پانچ ڈالر کی نظم : منیرفراز

امریکہ کی ایلا ویلر ولکوکس کی نظم(solitude) “خلوت” جو آج سے لگ بھگ ڈیڑھ سو سال قبل لکھی گئی، میں ان کی یہ نظم” عالمی ادب کے اردو تراجم” گروپ سے اپنے کالم میں اٌٹھا لایا ہوں، صرف یہ بتانے کے لئے کہ یہ نظم پہلی بار امریکہ کے “نیویارک سن” میں شائع ہوئی تھی اور اس نظم کا معاوضہ ولکوکس کو پانچ ڈالر ملا تھا ۔یہ ایک جذبے کی نظم تھی جب ولکوکس نے ایک سفر کے دوران ایک جوان بیوہ عورت کو روتے دیکھا تھا وہ اس کے ساتھ بیٹھ گئی تھی اور دورانِ سفر اس کی غمگسار میں مصروف ہوگئی تھی ۔ میں اس نظم کو جذبے کی نظم کیوں کہہ رہا ہوں؟ اس لئے کہ ولکوکس نے اس تقریب، جس میں وہ خوشی خوشی شرکت کے لئے جارہی تھی، بڑی افسردہ دلی سے شرکت کی، واپسی پر جب اس نے اپنا دھمکتا چہرہ آئینے میں دیکھا تو اسے اس سیاہ پوش بیوہ عورت کا چہرہ یاد آگیا جو دورانِ سفر اسے روتی ہوئی ملی تھی، تب اُس نے اس نظم کی پہلی لائن لکھی ، یہ تب ہی لکھی جاسکتی تھی ۔
ہنسو تو دنیا تمہارے ساتھ قہقہے لگاتی ہے
روؤ تو تم تنہا ہی اشک بہاتے ہو

