میں جانتا ہوں آزادی کا مفہوم : منیرفراز

برازیل کے شہرہ آفاق ناول نگار پاؤلو کوئلہو نے اپنے ناول “الکیمسٹ” میں جگہ جگہ حکمت و دانائی کے نگینے بکھیرے ہیں مثلاً ایک جگہ انہوں نے لکھا ہے
“چرواہا اُون کے عرب سوداگر کی باتیں غور سے سننے لگا ۔
سوداگر نے کہا ” مکتوب”، لکھا جا چکا ہے ۔ کائنات کے وجود میں آنے کے بعد سے ختم ہونے تک ،جو کچھ ہونا ہے، سب لکھا جا چکا یے ۔
” مکتوب ؟” وہ حیران ہوا، یہ لفظ چرواہے کے لئے نیا تھا ۔
” مجھے اِس کا مفہوم بتاؤ” چرواہے نے کہا۔
عرب سوداگر اُس کی طرف دیکھ کر زیرِ لب مسکرایا۔
“مفہوم….، مفہوم جاننا چاہتے ہو؟ ، سنو! مفہوم جاننے کے لئے تمہیں عرب گھرانے میں پیدا ہونا پڑے گا ”
پاؤلو کوئلہو نے بڑے ہی دلکش پیرائے میں لفظ کی حرمت، تقدس اور اہمیت بیان کر دی ہے ۔ گویا لفظ اپنے اندر معنی کا جہان رکھتے ہیں جن کا مفہوم سمجھنے کے لئے اُن گھرانوں اور اُس سماج میں پیدا ہونا پڑتا ہے، اٌن معاشروں کے رسم و رواج، تہذیب و تمدن سے واقف ہونا پڑتا ہے جہاں سے کوئی لفظ اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے ۔ لفظوں کی جڑیں بہت گہری ہوتی ہیں۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ جو گذشتہ پون صدی سے ہم ایک لفط “آزادی” بولتے اور سنتے چلے آرہے ہیں اور جس کی بازگشت اگست کے مہینہ میں کثرت سے سنائی دیتی ہے، ہم اس کے مفہوم سے آگاہ بھی ہیں کہ نہیں؟ اور کیا آزادی ہم پر اپنی روح کے ساتھ نچھاور ہوئی بھی ہے کہ نہیں اور ہم اس سے بعینہ اس طرح لطف اندوز ہورہے ہیں جس طرح ہم دنیا کے بعض خوشحال معاشروں کو دیکھتے ہیں؟
میں جب اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں اور سماجی حالتِ زار، سیاسی کساد بازاری، شعبہ ہائے علم و ہنر اور اہلِ علم کی بے توقیری، بنیادی ضروریاتِ زندگی سے بے بہرہ پسا ہوا طبقہ اور بے نام منزل کی طرف بھاگتے ہانپتے لوگوں کے ہجوم کو دیکھتا ہوں تو اٌمید کا علمبردار ہونے کے باوجود مجھ پر یاسیت چھا جاتی ہے اور مجھ پر کُھلتا ہے کہ جیسے آزادی کا اصل مفہوم ہم تک نہیں پہنچا ۔ ایک آزاد ملک میں پیدا ہونے کے باوجود کم ازکم مجھ پر آزادی کا مفہوم واضح نہیں ہوسکا ۔مجھے نہیں معلوم کہ آزاد معاشروں میں رہنے کا لطف کیا ہے، اور ایسے معاشروں میں انسانی ذہن کی نشو نما کس قدر تندرست و توانا ہوسکتی ہے اور وہ تعمیری بنیادوں پر کس طرح سوچ سکتے ہیں اور وہ ذہن ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں کس قدر معاون ثابت ہو سکتے ہیں ۔ معاف کیجئیے گا، یہ آزادی وہ نہیں جو ہم نے مشرق اور مغرب کے ماحول کے درمیان تصور کر رکھی یے، اس آزادی کا مفہوم کچھ اور ہے ۔
ذرا سوچیں اگر آئی ایم ایف کے قرض سے ہم واقف ہی نہ ہوتے، ہمیں کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہ ہوتی، دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے لفظ ہماری سماعتوں سے نہ ٹکرائے ہوتے، درس گاہوں اور طبی سہولتوں کا جال بچھا ہوتا، کرپشن ہمارے پاس سے نہ گزری ہوتی، بجلی گیس اور ٹیکس چوری کی ہمیں عادت نہ ہوتی اور سب سے بڑھ کر ہمارا ہر پیدا ہونے والا بچہ ایک لاکھ بارہ ہزار روپے کا مقروض نہ ہوتا تو اس صورت میں ہم آزادی سے کس طرح لطف اٹھا سکتے تھے؟ ۔ کھلی فضاؤں میں سانس لینے کا تجربہ کبھی تو آپ کو ہوا ہو گا؟
یہ درست ہے کہ ہم ایک آزاد ملک کے باسی ہیں ہماری اپنی سرحدیں ہیں، اپنی پارلیمنٹ ہے، عدلیہ ہے، اپنا پاسپورٹ، سبز ہلالی پرچم، تہذیب و تمدن آرٹ، ادب ، دریا، بہاریں لیکن آزادی اپنے اندر کچھ اور گہرے مفہوم بھی رکھتی ہے۔
لکھا جا چکا ہے۔ کائنات کے وجود میں آنے کے بعد سے ختم ہونے تک جو کچھ ہونا ہے،سب لکھا جا چکا یے ۔
آزادی کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ عرب سوداگر نے کہا تھا۔ مفہوم جاننے کے لئے تمہیں عرب گھرانے میں پیدا ہونا پڑے گا۔
آئیے ہم مل کر اپنے وطن کی داخلی فضاؤں کو اس گلشن میں سرسراتی ہواؤں کو معطر کریں اور آزادی کے مکمل مفہوم کو عام کرنے کے لئے عملی اقدامات اُٹھائیں، ہم نہ سہی ہماری اگلی نسلیں آزادی کے مکمل مفہوم سے لطف اندوز ہو سکیں۔
اور پھر کبھی ہمارا بھی کوئی چرواہا “الکیمسٹ” ناول سے ماخوذ تھر کے کسی لق و دق صحرا میں اُون کے کسی عرب سوداگر سے آزادی کا لفظ سنے تو کُھلی فضا میں گہری سانس لیکر، سر اُٹھا کر کہہ سکے
میں جانتا ہوں آزادی کا مفہوم، کیونکہ میں ایک آزاد ملک میں پیدا ہوا ہوں ۔
پھر اگلے کسی ناول میں برازیل کا پاؤلو کوئلہو سانتاگون کا نہیں، پاکستانی چرواہے کا حوالے دے ۔

