سلمیٰ کا خط ۔۔۔ بنام : اخترشیرانی


اخترشیرانی
آخر وہ آ گئے مجھے دینے تسلّیاں
آخر ہوا اُنہیں مرے صدمات کا یقین
دلنوازم فدایت شوم
نامۂ جان آفریں موصول ہوا اِس “غیرمتو قع” محبت اور لطف و کرم کا بہت بہت شکریہ مگر کیونکر یقین کروں کہ آپ کی “گلفشانیاں” حقیقت سے ہمدوش ہیں؟ کیسے باور کروں کہ آپ نے مکتوبِ محبت میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ “صداقت” پر مبنی ہے آہ! بھلا میں ناچیز اِس قابل کہاں؟ کہ ایک ایسے فردِ گرامی کی محبت کا فخر حاصل کر سکوں۔ جو بہ ہمہ صفت موصوف اور یکتائے زمانہ ہو؟ کاش کہ میں اِس لائق ہوتی! ہو سکتی! میں سمجھتی ہوں یہ میری انتہائی بدنصیبی ہے کہ آپ کو میری “بے پایاں” “لازوال” اور “بے لوث” محبت کا اب تک یقین نہیں ہوا، اور آپ اِسے تھیئٹر کی فریب آرایانہ اور محض ستم ظریفانہ مناظر سامانیوں پر محمول فرما رہے ہیں حالانکہ دو سال کی طویل اور روح فرسا مدّت سے غمہائے محبت سہتے سہتے میری یہ حالت ہو گئی ہے کہ
صورت میں خیال رہ گئی ہوں
خصوصاً ان دنوں تو دل و دماغ کی کچھ اِس درجہ زار حالت ہے کہ میں خود بھی اِس کا صحیح اندازہ نہیں کر سکتی ہر قسم کا ذوق و شوق مفقود اور خواب و خَور حرام ہو گیا۔
اکثر اوقات میں سوچنے کی کوشش کرتی ہوں کہ آخر یہ مدہوشی کب تک؟ کہاں تک؟ اور اِس کا نتیجہ کیا ہو گا؟مگر نہیں سوچ سکتی۔ سنبھلنے کی لاکھ کوشش کرتی ہوں مگر نہیں سنبھل سکتی۔ ہر دیکھنے والے کا میری طرف دیکھ کر سب سے پہلے سوال یہی ہوتا ہے کہ تمہاری یہ کیسی حالت ہو گئی ہے؟تم تو اَب پہچانی نہیں جاتیں؟؟جس کے جواب میں میرے پاس ایک افسردہ، ایک پژمردہ تبسّم کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ آپ سے اِس طرح “اظہارِ غم” کرتے ہوئے میرے جذباتِ حیا زخمی ہو جاتے ہیں آپ کو “دردِ دل کا چارہ ساز” سمجھتے ہوئے خاموش بھی نہیں رہا جاتا آہ!
زندگی کس کام کی جب ہو یہ حالِ زِندگی
ٹل بھی جائے اب کہیں سر سے وبالِ زندگی
جنابِ والا مہربانی فرما کر آپ اپنا یہ شعر واپس لے لیجئے کہ
تم ہو اب اور مدارات ہے بیگانوں کی
کون لیتا ہے خبر عشق کے دیوانوں کی
اِس لیے کہ اِس کے صحیح مخاطب آپ خود ہی ہیں ہاں ذرا گریبان میں منہ ڈال کر دیکھئے اور پھر کچھ فرمانے کی کوشش کیجئے۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں “چلی گئیں” کی سی درد انگیز نظم جو آپ کے جذباتِ محبت کی آئینہ دار تھی۔ بھول گئی ہوں؟ نہیں۔ اِس نظم کا ایک ایک شعر آتشیں حرفوں سے میری لوحِ دماغ پر نقش ہے۔ اب جو آپ نے “اُن سے” کے عنوان سے نظم لکھ بھیجی ہے میں کیسے نہ کہوں کہ اِس میں بھی اُسی “ہندو خاتون” کو مخاطب کیا گیا ہے افسوس:
لب پہ رہ جاتی ہے آ آ کے شکایت تیری
میرے خط نہ لکھنے کی یہ وجہ نہ تھی کہ میں خدانخواستہ کسی اور خیال میں محو تھی۔ بلکہ اِس کا باعث یہ تھا کہ میں آپ کی “نو عروسانہ خلوت و جلوت” میں مخل ہونا نہیں چاہتی تھی۔ نیز میرا خیال تھا کہ آپ میری مراسلت سے نہایت بیزار ہیں۔ ورنہ میری جو کیفیت رہی ہے اُسے یا تو خدا جانتا ہے۔ یا میں!
آپ نے شروع سے لے کر آخر تک کے واقعات معلوم کرنے کی خواہش ظاہر فرمائی ہے جس کے جواب میں فقط اتنا عرض کر سکتی ہوں کہ:
اپنے جلووں کا کیا تُو نے ہی میں خود شیفتہ
ہم ہوئے تھے مبتلائے عشق تیرے نام سے
میں آپ کے مضامین (نظم و نثر) کے مطالعہ سے آپ کی “نا دیدہ تمنّائی” ہو گئی اور پھر اس کے بعد عالمِ وارفتگی میں، جو جو حماقتیں مجھ سے سرزد ہوئیں اور ہوتی رہیں، اُن سے آپ بے خبر نہیں ہیں؟ اچھا اب آپ مفصلاً تحریر فرمایئے کہ آپ کوکس طرح اصلیت و حقیقت معلوم ہوئی۔ اب اِس طرح تصویر بھیج دینے سے کیا ہوتا ہے؟ میری درخواست تو آپ نے مسترد فرما ہی دی تھی نا؟ بہرحال میں آپ کی اِس عنایتِ بے غایت کا شکریہ ادا کرتی ہوں! کیونکہ آپ کی شبیہ میرے لئے باعثِ صبر و قرار ہے جب اضطراب قلب حد سے سِوا ہونے لگتا ہے۔ تو میں چپکے سے آپ کی صورت دیکھ لیتی ہوں مگر آپ کہاں ماننے والے ہیں؟ دوسرے سوالات کا جواب بشرطِ زندگی کسی آئندہ فرصت میں۔ میں تہِ دل سے ممنون ہوں (اور ساتھ ہی شرمسار بھی) کہ آپ اُس روز محض میری خاطر اِس قدر تیز بارش اور شدید سردی میں اتنی دُور سے تشریف لائے۔ آپ کا یہ ایثار میں تسلیم کرتی ہوں، مستحقِ داد ہے اور آپ کی محبت کا ایک بلیغ ثبوت! مگر آہ!
گھر ہمارے ہائے کب آیا ہے وہ غفلت شعار
جب ہماری خانہ ویرانی کا ساماں ہو چکا
راقمہ(آپ کی تقلید میں)
بھول جانا نہ ہمیں یاد ہماری رکھنا
خط کتابت کی سدا رسم کو جاری رکھنا
(پنسل کی تحریر)
معاف فرمائیے گا عریضہ ہذا بہت جلدی میں لکھا ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post