خوشخبری (پشتوادب سے) : فاروق سرور

فاروق سرور
تحریر اورترجمہ : فاروق سرور
عجیب سی رات تھی ،کیا اس طرح کی رات پھر کبھی دوبارہ آے گی اور میرا ایسی رات سے سامنا ہوگا۔یہ سوال اب بھی بار بار میرے ذہن میں سر اٹھاتا ہے۔
ان اجنبی عورتوں نے مجھے حیران کر دیا تھا،جو تعداد میں پانچ چھ تھیں، جوان تھیں ، جنہوں نے خوب بناؤ سنگھار کیا ہوا تھا اور رات کے وقت ایک ایسے ویرانے میں مجھے آن ملی تھیں،جہاں کسی ذی روح کا تصور بھی کوئی نہیں کر سکتا اور ان میں سے کوئی بھی کسی حور سے کم نہ تھی۔
یہ رات کا پچھلا پہر تھا ، چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور زمین اور آسمان دونوں کو روشن کیے ہوئے تھا۔
ان تمام حسیناؤں کی لمبی لمبی سیاہ زلفیں تھیں اور انتہائی خوبصورت زرق و برق سا پاؤں تک پھیلا ہوا لمبا لباس تھا۔ان دلرباؤں نے اگر اس وقت سنگار نہ بھی کیا ہوتا، تو بھی ان کا حسن لاثانی تھااور تب بھی ان کی خوبصورتی میں شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
یقین کیجیے۔ایک عجیب سی پرکشش اجنبی مخلوق تھی وہ ، ہر ایک اس قابل تھی کہ اس پر شاعری کی جائے،بلکہ کسی شاندار شاعر کی طرح اعلیٰ قسم کی شاعری کی جائے اور دل چاہتا تھا کہ بس میں ان مہ جبینوں اور مہ رخوں کو دیکھتا اور تکتا ہی رہوں۔
اگرچہ اس وقت مجھے جان کے لالے پڑے ہوئے تھے ،میں سخت تھکا ہارا بھاگا چلا آرہا تھا ،سانسیں بےقابو تھیں میری ،افغان جنگ اب بھی اپنی پوری آب و تاب، خونریزی ،قتل و غارت گری اور بربریت کے ساتھ جاری تھی،فائرنگ اور توپوں کی آوازیں اب بھی مسلسل آ رہی تھیں اور بدقسمتی سے توپکیان کے ہاتھوں جنگ میں میرے سارے ساتھی آج ،بلکہ ابھی ابھی مارے گئے تھے۔ میں اب بھی خوف سے کانپ رہا تھا، میری نگاہوں میں اب تک ان دیرینہ ساتھیوں کی خون میں لت پت لاشیں گم رہی تھیں ،جو موت سے پہلے سخت زخمی ہونے کے وقت چیخ بھی رہے تھے،تڑپ بھی رہے تھے،یہ تمام جوان لوگ تھے،موت کے قابل نہیں تھے، پچھلی رات کو ہی ہم نے رباب پر ایک ساتھ خوبصورت گیت گائے تھے،شہ زادیوں اور پریوں کے گیت اور ان گیتوں میں، ہم میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی خیالی محبوبہ تھی ،جو بس ہر وقت مسکراے چلی جا رہی تھی اور ہمارے قربان ہو رہی تھی۔
وہ ایک بڑی سی کھائی ہی تھی،جہاں اس وقت میں موجود تھا۔ در حقیقت یہ ایک ویرانا تھا، جہاں کچھ دیر کے لیے میں نے پناہ لے رکھی تھی اور پھر نجانے یہ اجنبی مغلوق کہاں سے آن ٹپکی اور مجھے آن گھیرا۔
اب اچانک میرے دل میں ایک نئے خوف نے پناہ لی کہ رات کے اندھیرے میں اس ویرانے میں اتنی حسین عورتیں کیسی؟ یہ ضرور چڑیلیں ہونگی یا کوئی آدم خور مخلوق۔
میں اس وقت زخمی بھی تھا ،راستے میں اندھیرے میں ادھر ادھر بھاگتے اور ٹھوکریں کھانے کی وجہ سے،تیزی سے جسم میں درد بڑھتا جا رہا تھا اور ان دوشیزاؤں کے درمیان کسی مردے کی طرح لیٹا ہوا تھا،سخت تھکن اور بیچارگی سے نڈھال ،بےبس ، بدحال اور ہلنے جھولنے سے قاصر۔وہ تمام کی تمام میرے اردگرد دائرے کی صورت میں اس طرح گھوم رہی تھیں ،ناچ رہی تھیں اور تیزی سے چکر کاٹ رہی تھیں، جیسے بھیڑیوں کا کوئی غول اپنے شکار کے اردگرد گھوم رہا ہو اور خوشی سے چیخ رہا ہو۔
