روشنی دونوں طرف

تبصرہ : یونس خیال

’’روشنی دونوں طرف‘‘ ظہورچوہان کاچوتھاشعری مجموعہ ہے۔ اکانوے غزلوں اور۱۴۴صفحات پرمشتمل اس عمدہ شعری مجموعے کو ’’ الکتاب گرافکس ‘‘ ملتان نے اہتمام کے ساتھ چھاپاہے ۔اس مجموعہ کی میری طرف سے رسیدمیں دیری کی وجہ میری مصروفیت رہی ہے ،اس بات پران سے دلی معذرت ۔ ظہورچوہان کی غزل کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے جدیدت کابےڈھنگالبادہ اوڑھنے کی بجائے اپنی شعروں کواردوشاعری کی قدیم روایت سے منسلک کیاہے اوراسی میں نئے مضامین متعارف کرائے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ قدیم کی یہ تقیلد شعوری سطح پرہے ۔ ویسے بھی جومیرؔ کامقلدہونے کااعلان کرتے ہوئے فخرمحسوس کرے ،اس کی شاعری کی لطافت پرشبہ کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔

سلسلہ، سلسلہٗ میر میں ڈوبا ہواہے

مراہر شعرہی تاثیرمیں ڈوباہواہے

نقشِ پائے میرؔ سےہوتاہوں میں بھی فیض یاب

یعنی غالبؔ  کی  طرح اک  معتقد ہوں  میرؔ  کا

اس تقلید نے ظہورچوہان کی شاعری کوجوحُسن بخشاہے۔

اس کی کچھ مثالیں دیکھیے :

آبلہ پائی میں کانٹوں پہ سفرکون کرے گا

یہ محبت ہے میاں ! بارِدگرکون کرے گا

اب کے تیارہوں میں ترکِ تعلق کے لیے

اتنا مشکل یہ نہیں کام مگر کون کرے گا

مرے قبیلے میں جیسے کوئی بچاہی نہیں

میں   اپنی  لاش  اکیلا  اٹھانے  آیا  ہوں

ہوائیں،تتلیاں،خوشبو،پرندے،پھول اورجگنو

ہماری زندگی بھی زندگی ہوتی،جوتوہوتی

مہذب ہو کے رہنا کس قدردشوار ہوتا ہے

مرے اندازمیں آوارگی ہوتی ، جوتوہوتی

’’ خیال نامہ ‘‘ ظہورچوہان کواس مجموعے کی اشاعت پرمبارک پیش کرتے ہوئے ان کی مزیدکامیابیوں کے لیے دعاگوہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post