آنسو ۔۔۔ دوسراورق

از: یونس خیال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  گزشتہ سے پیوستہ

’’ بڑا‘‘ہونے پر میرے پہلے ہمرازیہی آنسوتھے۔ میں نے بظاہرہنستے ہوئےجیناسیکھ لیاتھالیکن تنہائی میں یہ آنسومیرامسکن بن چکے تھے۔ ماں،دادی،دادا اوربہن بھائیوں کے آنسواورسب سے بڑھ کراپنے قیدی باپ کے آنسو،جنھیں میں دیکھ تونہیں سکتاتھالیکن محسوس ضرورکرسکتاتھا۔ یہ میری پناہ گاہیں تھیں ۔ میں جب بھی کسی کی آنکھ میں آنسودیکھتا،  اپنی استطاعت کے مطابق اسے حوصلہ دیتااورتنہائی میں اسی آنسومیں چھپ کرخودکومحفوظ خیال کرتا۔اس طرح میرے یہ مسکن بدلتے رہتے ۔ اس طرزکی تنہا مسافت اوردربدری نےمجھے اپنی ذات پرانحصارکرنے کاعادی بنادیا۔ لیکن اب جاکر ایک محرومی کااحساس بڑھنے لگاہے کہ کاش کبھی میں اپنی آنکھ سے گرے کسی آنسوکے گھروندے میں کچھ لمحے گزارنے کے تجربے سے بھی لطف اندوزہوسکتا۔

  وقت کی ضرورت یہ تھی کہ میں سب سے پہلے پیرصاحب کوجوکہ بھارت کے شہر الہٰ آبادکے ایک فوجی کیمپ میں قیدتھے،احساس دلاوں کہ فکرنہ کریں میں ’’بڑا‘‘ ہوگیاہوں اورگھرکے معاملات میں نے سنبھال لیے ہیں ۔ دوسرا ،انھیں اپنی تعلیم کے بارے میں یقین دلاناتھاکہ میں ان کی خواہش کے مطابق دل لگاکراپنی تعلیم میں مگن ہوں۔

انھی دنوں میں’’ خط ‘‘ سے میراپہلاتعارف بھی ہوا۔ میں انھیں ہرروزخط لکھتااور وہ بھی مجھے اس کا جواب دیتے۔ بچپن کی اس مایوسی کے عالم میں جب چٹھی رساں ان کا خط لاتااورمیں اسے کھولتاتو ہرخط میں سامنے یہ لکھاپاتاکہ

’’ برخودار،نورِچشم،راحتِ جاں جاویدیونس سلامت باشید‘‘، تومجھے اُن کے اوراپنے زندہ ہونے کااحساس ہوتا۔ خطوط کے تبادلے کایہ سلسلہ ان کی وطن واپسی تک قائم رہا۔ کاش میں وہ خط سنبھال پاتاجن میں بین السطورپاکستان ٹوٹنے کے حالات اوردردکی کیفیات محسوس کی جاسکتی تھیں۔

 اس عمرمیں پیرصاحب مرحوم کوخط لکھنے کے حوالے سے میں نے ایک عجیب طریقہ اختیارکیاتاکہ انھیں بتاسکوں کہ میں بہت ’’ لکھ پڑھ ‘‘ گیاہوں ۔ میں اُن کوہفتے میں ایک خط انگریزی زبان میں بھی لکھتا،حالاں کہ ان دنوں میں چھٹی جماعت میں تھااور اے، بی ، سی کی پٹی یادکررہاتھا( ان دنوں سرکاری سکولوں میں انگریزی زبان سیکھنے کی ابتداچھٹی جماعت سے ہواکرتی تھی) ۔ طریقہ یہ تھاکہ میں اردومیں خط لکھتااورگاوں میں ایک ایسے شخص کوجواس وقت برطانیہ رہ  کرآیاتھا،درخواست کرتاکہ اس کا انگریزی میں ترجمہ کردے ۔ پھرمیں اسے خوداپنے ہاتھ سے لکھ کرپیرصاحب کو ارسال کردیتا۔ بہت خوش ہوتے اس بات پرکہ مجھے انگریزی میں خط لکھناآگیاہے۔

خود اپنے آنسووں کی بستی میں چند لمحے نہ گزارپانے کی محرومی کاذکرہورہاتھا۔ اس حوالے سے مجھے اپنے شعری مجموعے ’’کالی رات، سفراورمیں ‘‘ مِیں شامل ایک نظم یادآگئی :

 زادِ سفر

مَیں جب اپنے گھرسےروانہ ہواتو

اُداسی سے بھرپورسائے نے بڑھ کر

مرے سرد ماتھے کو

تپتے ہوئے اپنے ہونٹوں سے چُوما

مِرے کان میں یہ کہا

کہ

اگرراستے میں

تمھاری رگوں میں محبت کی خواہش اُترنے لگے تو

مجھے یاد کرنا۔

                                                            ۔۔۔۔۔ جاری ہے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post