خیال نامہ

انشائیہ اور عصری آگہی : ڈاکٹرانورسدید

ڈاکٹرانور سدید
ڈاکٹرانورسدید
بظاہر یہ بات تعجب انگیز نظر آتی ہے کہ مختلف اصناف ادب کے فروغ و ارتقاء کا سلسلہ مخصوص ادوار اور زمانوں کے ساتھ بھی متعلق ہوتا ہے تاہم اگر ادب کا تجزیہ کیا جائے تو اس حقیقت سے انکار ممکن نظر نہیں آتا کہ بعض اصناف مخصوص زمانے میں فروغ و ترقی کی منزل طے کرتی ہیں۔ اردو غزل کی روایت قدیم اور بہت مضبوط ہے لیکن ترقی پسند تحریک کے عروجی دور میں غزل کا فروغ و ارتقاء رک سا گیا اور اس دور میں نظم کو زیادہ اہمیت ملی۔ ایک زمانے میں افسانے کی صنف صرف صورت واقعہ کے بیان تک محدود تھی لیکن گذشتہ دو دہائیوں میں کہانی کا فریم ٹوٹ پھوٹ گیا اور علامتی اور تجریدی افسانے کو زیادہ فروغ حاصل ہوا۔ اس پہلو کو مد نظر رکھیں تو یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ اچھا انشائیہ ہر زمانے میں پیدا نہیں ہوتا۔ ہر چند انشائیہ آزاد ماحول کا تقاضا کرتا ہے اور پابندی و محبوس فضا کو قبول نہیں کرتا۔ تاہم امر واقعہ یہ بھی ہے کہ انشائیہ صرف اس دور میں پنپ سکتا ہے جب ماحول اور حالات سے فرد ایک شدید بے اطمینانی کے احساس میں مبتلا ہو۔ (۱)
ڈاکٹر جانسن نے سٹیل کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’وہ غیر مطمئن عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ‘‘ ایسّے ‘‘ لکھتا رہا اور اس نے نثر میں غیر جارحانہ اور سرد رویے کی عکاسی کر کے سیاست کی پیدا کردہ گرمی کو معتدل بنانے کی کاوش کی ہے۔ ‘‘ (۲)
اس زاویے سے بر صغیر کو اس کے سیاسی اور سماجی پس منظر میں دیکھئے تو آزادی سے پہلے کا زمانہ شدید سیاسی تحرک اور نعرہ بازی کا زمانہ نظر آتا ہے۔ اس قسم کا ماحول انشائیہ نگاری کے لئے سازگار نہیں، آزادی کے بعد فرد نئے معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں مصروف ہو گیا۔ اس دور میں اس نے نہ صرف آسودگی کے ایک خود ساختہ تصور کی پرورش کی بلکہ مستقبل کے بارے میں بعض مافوق الحقیقت امیدوں کی افزائش بھی کی۔ اسے ماحول سے بے اطمینانی کا احساس تو اس وقت ہوا جب اس کے خیالی مستقبل کے خواب چکنا چور ہو گئے اور سیاسی و معاشرتی مطلع ابر آلود ہو گیا۔ شاید یہی وقت تھا جب انشائیہ کی تخلیق عمل میں آسکتی تھی۔ چنانچہ اسی دور میں اردو انشائیہ وجود میں آیا اور اس نے زندگی کی نا آسودگی کو کم کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا۔ پاکستان کے اطراف و جوانب فضا قدرے مختلف تھی۔ چنانچہ اردو زبان کے دوسرے مسکنوں میں انشائیہ کو فروغ حاصل نہیں ہوا۔
انشائیہ اس لحاظ سے ایک غیر مقصدی صنف ادب ہے کہ یہ فرد کو نہ تو انقلاب کے منفی انداز کے عمل پر آمادہ کرتی ہے اور نہ اسے عرفان کی کسی منزل سے ہمکنار کرنے کی دعویدار ہے۔ لیکن انشائیہ چونکہ فرد کو حقیقت کے ایک نئے مدار سے آشنا کرتا اور اس کو بہجت کی ایک نئی کیفیت سے متعارف کراتا ہے اس لئے یہ اپنی ایک افادی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ انشائیہ اندھیرے کے جگنو کی طرح ہے جو منزل کی امید تو دلاتا ہے لیکن خود منزل نہیں بنتا۔ انشائیہ ہمیں تھوڑی سی دیر کے لئے اس معصوم بچے کی سطح پر لے آتا ہے جو سنگریزوں سے جھولی بھر کر اتنا خوش ہو جاتا ہے جتنا کہ ایک شہنشاہ جواہرات کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر بھی خوش نہیں ہوتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انشائیہ کو ایک صنف ادب کے طور پر کسی مقصد کا آلہ کار نہیں بنایا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ انشائیہ کوان ممالک میں زیادہ فروغ ملا ہے جہاں ادب کو مقصد کا غلام نہیں بنایا جاتا اور بعض ایسے ممالک میں جہاں ادب کو نظریاتی پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہاں انشائیہ کی کونپل پھوٹ نہیں سکی۔ یوں دیکھیں تو ترقی پسند ادبا کے ہاں انشائیہ کو قبول کرنے کا میلان بھی نظر نہیں آتا۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انشائیہ میں اپنے عہد کی آہٹ موجود نہیں ہوتی، ایمی دی گارماں کے مطابق ’’فن کار اپنی ذات کے بارے میں لکھتے ہوئے بھی اپنے زمانے کے بارے میں لکھتا ہے۔ ‘‘ (۳)
چنانچہ انشائیہ میں بھی ادیب انکشاف ذات کرتا ہے تو وہ اپنے زمانے کو نظر انداز نہیں کرتا۔ انشائیہ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں عصری آگہی کے آثار تخلیق کی سطح کے ساتھ چپکے ہوئے نظر نہیں آتے۔ بلکہ یہ ایک مخصوص عمل سے گزرنے اور منقلب ہونے کے بعد ہی قاری کے سامنے آتے ہیں، انشائیہ میں عصری آگہی معروضی نہیں بلکہ انشائیہ عصری آگہی کو بھی ایک نئی نوع کے تاثر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ اس خوشبو کی مانند ہے جو مشام جاں کو معطر کر دیتی ہے لیکن جسے چھونا ممکن نہیں۔
انشائیہ کے جنم میں اس حقیقت کا عمل دخل زیادہ ہے کہ جب مونتین نے اپنی عصری آگہی اور ذاتی تجربے کو زمانے کے سامنے آزادہ خیالی سے پیش کرنے کا ارادہ کیا تو غیر منضبط تحریروں سے انشائیہ وجود میں آگیا۔ مونتین فطری طور پر داخلیت پسند تھا، اسے زندگی کی بیشتر دنیاوی آسائشیں میسر تھیں۔ اس کا عہد فکری تموج کا عہد تھا، زندگی اور مابعد الطبیعیات کی جنونی جستجو نے ہر خاص و عام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، سماجی سچ پر شدید بد اطمینانی موجود تھی۔ اس دور میں مونتین نے ایسی تحریریں پیش کیں جن میں نہ صرف مونتین خود موجود تھا بلکہ ان تحریروں میں اس دور کا فرانس بھی سانس لے رہا تھا۔
بلاشبہ مونتین نے زیادہ تر اپنی ذات کو منکشف کیا لیکن اس عمل میں اس نے اپنے زمانے سے اغماض نہیں برتا۔ چنانچہ مونتین کے نثر پاروں سے اس کی سوانح عمری تو مرتب نہیں ہو سکتی لیکن ان سے فرانس کی تہذیبی زندگی کے نقوش اور اس عہد کی سرگرمیوں کا احوال مرتب کیا جا سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ مونتین نے متعدد تجربات سے ایک کلی حقیقت کا استنباط کیا اور وہ روح عصر جسے فرانس کے فکری انتشار میں سمیٹنا مشکل تھا اس کے افکار پریشاں میں یوں سمٹ آئی کہ پورا فرانس اس آئینے میں اپنی فطرت کا مشاہدہ کرنے لگا۔ چنانچہ مونتین کی اس خدمت سے انکار ممکن نہیں کہ اس نے فرد کو عصری حقیقت کا ایک نیا اور انوکھا روپ دکھانے کی کاوش کی۔ بیکن نے اپنے عہد کے متصادم میلانات اور برسرپیکار تصورات کو عصری آگہی کی نئی تعبیر سے ایک مثبت جہت دینے کی کاوش کی اور فرد کو ممنوعات کے ازدحام سے نکال کر فطری سطح پر زندگی گزارنے کی دعوت دی، انشائیہ کی یہ ابتدابے حد معنی خیز تھی تاہم اسے عصری آگہی سے براہ راست متعلق کرنے میں ایڈیسن اور سٹیل نے زیادہ گر انقدر خدمات سر انجام دیں۔ یہ انشائیہ نگار چونکہ اخبارات کے ساتھ وابستہ تھے اس لئے ان دونوں نے انشائیہ کو تہذیبی اصلاح کا وسیلہ بنانے کی کاوش کی۔ چنانچہ ایڈیسن نے انشائیہ کو ایسی مقراض قرار دیا ہے جس سے باغ کی روشوں کی شاخ تراشی کی جاتی ہے۔