بس کیا کہوں ، یہ سب کچھ اچانک ہوا تھا۔
میں پہلے ہی اپنے اس دشمن سے خوف زدہ تھا،جس کی اندھا دھند فائرنگ نے میرے تمام ساتھیوں کو چند لمحوں کے اندر ہی ان کی قیمتی زندگیوں سے فارغ کر دیا تھا اور مجھے اب بھی یہ محسوس ہو رہا تھا اور خدشہ تھا کہ جیسے وہ وحشی لوگ یا میرے دشمن دور گھاٹیوں اور دروں میں اب بھی میرا پیچھا کر رہے ہوں اور ان میں سے بہت سے اپنے خوفناک کلاشنکوف ہوا میں لہرا رہے ہو،اپنے ان تیز رفتار ،طاقتور اور وحشی گھوڑوں پر بیٹھے ہوں، جن کے ٹاپوں ، سانسوں اور سموں کی آوازیں دھماکوں کی طرح اس وقت بھی مجھے سنائی دے رہی تھیں اور میرے کانوں میں گونج رہی تھیں ۔بس جیسے ان ظالموں اور خونیوں کو میرے بچ جانے کا یقین ہو،مجھے قتل کرنا ان کے لیے بہت ضروری اور انتہائی اہم ہو۔
لیکن یہ کیا ،اب ان پہاڑوں میں چند سرسبز اداس درختوں کے درمیان یہ نئی مصیبت، بلکہ ایک علیحدہ کی مشکل اور آفت۔
ان چھ کی چھ ماہ جبینوں کے ہاتھوں میں بڑے بڑے دف بھی تھے ، جن میں گھنگرو بندھے ہوئے تھے اور چاند کی روشنی میں بہت واضح طور پر نظر آ رہا تھا کہ ان تمام پر مہندی سے خوبصورت طرح طرح کے پھول اور پتے بھی بنائے گئے ہوں۔
اب تمام حسینائیں ہاتھوں میں اپنے اپنے دف لیے میرے چاروں طرف پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گھوم رہی تھیں،انہیں لہرا رہی تھیں ،وحشیانہ انداز میں انہیں بجا رہی تھیں، ان کا رقص لمحہ بہ لمحہ تیز ہو رہا تھا اور وہ تمام بیک آواز بہت ہی سریلے انداز میں اپنی خوبصورت آوازوں میں ایک خوبصورت سا گیت گارہی تھیں ،جس سے مست اور تیز ہوا میں گدگدی سی پیدا ہورہی تھی اور وہ اس سے کھیل رہی تھی اور شاید اس گیت کی پیاری آواز کو دور دور تک لے جا بھی رہی تھی۔بس ایک نہ بیان کرنے والا شاندار اور وحشیانہ رقص تھا ،جو میرے چاروں طرف جاری تھا اور رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔میرا خیال ہے کہ اس وقت تمام وادی میں ان کی آواز ہی گونج رہی تھی۔
واڑوئ لاسونہ، را واڑوئ
واڑوئ لاسونہ، را واڑوئ
( لہراؤ ، لہراؤ، اپنے حسین نازک ہاتھوں کو، لہراؤ، رقص کے لیے لہراؤ)
اب تو مجھے تیزی سے یقین ہوتا جا رہا تھا کہ یہ تمام چڑیلیں یا بد روحیں ہیں،جن کو شکار ملنے کی خوشی ہے ۔ جنہوں نے خوبصورت حسینوں کا روپ دھار رکھا ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان تمام کے ہاتھوں اب میری موت یقینی ہے، بلکہ خوفناک موت۔اس طرح اس احساس نے مجھے اور بے دم اور مایوس کر دیا۔
میری پاس اس وقت اگر ایک ہی امید تھی ، تو وہ تھی میرا کلاشنکوف ،جو گولیوں سے بھرا ہوا تھا اور جس سے میری زندگی بچ سکتی تھی،اسی لیے میری نظر فوری طور پر اس پر گئی،جس کی گولیوں نے شاید بہت دور ،بہت سے لوگوں کو ہلاک بھی کیا ہوگا۔
گو کہ مجھے یقین تھا کہ گولیاں چڑیلوں اور بدروحوں پر کوئی اثر نہیں کرتیں، لیکن پھر بھی میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی اور مخلوق ہو اور گولی ان پر اثر کر جائے اور میری زندگی بچ جائے۔
