ہندوستان کے سوچنے والے ذہنوں کے نام

کالم نگار: یوسف خالد

ہندوستان آبادی،رقبہ، جہالت اور غربت کے حوالے سے ایک بہت بڑا ملک ہے –بہت سی زبانیں بہت سی قومیتیں بہت سے مذاہب اور ایک وسیع رنگ و نسل کی تقسیم نے ہندوستان کو انتظامی لحاظ سے کنٹرول کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

       پورے ملک میں غربت ،جہالت اور انتہاپسندی کے باعث ایک مستقل شورش بپا رہتی ہے – ایسے حالات میں ہندوستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روس کی طرح بہت سی ریاستوں میں تقسیم ہو جائے – تاکہ ہندوستان کے لوگ اور برصغیر کے لوگ غربت ،جہالت اور انتہا پسندی کے خلاف اقدامات کر سکیں – فطری طور پر ہندوستان کا متحد رہنا ممکن نہیں رہا — ہندوستان کے سکھ ،مسلمان،دلت،کشمیری اور دیگر بہت سی قومیں محض ہندوؤں کے غلام بن کر نہیں رہ سکتے-

        یہ غیر فطری اتحاد اسی طرح کا ہے جس کا ادراک قیام پاکستان کے لیے علامہ اقبال اور قائدِ اعظم نے کیا تھا-ہندوستان کے لوگوں کو اپنے روشن مستقبل کے لیے سوچنا چاہیے  اور سیاسی طور پر اس سوچ کو اپنانا چاہیے کہ چھوٹے یونٹ ہی انتظامی طور پر خوشحالی کے ضامن ہو سکتے ہیں – اگر ہندوستان کی تقسیم نہ ہوئی تو پورا برصغیر جہالت اور غربت کے شکنجے سے نہیں نکل سکے گا -اور اگر بہت سی ریاستیں وجود میں آگئیں تو باہمی یگانت اور بھائی چارے میں زبردست اضافہ ہو گا –

     اس وقت ہندوستان کے زیرک لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جمود کو توڑیں اور نئی صبح کا آغاز کریں-

یوسف خالد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post