You might also like
  1. younus khayyal says

    کھردرے لفظوں کے پیچھے وطن کی مٹی سے محبت کی نرماہٹ لیے مایوسی اوردرد کے کئی پہلو اور مفاہیم اچھالتا خوب صورت کالم۔
    سلامت رہیں آپ ۔

  2. گمنام says

    نرم لفظوں سے بھی چوٹ لگ جاتی ہے
    آپ کی تحریر نے یہ ثابت کر دیا
    اے خاک وطن ! ہم شرمندہ ہیں
    ابھی تک اپنی نسل میں آزادی کا مفہوم اور شعور پروان نہ چڑھا سکے

  3. رومانیہ نور says

    بے حد خوب صورت ، دعوت فکر دیتی ہوئ چشم کشا تحریر ہے۔
    لفظوں اور فلسفوں کا بوجھل پن نہیں
    بس اک لفظ “آزادی” میں فکر کا اک جہان سمو دیا۔ یہ آپ ہی کا انداز سخن ہے کہ بات طبیعت پر گراں بھی نہیں گزرتی اور دل کو بھی چھو جاتی ہے۔
    ہمیں آزادی تو عطاہو گئی ہے
    کاش آزادی کا مفہوم بھی عطا ہو جائے
    اس کے لیے ابھی معلوم نہیں کوششوں اور قربانیوں کا سلسلہ کتنا دراز ہے۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post