کیا یہ لائن جذبے سے عاری ہے؟ ایسا نہیں کہ اس نے ایئر کنڈیشن کمرے میں بیٹھ کر شارع عام پر روتی ہوئی ایک عورت کو دیکھا اور ملازم سے قلم کاغذ منگوا کر اس پر نظم لکھ دی۔ وہ کرائے کی نظم نگار نہیں تھی ، وہ نشستوں کے درمیان بیٹھی عورت کے ساتھ بیٹھ گئی تھی اور اُس نے اُس کے آنسو صاف کئے تھے ۔جب تک آپ اس کیفیت سے نہ گزریں، جذبے کی نظم نہیں لکھ سکتے، اس میں تصنع آئے گا اور وہ تخلیق ایک محدود وقت میں کچرے کے ڈبوں میں پہنچ جائے گی ۔دنیا کا سارا زندہ ادب جذبہ نگاری کے ستونوں پر کھڑا یے۔ یہ نظم بھی انہی میں سے ایک ہے اور یہ مجھے یوں ہی یاد نہیں آگئی ۔
عالمی ادب کے اردو تراجم گروپ میں رومانیہ نور صاحبہ طویل عرصہ سے مغربی ادب کے، بالخصوص افسانے اور شاعری کے تراجم پیش کر رہی ہیں اور اپنے پڑھنے والوں کا وسیع حلقہ رکھتی ہیں اس گروپ سے انہوں نے ناموری حاصل کی اور اردو پڑھنے والے باذوق احباب تک ان کی تحریریں پہنچیں اُن کا شاید ہی کوئی ترجمہ ایسا ہو جو میری نظروں سے نہ گزرا ہو اور میں نے اُن کے تراجم سے لطف نہ اٹھایا ہو وہ خاموشی سے کتابیں پڑھتی رہتی ہیں اور ایک روز کسی چونکا دینے والی تحریر کے ساتھ سامنے آتی ہیں وہ یہ سب شوقیہ کر رہی ہیں، غیر کسی ستائش اور تمنا کے ۔ ایلا ویلر ولکلوکس کی جس نظم کا ذکر میں آپ سے کر رہا ہوں یہ نظم رومانیہ نور کا نیا ترجمہ ہے جو آج ہی عالمی ادب کے اردو تراجم کے گروپ میں پبلش ہوا ہے میں یہ نظم اور اس کا ترجمہ ان کی اجازت کے بغیر ہی اپنے آج کے کالم میں پیش کر رہا ہوں، آپ اسے پڑھیں اور دیکھیں کہ فنِ ترجمہ نگاری میں کوئی مترجم کس درجہ کمال پر پہنچ سکتا ہے کہ وہ ترجمہ تخلیق کے برابر کھڑا ہوجاتا ہے ۔ یہ ترجمہ بھی اسی جذبے سے لکھا گیا جس جذبے سے نظم لکھی گئی ہے اور دیکھیں کہ اس نظم میں کس قدر سچائیاں بیان کی گئی ہیں، محسوس کریں کہ ڈیڑھ سو سال بعد بھی کچھ نہیں بدلا، نہ انسان، نہ اُن کے رویے، مشرق، نہ مغرب ۔ میں نے جب سے یہ ترجمہ پڑھا ہے اس کی خوبصورتی اور سحر انگیزی میں ایسا گم ہوں کہ خود کو اسی ماحول میں دیکھتا ہوں جس میں ولکوکس اس بیوہ کے ساتھ بیٹھی ہے۔ میں بھی ایسے ماحول میں بیٹھتا رہا ہوں اسی لئے ڈیڑھ سو برس قبل لکھی جانے والی یہ نظم مجھے آج کی نظم معلوم ہوتی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ولکوکس شاید رومانیہ نور کے شہر ملتان کی نظم نگار ہے اور اس نے براستہ خانیوال یہ نظم عوام ایکسپریس کی مڈل کلاس بوگی میں بیٹھ کر لکھی ہے جہاں اسے میاں چنوں کی سیاہ پوش بیوہ ملی ہے اور یہ جو چپ چاپ ان دونوں کو بیٹھے دیکھ رہی ہے یہ رومانیہ نور ہے جس نے ڈیڑھ سو سال بعد اس نظم کا ترجمہ کرنا ہے اگر وہ اس ماحول کو نہ دیکھے گی تو ایسا ترجمہ کیسے کرسکے گی ۔ نظم پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں دو چار حقیقتیں نمایاں ہوئی ہیں
ہر بڑا شاعر حساس ہوتا یے
بنیادی انسانی مسائل اور دکھ ایک سے ہیں
گردشِ ایام میں منہ پھیر جانا انسانی فطرت یے
ہنسی ہر ملک میں لطف کا نام ہے
ہر ملک کے آنسو نمکین ہیں
ہر لہو سرخ ہے
اور سب سے تلخ حقیقت، سرمایہ دارانہ نظام، مغرب کی ایلا ویلر ولکوکس کو اس عالمگیر نظم کے” نیویارک سن” سے پانچ ڈالر ملے تھے، صرف پانچ ڈالر، اور اس نظم کا ایسا دلکش اور مکمل ترجمہ کرنے پر مشرق کی رومانیہ نور کو ایک ڈالر بھی نہیں ملے گا ۔
سلیم احمد نے کہا تھا
محلے والے میرے اس کارِ بے مصرف پہ ہنستے ہیں
میں بچوں کے لئے گلیوں میں غبارے بناتا ہوں

رومانیہ نور! تم نے بھی اس کارِ بے مصرف کے بجائے کوئی ڈھنگ کا کام سیکھا ہوتا

*** *** ** **** ** *** * ** ***

خلوت
شاعرہ : ایلا ویلر ول کاکس (امریکہ)
مترجم : رومانیہ نور (ملتان)

ہنسو تو دنیا تمہارے ساتھ قہقہے لگاتی ہے
روؤ تو تم تنہا ہی اشک بہاتے ہو
کہ افسردہ بوڑھی زمین کو بھی مسرت ادھار لینی پڑتی ہے
جب کہ آزار کے اس کے اپنے ہی انبار ہیں.
گاؤ تو کوہساروں کی ندا تال ملاتی ہے
آہ بھرو تو وہ خلا میں کہیں کھو جاتی ہے
بازگشت بھی صدائےطرب کی پابند ہے,
مگر پروا کے بولوں سے دامن چھڑاتی ہے۔