انشائیہ میں عصری آگہی اپنے تصور کو جامد صورت میں پیش نہیں کرتی بلکہ اس کا مدار بھی ہمہ وقت گردش میں رہتا ہے۔ کبھی انشائیہ نگار اپنی ذات کے ایک نکتے کے انکشاف سے زمانے کو گرفت میں لے لیتا ہے اور کبھی زمانہ کائنات کے زینے سے ذات کے دروازے پر دستک دینے لگتا ہے، دونوں صورتوں میں انشائیہ نگار کسی تیز یا ترش رد عمل کا اظہار نہیں کرتا بلکہ وہ زمانے کی خلوت میں داخل ہونے کے لیے ہمارے سامنے اپنی شخصیت کا دریچہ کھول دیتا ہے۔ بالفاظ دیگر انشائیہ معاشرے کے اعمال و افعال کی ہر حرکت کو دیکھتا ہے اور اس کی ہر لرزش کو مہکے ہوئے پھول کی طرح اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے اور یوں انشائیہ نگار کی لوح دل سے جو نقش بھی ابھرتا ہے اس میں زمانے کی روح موجود ہوتی ہے۔
اردو کے بیشتر انشائیہ نگاروں نے بھی لمحے کی چاپ کو بگوش ہوش سننے اور عصری آگہی کو مختلف زاویوں سے پیش کرنے کی کاوش کی ہے، مثال کے طور پر انشائیہ ’’چوری سے یاری تک‘‘ از وزیر آغا میں انشائیہ نگار نے چوری کے پیشے پر انشائی نظر ڈالی اور نہ صرف تاریخ و تہذیب کی بعض معروف کروٹوں کو سمیٹ لیا بلکہ مویشیوں کی چوری سے لے کرثقافت کی نقالی تک سرقے کے بہت سے زاویوں کی طرف خوش طبعی سے اشارہ بھی کر دیا۔ کامیابی حاصل کرنا ایک صحت مند عمل ہے، لیکن موجودہ دور میں کامیابی کا ناجائز حصول ایک عصری حقیقت بن چکا ہے۔ انشائیہ ’’کامیابی‘‘ از اکبر حمیدی میں انشائیہ نگار اس عصری حقیقت کا مشاہدہ کرتا ہے لیکن جراحت پیدا کئے بغیر قاری کی زمام فکر ایک نئی اور صحت مند ڈگر پر ڈال دیتا ہے۔ انشائیہ ’’تمباکو نوشی‘‘ از جمیل آذر میں انشائیہ نگار کا مقصد اس قبیح عادت کی ضرر رسانیوں کی طرف توجہ دلانا نہیں لیکن اس حوالے سے عصر حاضر میں پلنے والی انائے کاذب اور تکبر بے جا کو بڑی خوبی سے اجاگر کیا گیا ہے۔ انشائیہ ’’جال‘‘ از سلیم آغا قزلباش میں غیر ملکی امداد سے پیدا ہونے والی ذہنی غلامی کی طرف بالواسطہ اشارے ملتے ہیں۔ انشائیہ ’’کرسی‘‘ از سلیم آغا میں انشائیہ نگار نے عصری آویزش اور سماجی کشمکش کا ایک زاویہ کرسیوں کی جنگ میں دیکھا ہے۔ وہ اس موضوع پر ایک حساس ادیب اور آسودہ انسان کی نظر ڈالتا ہے اور پست مقاصد میں ملوث ہوئے بغیر بلند تر مقاصد کی طرف پرواز کر جاتا ہے۔
مندرجہ بالا مثالوں کے اجمال سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ انشائیہ نگار اپنے عہد کے اعمال و افعال، سیاسی و سماجی تموج، فکر و نظر کے طغیان اور تہذیبی و معاشرتی کروٹوں پر ایک حساس اور تجربہ کار ادیب کی نظر ڈالتا ہے اور عصری حقیقتوں کو نئے نئے زاویوں سے اجاگر کرتا چلا جاتا ہے اور یہ تمام عمل کچھ اس طرح سے ظہور پذیر ہوتا ہے کہ انشائیہ نگار زمانے کے مواج سمندر میں گہرا غوطہ لگانے کے لئے ہر وقت بے تاب رہتا ہے اور جب زمانہ اس پر اپنے اسرار چھوٹے چھوٹے جگنوؤں کی صورت میں کھولنے لگتا ہے تو انشائیہ نگار انہیں صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ انشائیہ کی تخلیقی صورت دے کر دوستوں میں تقسیم کر دیتا ہے چنانچہ میری نظر میں انشائیہ لکھنا محض اظہار ذات ہی نہیں بلکہ یہ ایک کریمانہ عمل بھی ہے۔
(مطبوعہ: جدید اردو انشائیہ، مرتبہ اکبر حمیدی، اکادیمی ادبیاتِ پاکستان، اسلام آبا د، ۱۹۹۱ء )
حواشی:
۱۔ غلام جیلانی اصغر ’ انشائیہ‘، ’ادبی دنیا ‘، دور پنجم، شمارہ نہم
۲۔ بحوالہ: ’ پہلا پتھر ‘مقدمہ ’ ہم ہیں مشتاق ‘ ص: ۲۰
۳۔ بحوالہ: ’ایلیٹ کے مضامین ‘، مترجم: ڈاکٹر جمیل جالبی

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خیال نامہ

خیال نامہ

  • جولائی 10, 2019
’’ خیال نامہ ‘‘  السلام علیکم احبابِ گرامی! ہمارا معاشرہ بہت سے فکری مغالطوں اور ذہنی انتشار کا شکار   ہے
خیال نامہ

بانوکی ڈائری

  • جولائی 12, 2019
از : صا ئمہ نسیم بانو علم بالقلم وہ قادرِ مطلق, عظیم الشان خالق, تیرا رب جب آسمانی صحیفے کو