اب جونہی میں نے چابک دستی سے اپنا کلاشنکوف سنبھالا ، ان پر تھانا اور فائرنگ کرنے ہی والا تھا کہ اچانک وہ وحشی رقص تیزی سے رکا اور ان میں سے ایک حسینہ تیزی سے کسی ناگن کی طرح میری طرف لپکی اور اس نے بجلی کی سی سرعت کے ساتھ کلاشنکوف مجھ سے چھینا۔
جونہی اس نے کلاشنکوف مجھ سے چھینا ، اب ایسا منظر بدلا، جس نے مجھے حیران کر دیا۔
یہ کیا؟ اب تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا، بالکل ایسے جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں ، بالکل اب تو ایک نیا نظارہ تھا۔ اب وہ تعداد میں چھ نہیں تھیں، بلکہ درجنوں، بلکہ لاتعداد، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔عجیب سی بات ہے ،بس دیکھتے ہی دیکھتے ان کی تعداد بڑھ گئی تھی۔
یہ کیا جادو ہے،بلکہ کیسا جادو ہے۔اب تو مجھے اپنی ذہنی حالت پر بھی شک ہونے لگا تھا ،لگ رہا تھا کہ جیسے میں واقعی سچ مچ کوئی خواب دیکھ رہا ہوں اور یہ خیال یا وسوسہ میرے ذہن میں پختہ ہوگیا تھا کہ یہ سب چڑیلیں ہیں،بدروحیں ہیں اور پتہ نہیں میرا انجام کیا ہوگا ان کے ہاتھوں؟
اس وقت ان میں سے بہت سوں نے مجھے گریبان سے پکڑا ہوا تھا، مجھ کو جھنجھوڑ رہی تھیں،عجیب سا وحشیانہ پن اور غصہ تھا ان کے چہروں پر اور ایک خوفناک سی جارحیت تھی ان کے لہجے میں اور وہ تمام مجھ سے تقاضا کر رہی تھیں بلکہ مجھ سے دھمکی آمیز انداز میں پوچھا جارہا تھا کہ ہمیں اپنے ہتھیاروں کی جگہ بتا دو ،کہاں چھپایا ہے، تم لوگوں نے اپنا گولابارود ،ورنہ ہم مل کر تمہیں ابھی ابھی قتل کر دیں گی، ذبح کردیں گی، بلکہ تمہیں اس طرح لاتعداد ٹکڑوں میں تقسیم کر دیں گی کہ تمہیں پہاڑی اور وحشی بھیڑیے بہت دنوں تک کھاتے رہیں گے،بلکہ تمہاری ہڈیاں چباتے رہیں گے اور جنگلی گدھ تمہاری لاش کے اردگرد اڑتے اور منڈلاتے رہیں گے۔
اب تو میری حیرت مزید بڑھی کہ ان حسیناؤں کا کلاشنکوفوں کے ساتھ کیا کام اور اگر یہ کوئی لڑاکا مخلوق ہے ،تو پھر اس ویرانے میں ان کا سنگار کیسا،ان کی شوخیاں کیسی؟ یہ تمام متضاد باتیں تھیں ،بلکہ یقین نہ کرنے والا واقعہ تھا، جو اس وقت میرے سامنے رونما ہورہا تھا،بلکہ میرے ساتھ ہو رہا تھا۔
وہ مسلسل چیخ رہی تھیں،وحشی اور زخمی شیرنیوں کی طرح، اپنے ہتھیار ہمیں بتاؤ،جلدی کرو ،ورنہ تمھارے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے مردود؟
یا خدا یہ کیا ماجرہ ہے،اس وقت میں سخت تذبذب اور بے یقینی کا شکار تھا،کیونکہ پورے افغان جنگ میں ،میں نے اس طرح کی جنگجو عورتیں کبھی نہیں دیکھی تھیں،جو سنگھار کے ساتھ لڑ رہی ہوں۔اب تو مجھے پورا یقین ہو رہا تھا کہ یہ ضرور کوئی جادوئی مخلوق ہے ۔
یہ سچ مچ اور واقعی عجیب سی بات تھی بلکہ حیران کن بات ،بلکہ ایک معمہ تھا ۔
“جلدی کرو “۔ وہ سب دوبارہ چیخیں ۔
جان کسے پیاری نہیں ہوتی،مجھے بھی پیاری تھی۔ اسی لئے اپنی جان بچانے کے لیے میں نے اچانک تیزی سے سامنے کی پہاڑی کی طرف اشارہ کیا کہ ہمارے وہ تمام ہتھیار اس پہاڑ میں موجود سیاہ غار میں پڑے ہوئے ہیں ، کیونکہ اسی غار میں ، میں پناہ لینے بھی جا رہا تھا،یہ غار ہمارا مسکن بھی ہے، یہ یہاں اکلوتا غار ہے اور یہاں اسی پہاڑی کے علاوہ کوئی دوسرا اس طرح کا سیاہ رنگ کا غار کہیں کسی دوسری پہاڑی میں تم لوگوں کو نہیں ملے گا۔
