اُستاد بلوری خان، سردیاں اور سردیوں کی شاعری : حکیم احمد نعیم ارشد

            اُستاد بلوری خاں انگیٹھی کے پاس بیٹھے آگ کی رفاقت سے لطف اندوز ہو رہے تھے میرے کمرے داخل ہوتے ہی بڑے تپاک سے خوش آمدید کہتے ہوئے بولے یار کوئی تو وجہ تھی آہاہاہا، واہ واہ واہ، کوئی تو وجہ تھی میں نے بیٹھتے ہوئے پوچھا اُستاد جی کیا کہناچاہتے ہیں آپ تو اُنہوں ہاتھ تاپتے ہوئے کہا یار کوئی تو وجہ تھی جو اس آگ کی پوجا ہوتی تھی جَب سردیوں کے یخ بستہ شب و روز میں یہ راحت فراہم کرتی ہے تو بے ساختہ اس پر پیار آتا ہے آج جو ہَم اس کے ارد گرد بیٹھ کر اس کی موجودگی کو اس کی حرارت سے محسوس کرتے ہیں تو سب سمجھ میں آتا ہے کیونکہ حرارت زندگی کا دوسرا نام ہے زندگی سے یاد آیا غالباً نومبر کے آخری عشرے میں اُستاد جی کی شادی ہوئی تھی دسمبر کی ایک صبح اُستاد جی اپنے صحن میں چارپائی پر بیٹھے دھوپ کا مزہ لے رہے تھے انکی بیگم چائے کا کپ لیئے انکے پاس گنگناتے ہوئے آئی
تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا
زندگی دھوپ تو گھنا سایہ
جب یہ بول اُستاد جی کے کانوں میں پڑے تو بیگم سے پہلا جھگڑا ہوگیا کہنے لگے بےوقوف عورت اتنی پیاری سنہری اور چمکیلی دھوپ کے اوپر سایے کو ترجیح دے رہی اور پھر سایہ بھی مجھے بنا رہی ہو تمہاری مَت ماری گئی ہے اصل میں شاعر کو یوں کہنا چاہیے تھا
زندگی سایہ تو سنہری دھوپ
آگ سا لگ رہا ہے تیرا روپ
آج کے بعد اگر ایسے گانے گائے تو مجھ سے بُرا کوئی نہ ہوگا شادی کے بعد استاد جی جب مکلاوا لینے گئے تو شام ڈھل چُکی تھی اُستاد جی نے بوسکی کا سوٹ پہنا ہوا تھا، ہوا بھی چل رہی تھی اُستاد جی کی ساس نے اُستاد جی کا استقبال کُچھ ایسے کیا
“ست بسم اللہ جی آیاں نُوں میرا جوائی راجا آیا ،میری اکھیاں دی ٹھنڈ، میں صدقے جاواں شالا تتی واء نہ لگے”
اُستاد جی کا بلڈ پریشر وہاں پر بھی بڑھ گیا اور اپنے بہنوئی سے جو ساتھ گیا تھا کُھسر پُھسر کرنے لگے یار یہ کیا بات ہوئی ایک تو پہلے ہی اتنی ٹھنڈ ہے،اوپر سے مَیں بوسکی کے عذاب میں مبتلا ہوں اور اوپر سے یہ ساس صاحبہ مُجھے ٹھنڈک کا خطاب دے رہی ہیں اور مزید ظلم کہ ساتھ میں بد دعا دے رہی ہیں کہ “شالا تتی واء نہ لگے” چُکے مولا ایہو جئی ساس کو جے تتی واء نہ لگی تے ساڈیاں تے اُستادیاں تک جَم جان گیاں”استاد جی کو سردیوں میں پانی سے بہت ڈر لگتا ہے پچھلے دِنوں مطلع ابر آلود تھا اور برائے نام بالکل ہلکی سی پھوہار پڑ رہی تھی جیسے اوس ہو، میں نے دیکھا اُستاد جی ایک دیوار کے بالکل ساتھ لگ کر کھڑے تھے میں نے کہا اُستاد جی اس پھوہار سے تو کپڑے بھی نہیں بھیگیں گے تو کہنے لگے ایک بات یاد رکھنا مُجھ میں اور اخباد کے کاغذ میں بس اُنیس بیس بلکہ ساڑھےانیس اورپونے بیس کا فرق ہے باقی تُم خود سمجھدار ہو پچھلی سردیوں میں ایک بار اُستاد جی کو بخار نے آن گھیرا ڈاکٹر کے پاس گئے ڈاکٹر نے بغل میں تھرما میٹر لگایا تو اُستاد جی نے چِلا کر کہا اس قدر ٹھنڈا مرماتھیٹر وہاں پر موجود تمام مریض مسکرا دیئے کیونکہ استاد جی کو تھرما میٹر اتنا ٹھنڈا لگا کہ وہ اُس کا اصل نام تک بھول گئے
آگ کے پاس بیٹھنے سے اُستاد جی کی حسِ مزاح بہت تیز ہو جاتی ہے اور جُگتوں کی ایسے آمد ہوتی ہے جیسے فیس بک پر شعراء کو اشعار کی آمد ہوتی ہے سیاسی معاملات میں تو اُستاد جی کی پہنچ بڑی دور تک ہے عمران خان نے جب تونسہ شریف کو چونسہ شریف کہا تو فرمانے لگے اگر تونسہ چونسہ بن سکتا ہے تو کیلا بھی کریلا بن سکتا ہے کریلے گوشت خاں صاحب کی کمزوری ہیں جس دن کریلے گوشت پکے ہوں خاں صاحب کی آنکھوں کی چمک قابل دید ہوتی ہے موڈ بھی انتہائی خوشگوار ہوتا ہے اور خوشگوار موڈ کے دوران ہی اُستاد بلوری خان نے آگ کی شان میں کُچھ اشعار بھی کہے جو اُنہوں نے گرم گرم سوپ کی چُسکیاں لیتے ہوئے انگیٹھی کے پاس بیٹھ کر ارشاد فرمائے آپ کی خدمت میں اُن کے چند اشعار پیش ہیں
سردیوں میں بے بسوں کی زندگانی آگ ہے
ٹھٹھرتے چہروں کی ساری شادمانی آگ ہے
آگ ہے تو اُنگلیوں میں جنبشوں کا دور ہے
ٹھنڈ کے مارے سروں کی سائبانی آگ ہے
لکڑیاں جل کر بنا دیتی ہیں ہم کو کوئلے
لکڑیوں کے کوئلوں سے پھر بنانی آگ ہے
سردیوں سے خاندانی دُشمنی ہے آگ کی
دیکھ کر صورت ہماری مسکرانی آگ ہے
شکر کرتا ہے بلوری خان، ذاتِ پاک کا
جِس کی تخلیقات میں سب سے سہانی آگ ہے۔

You might also like
Loading...