مسرور ہو تو لوگ تمھیں ڈھونڈ نکالیں گے
مغموم ہو تو رخ موڑ لیتے ہیں تمھیں چھوڑ دیتے ہیں
وہ تمہارے نشاط کا پیمانہ بھرا چاہتے ہیں
مگر تمہارے رنج انہیں درکار نہیں۔
شاد رہو تو تمہارے دوست بے شمار ہیں
اداس رہو تو دامن خالی رہ جائے
کوئی نہیں جو تمہارے امرت کو ٹھکرائے
مگر زہر زندگانی کا تنہا ہی پینا پڑتا ہے۔

ضیافت کرو تو بیکراں ہجوم ہے
فاقہ زد ہو تو پرسان حال کون ہے.
یہ دستگیرِ زندگی اسی کے ، جو بامراد و صاحب عطا ہے
مگر ہر شخص لمحۂ اجل سے دست کَشا ہے۔
عشرت کے ایوانوں میں ایک گوشہ مختص ہے
ایک بڑی اور شاہانہ قطار کے لیے
درد کی تنگ راہداریوں سے گزر کر
ایک کے بعد ایک ، ہم کو قطار میں لگنا ہے.

Solitude
Poetess; Ella Wheeler Willcox
(November 5,1850 to October 30, 1919 ) America

Laugh, and the world laughs with you
Weep, and you weep alone
For the sad old earth must borrow its mirth
But has trouble enough of its own
Sing, and the hills will answer
Sigh, it is lost on the air
The echoes bound to a joyful sound
But shrink from voicing care

Rejoice, and men will seek you
Grieve, and they turn and go
They want full measure of all your pleasure
But they do not need your woe
Be glad, and your friends are many
Be sad, and you lose them all
There are none to decline your nectared wine
But alone you must drink life’s gall

Feast, and your halls are crowded
Fast, and the world goes by
Succeed and give, and it helps you live
But no man can help you die.
There is room in the halls of pleasure
For a large and lordly trai
But one by one we must all file on
Through the narrow aisles of pain

 

You might also like
  1. yousaf+khalid says

    عمدہ نظم کا عمدہ ترجمہ — دکھ کی کوکھ سے جنم لینی والی پر اثر نظم

    1. منیرفراز says

      شکرگزار ہوں محترم
      درست کہا، بلاشبہ اس نظم نے دکھ کی کوکھ سے جنم لیا ہے
      خالص جذبے کی نظم

  2. younus khayyal says

    بہت عمدہ کالم ۔۔۔۔۔
    نظم کاترجمہ بھی عمدہ ۔۔۔
    سلامت رہیں منیر فرازصاحب

    1. منیرفراز says

      ڈاکٹر صاحب آپ کی محبتوں کا شکریہ
      یہ کالم باذوق پڑھنے والوں تک پہنچا دیا

  3. رومانیہ نور says

    ترجمہ کرتے ہوئے مجھے بالکل بھی احساس نہیں تھا کہ یہ آپ کو اس قدر متاثر کرے گا اور آپ میں ایسا جذبہ جگائے گا جو آپ کو کالم لکھنے کی تحریک دے گا۔ میں اس انداز پذیرائی پر دلی طور پر متشکر ہوں ، کسی فن کار کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو گا کہ اس کے فن کو فخریہ طور پر کوئی دوسروں کے سامنے رکھ دے۔
    بات آپ کے انداز نگارش کی ہو تو آپ خود شاہ جذبات نگاری ہیں۔
    آپ کی کون سی ایسی تحریر ہے جس نے دلوں پر لگا زنگ نہ کھرچا ہو، سر زمین دل پر آنسووؤں کا مینہ نہ برسایا ہو
    جو دل پے گزرتی ہے وہی رقم کرتے ہیں
    کوئی پریوں کی کہانی تحریر نہیں کرتے۔
    یہ صرف آپ جیسے حساس دلوں کا ہی کار مشکل ہے ، ورنہ کون کسی کے ساتھ روتا ہے ، زہر زندگانی پیتا ہے۔۔۔ ۔۔۔۔
    اللہ جی آپ کے علم و ہنر اور فکر و تدبر میں خوب اضافہ فرمائے۔

    1. منیرفراز says

      رومانیہ نور صاحبہ!
      یہ ایک مکمل، خوبصورت اور اعلی ادبی معیار کا ترجمہ ہے
      اسی خالص پن نے مجھے کالم کی تحریک دی

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post