اب میری بات پر وہ تمام حسینائیں بیک آواز فاتحانہ انداز میں زور زور سے چیخنے لگیں اور ان کا ایسا انداز بنا،جیسے انہیں اطمینان ہو گیا ہوں ،لگ رہا تھا کہ جیسے ان میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی ہو اور ان سے یہ نئی خبر خوشی برداشت نہیں ہو پا رہی ہو ۔بس سب کی سب خوشی سے اچھل رہی تھیں،بالکل بچوں کا سا انداز تھا ان کا۔
اب اگلے ہی لمحے وہ تمام اس سیاہ غار کی طرف تیزی سے بھاگ رہی تھیں اور ایک اژدھام تھا ،جو لمحہ بہ لمحہ مجھ سے دور ہوتا جا رہا تھا،جس کا پتہ میں نے ابھی ابھی انہیں بتایا تھا،اس وقت وہ ہرنیوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہی تھیں اور بہت ہی تیزی سے بھاگ رہی تھیں اور ایک پاگل پن تھا ان کے انداز میں،میں ان کو دیکھ رہا تھا اور ان کے قدموں کی آوازیں بھی سن رہا تھا اور مٹی کی دھول تھی میرے سامنے جو بس اڑے جا رہی تھی۔
اس وقت صرف ایک ،اور واحد ہی حسینہ ،وہاں رہ گئی تھی اور یہ وہی حسینہ تھی ، جس نے مجھ سے میرا کلاشنکوف چھینا تھا اور جس کے ہاتھوں میں اب بھی وہ کلاشنکوف موجود تھا اور وہ اپنی خوبصورت سرخ آنکھوں سے مجھے اس طرح نفرت سے گھور رہی تھی ،جیسے میں نے اس کے کسی عزیز کو قتل کیا ہو اور وہ اب مجھ سے اس کا بدلہ لینا چاہ رہی ہو۔
اب اس نے انتہائی غصے کے ساتھ اس کلاشنکوف کو اس تیزی سے گھمایا،جیسے اس میں شدید نفرتیں پوشیدہ ہوں اور سامنے پڑے ایک بڑے سے پتھر پر بے پناہ زور اور شدت سے دے مارا اور پھر مارتی رہی۔
ارے یہ جنگجو جادوئی عورت کیا کر رہی ہے؟ میری حیرت مزید بڑھی اور میں مزید چونک اٹھا۔
اب تو منظر ایسا بدلا اور سب کچھ اتنا غیر متوقع اور تیز ہوا کہ مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار ہی نہیں آیا،کیونکہ جونہی اور جیسے ہی وہ کلاشنکوف ٹوٹا اور بہت سارے حصوں میں تقسیم ہوگیا ۔
وہ حسینہ تیزی کے ساتھ ایک ننھی سی فاختہ میں بدلی ۔
یہ کیا،حسینہ کا فاختہ میں بدلنا کیسا؟میں چیخ اٹھا۔مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا اور میں اپنی آنکھیں مسلسل مسلے جا رہا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟
اب وہاں واقعی ایک سفید فاختہ تھی،گلابی آنکھوں والی سفید فاختہ،حسین وجمیل فاختہ ،جو چاند کی روشنی میں بڑی خوبصورت لگ رہی تھی،جس کے پر روشن تھے اور جو سامنے بڑے سے پتھر پر بیٹھی ،روشنی کے کسی گولے کی طرح گھوم رہی تھی ، ناچ رہی تھی،کھل کھلا رہی تھی،اپنی خوشی کا اظہار کر رہی تھی اور تب دیکھتے ہی دیکھتے، وہ فاختہ اپنے حسین پروں کو پڑپڑاتے ہوئے آسمان کی طرف تیزی سے اڑنے لگی اور اڑی بھی تو ایسی اور یوں اڑی،جیسے کہیں بہت ساری فاختائیں اس کی منتظر ہوں ، اس سے کوئی پیام سننا چاہ رہی ہوں، بے چین ہوں اور وہ انہیں اپنی اس تازہ فتح کی نوید سنانے جا رہی ہو۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post