خیمہء خاقانی


ڈاکٹر معین نظامی 
برِصغیر کے صوفیانہ تذکروں اور ملفوظاتی ادب میں صدیوں سے یہ شعر بہت مقبول چلا آتا ہے:
پس از سی سال این معنی محقَّق شد بہ خاقانی
کہ یک دم با خدا بودن بِہ از مُلکِ سلیمانی
خاقانی پر تیس سال کے بعد یہ حقیقت کھلی کہ پَل بھر یادِ خدا میں رہ لینا سلیمانی سلطنت سے بہتر ہے۔
اس شعر کے خالق فارسی کے عظیم شاعر افضل الدّین بدیل بن علی خاقانی شروانی( ۱۱۲۰ تا ۱۱۹۰ء) ہیں جنھیں بجا طور پر حَسّانُ العجم کے جلیل القدر لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ شروان میں پیدا ہوئے جو آج کل جمہوریہ آذربائجان کا مشہور صنعتی اور زرعی شہر ہے، اور ان کا مزار مقبرةُ الشّعرا، سُرخاب، تبریز، ایران میں واقع ہے۔
خاقانی قصیدہ، مثنوی، غزل، قطعہ اور نثر نگاری میں مسلّم الثّبوت استاد ہیں۔ مدحیہ کے ساتھ ساتھ جبسیہ اور شکوائیہ شاعری میں بھی ان کی نظیر نہیں ملتی۔ دینیات، حکمت و فلسفہ اور تصوّف ان کے پسندیدہ ترین موضوعات ہیں۔ ان کے فکر و فن کے گہرے اثرات قبول کرنے والوں میں نظامی گنجوی، امیر خسرو، سعدی، حافظ، جامی اور بیدل جیسے اکابرِ سخن شامل ہیں۔
خاقانی لفظی و معنوی اعتبار سے مشکل پسند شاعر ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے قاری سے مانوس ہونے میں بہت وقت لیتے ہیں۔ شاعری میں جلال و شکوہ کی مسحور کن کیفیت دیکھنی ہو تو کلّیاتِ خاقانی کے دریچوں پر دستک دیتے رہنا چاہیے۔ قدرتِ کلام، نازک خیالی، مضمون آفرینی، تصویر پردازی، تراکیب کی تازہ کاری اور تشبیہ و استعارہ کی لطافت و پیچیدگی ان کی پہچان ہیں۔ خاقانی کی تحیّر طراز تخلیقات نہ ہوتیں تو فارسی شاعری کے بے مثال اسلوب سَبْکِ ہندی کے معرضِ اظہار میں آنے میں مزید کئی صدیاں لگ جاتیں۔ ان کے کلام میں مسیحی مذہب و ثقافت کی جھلکیاں بہت نمایاں ہیں کہ ان کے ننھیال نسطوری مسیحی تھے۔ خاقانی کے خیمہء خیال و خواب میں جانوروں اور پرندوں کے لیے بھی کئی خوب صورت گوشے وقف ہیں بلکہ ان کا ایک قصیدہ تو باقاعدہ منطقُ الطّیر کہلاتا ہے۔ کبوتر کا استعارہ انھوں نے فارسی میں سب سے زیادہ اور رنگا رنگ معانی میں برتا ہے۔
خاقانی ان گنے چنے شعرا میں سے ہیں جن کی شاعری کے متعدّد انتخاب کیے گئے، شرحیں لکھی گئیں، اس کے مختلف اجزا شاملِ نصاب رکھے گئے، کچھ تراجم بھی کیے گئے اور دنیا بھر کی دانش گاہوں میں ان کی شخصیت اور شاعری کو موضوعِ تحقیق بنایا گیا۔
خاقانی کا ایک اثر انگیز رنگ نذرِ دوستاں کیا جا رہا ہے:
کارِ من بالا نمی‌گیرد در این شیبِ بلا
در مضیقِ حادثاتم بستهٔ بندِ عنا
میرا معاملہ مصیبت کے اس نشیب سے نکلتا ہی نہیں، مَیں حادثوں کی تنگناے میں مصائب کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہوں
با که گیرم اُنس کز اہلِ وفا بی‌روزی ام
من چنین بی‌روزی ام یا نیست در عالم وفا
مَیں کس سے انس رکھوں کہ اہلِ وفا میری قسمت میں ہی نہیں ہیں، مَیں ہی یوں بد نصیب ہوں یا دنیا میں وفا ہی معدوم ہے
در ہمه شروان مرا حاصل نیامد نیم دوست
دوست خود ناممکن است ای کاش بودی آشنا
پورے شروان میں مجھے کوئی آدھا دوست بھی میسر نہ آیا، دوست تو چلیے نا ممکن ہی سہی، کاش کوئی محض آشنا ہی مل جاتا
من حسینِ وقت و نا اہلان یزید و شمرِ من
روزگارم جمله عاشورا و شروان کربلا
مَیں اپنے زمانے کا حُسین ہوں اور نا اہل لوگ میرے یزید اور شمر ہیں، میرا زمانہ سراسر عاشورا ہے اور شروان کربلا
بوی راحت چون توان بُرد از مزاجِ این دیار
نوش دارو چون توان جُست از دہانِ اژدہا
اس زمانے کے مزاج سے راحت کا سراغ بھلا کیسے مل سکتا ہے، اژدہا کے منہ سے تریاق کہاں ڈھونڈا جاتا ہے
مردم ای خاقانی اہریمن شدند از خشم و ظلم
در عدم نِه روی، کانجا بینی انصاف و رضا
اے خاقانی، قہر و ستم نے لوگوں کو ابلیس بنا دیا ہے، اگلے جہان کا رخ کرو کہ وہیں انصاف اور رضا پاؤ گے
Image may contain: 1 person

You might also like
  1. Hafiz ahmad yar says

    میرے استاد محترم کی خاقانی شروانی کے بارے میں یہ تحریر بلاشبہ دانشمندوں کے لیے دانش افزا ہے

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post