۔اور میں کچھ بہتر ھوئی تو وہ اپنے گھر چلی گئیں۔۔۔میں خوش تھی۔۔۔مجھے حنا کے ساتھ رھنے کا موقع ملا تھا۔۔۔وہ ھنستی۔۔۔تالیاں بجاتی۔۔۔اس نے بیٹھنا بھی شروع کر دیا تھا۔۔۔اب وہ چھ ماہ کی ھو چکی تھی۔۔۔۔میرا دن اس کے ساتھ کھیلتے گزرتا۔۔۔۔اس کی پہلی سردیاں تھیں۔۔۔فروری کے مہینے میں دن میں دھوپ ھوتئ۔۔۔میں نے اس کے سویٹر اتار دیے۔۔۔۔جس سے اس کو بخار ھو گیا۔۔۔ کسی نے ایک ڈاکٹر کا بتایا کہ وہ بچوں کا سپیشلسٹ ھے ۔۔۔۔ میں حنا کو لے کر اس کے پاس گئی اس نے فورا اس کو ٹھنڈے پانی سے نہلا دیا۔۔ اور کہا کہ۔۔۔اب اس کو کپڑے نہیں پہنانے۔۔بلکہ اسی طرح گھر لے جائیں۔۔۔۔رات کو حنا کو تیز بخار ھوگیا ۔۔۔سانس لینا بھی مشکل تھا۔۔
    ہم اس کو لے کر میو ہسپتال گئےجہاں انھوں نے اس کو چلڈرن وارڈ میں داخل کر لیا۔امی کو بھی وہاں بلا لیا۔اس روز پی ٹی وی پر فلمی اداکار شاھد کا انٹرویو ریکارڈ ہونا تھا۔کراچی سے پروڈیوسر شاہد کمال پاشا کا پروگرام تھا۔میرے شوہر نے اس کی معاونت کرنی تھی۔وہ شاہ نور سٹوڈیو چلے گئے۔شاہد کو وہاں سے لانے۔میں اور امی ہسپتال میں حنا کے ساتھ اکیلے تھے۔کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ایک لڑکا اور لڑکی جو شاید ہاوس جاب کر رہے تھےاور ان کا آپس میں افیئر تھا۔وہ ڈاکٹرز کے کمرے میں بیٹھے محو گفتگو تھےاور نرسوں کے بار بار کہنے پر بھی باھر نہیں آتے تھے،نہ تو آکسیجن کی سہولت تھی اور نہ ہی نیبولائز کرنے کا کوئی انتظام تھا۔میرے جسم میں ایکسیڈنٹ کی دردیں تھیں اور میں حنا کی حالت دیکھ کر تڑپ رہی تھی۔صبح ہونے والی تھی جب نرسوں کے کہنے پر ھاوس جاب والا جوڑا ہمارے پاس آیا۔انھوں نے مجھے برف لانے کا کہا۔میں وارڈ سے باھر نکلی۔۔۔۔آسمان نیلا تھا۔سورج ابھرنے کی تیاریوں میں تھا۔میں نے سوچا اتنی خوبصورت صبح ہے اورایسے میں کوئی دکھ والی خبر نہیں ہوسکتی۔ایک پان والی دکان سے برف لے کر وارڈ میں داخل ھوئی تو امی رو رہی تھیں۔
حنا۔۔جا چکی تھی۔۔۔۔
ہاسپٹل والوں نے پی ٹی وی اور پولیس لائن میں فون کر دیالیکن امی نے کہا گھر چلتے ہیں۔امی نے حنا کو گود میں اٹھا یااوررکشہ لے کر گھر پہنچے۔گھر پر میرا شوہر اور پروڈیوسر شاھد کمال پاشا گہری نیند سو رہے تھے۔۔۔۔۔
حنا کے لیے
میری ننھی گڑیاتونے
موت کا ذائقہ چکھا
اتنی تلخی کیسے جھیلی
کیسے منہ بند رکھا
اپنی نیلی آنکھیں کھولے
جب تو مجھ کو دیکھ رہی تھی
تیرے جیون کی نیا جب
موت بھنور میں ڈوب رہی تھی
ہر ہر لمحہ آگ بنا تھا
سانس بھی اس پل ناگ بنا تھا
تیری نبضیں ڈوب گئی تھیں
میری آنکھیں سوکھ گئی تھیں
اس لمحے احساس ہوا تھا
رونا کتنا مشکل ہے
جب اپنے مر جاتے ہیں تو
سونا کتنا مشکل ہے
نیلما ناھید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post