مختاراٸے ادب : اقتدار جاوید

 

مختارا بالاخر منظر عام پر آ گیا ہے اور اپنے مربی کے ساتھ ایک سرسبز لان میں خوش بخوش دیکھا گیا ہے اور اس نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ اس نے دی گٸی مغلظات کو محبت سمجھا اور تبرک جان کر حذر جان بنایا ہے اور یہ کہ اس نے محبت بھری دشنام کو سینے سے لگایا ہے اور یہ بھی کہ بیس دن کے آٸسولیشن کے بعد وہ کافی مطمٸن ہے اور حافظ آباد میں بیوی بچوں کے ساتھ محفوظ رہا ہے۔اس کی باتیں سن کر تسلی ہوٸی کہ ابھی اگلی شرافت کے نمونے پاٸے جاتے ہیں
اور بقول حالی
بڑا جی خوش ہوا حالی سے مل کر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
سو میں نے بھی منظر عام پر آنے کا سوچا۔ میں ایک ادبی مختارا ہوں اور میں پہلا ادبی مختارا ہوں جو اپنے مختارے ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔یوں تو ہر جگہ پر مختارے ہیں البتہ وہ اعلان اور اعتراف نہیں کر رہے مگر فاٸدے وہ مختارے ہونے کے حاصل کر رہے ہیں۔ محبت بھری گالیوں میں ماٸنڈ کرنے کی کیا ضرورت ہے اور جز بز ہونے کی بھی چنداں ضرورت نہیں کہ میری تربیت ہی بطور مختارا ہوٸی ہے۔میری خوش بختی کہ ادبی کیریر کے شروع میں ہی مجھے استاد لگڑ بھگڑ موڑوی کی صحبت میسر آ گٸی۔جب میں ان سے موڑوی کے بارے میں استفسار کیا تو استاد نے کہا کہ اس نے جدید غزل کو اتنے موڑ دیے ہیں کہ مناسب سمجھا کہ موڑ کو ہی اپنے نام کا حصہ بنا لیا جاٸے۔استاد نے پہلے دن ہی ایک گر کی بات بتا دی تھی کہ اگر ادب میں صدیوں تک زندہ رہنے کی طلب اور تڑپ ہے، اور چاہتے ہو کہ تمہارا نام فیض منیر نیازی اور ظفر اقبال کے ساتھ لیا جاٸے تو خوشدلی سے مختارا بننا قبول کرنا ہو گا۔
استاد زمان لگھڑ بھگڑ موڑوی نے ادبی دنیا میں کامیابی کے بڑے بڑے گر بتاٸے جس میں اول یہ تھا کہ ہمیشہ بڑوں کی ٹانگ کھیچنی ہے اور کوٸی منع بھی کرے تو باز نہیں آنا بلکہ بڑوں کے سامنے سینہ تان کر چلنا ہے۔دوٸم یہ کہ نسبتاً غیر معروف شعرا کے کلام پر ہاتھ مارنا ہے اور اسی کلام کو بالکل نٸے انداز میں پیش کرنا ہے۔ سوٸم کسی بڑے مشہور شاعر کی کسی مشہور غزل کے بارے میں خوب گرد اڑانی ہے اور کہنا ہے کہ یہ مختارے کا کلام چوری کیا گیا ہے اور احساس ِجرم کو نزدیک بھی نہیں آنے دینا اور نہ پشیمان ہونا ہے بلکہ ایک آدھ اور غزل پر ہاتھ صاف کر لینے ہیں۔پھر استاد نے ادبی رساٸل کے بارے میں گل افشانی کی اور بتایا ادبی جریدہ وہ گولہ بارود ہے جو کسی کو بھی بھسم کر سکتا ہے سو اس گولے بارود کی زد میں نہ آنا اور مدیران سے بنا کے رکھنی ہے۔ساتھ ساتھ ہم نے از خود استاد عروضی سے بھی دوستی گانٹھ لی جس کے لگڑ بھگڑ موڑوی نے ہمیں بہت داد دی اور ہمارا منہ چوم لیا۔
میں نے استاد عروضی کے سامنے بھی زانوٶے تلمذ تہہ کیا اور ایک عشرہ تک تہہ کیے رکھا آخر کار استاد نے خود ہی تنگ آ کر تہہ کیا زانو کھول دیا مگر میں نے برا نہیں بنایا
کہ ادب پہلاقرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔
دس سال تک میں نے یہ سبقِ عروض لیا۔ استاد نے ہمیں مختلف بحروں کے نام یاد کرنا شروع کیے مگر ان بحروں کے نام ہی بہت مشکل تھے جیسے
بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف /فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن
ایک بحر تھی
بحر ہندی/ متقارب اثرم مقبوض محذوف مضاعف اس میں بھی آٹھ فعلن آتے تھے۔ایک اور بحر بہت ہی مشکل تھی
رجز مثمن مطوی مخبون اور اس کا وزن تھا مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
مگر میں نے آسان بحریں چن لیں اور ان میں خوب اشعار کہے
جیسے رب کا شکر ادا کر بھاٸی
جس نے ہماری گاٸے بناٸی
اور
اک تھا گیٹو گرے اک تھا گیٹو گرے
استاد عروضیے نے ہمیں ان بحروں کو یاد کرنے کا حکم دیا۔یہ بحریں تو ہم یاد نہ کر سکے مگر ہم پر عروضیے کا ٹھپہ لگ گیا تو لوگوں نے ہم سے دور دور رہنا شروع کیا۔ہم عروضی کے مختارے کیا بنے کوٸی ہمیں گھاس ڈھالنے کو تیار نہ تھا مطلب کہ ہمیں مشاعروں میں دعوت ہی نہیں دی جاتی تھی۔دعوت کی تو خیر کوٸی بات نہیں تھی ہم بن بلاٸے بھی چلے جاتے تھے کیونکہ عروضی استاد الم غلم نے نصیحت کی ہوٸی تھی بیٹا مختارے جان چلی جاٸے پروا نہیں مشاعرہ نہیں چھوڑنا۔ہم نے آج تک وہ نصیحت پلے باندھی ہوٸی ہے کوٸی بلاٸے نہ بلاٸے ہم مشاعرہ گاہ میں پہنچ جاتے ہیں۔جب گگو منڈی میں مشاعرہ ہوا تو ہم عازم سفر ہوٸے رستے میں بس خراب ہو گٸی مگر ادب کی لگن تھی کہ ہم چنگچی پر بیٹھ کر وہاں پہنچ گٸے۔
ہمارے ادبی اختلافات کی ایک تاریخ ہے جس پر تنقید نگاروں نے ابھی پوری توجہ نہیں دی۔ یہ اختلافات۔ اس وقت شروع ہوٸے جب استادِ زماں لگڑ بھگڑ ٹھینگ موڑوی کو مخالفوں نے چیچو کی ملیاں میں حسب وعدہ مہمان اعزاز بنانے کا کہہ کر مکر گٸے اور کہا کہ اگلے مشاعرے میں جو جھاوریاں میں ہو گا اس میں کسریں نکال دیں گے وہاں بھی استاد کو سٹیج پر نہیں بٹھایا گیا تھا۔
چھری اچھروی اور ملیامیٹ تنقیدی سے ہماری پہلے گاڑھی چھنتی تھی کونکہ ہم تینوں استاد بھاٸی تھے۔استاد ہمیں شاعری کے گر سکھاتے تھے اور ملیامیٹ تنقیدی کو تنقید کے دھوبی پٹڑے لگانے کا داو سکھاتے تھے۔ملیا میٹ تنقیدی سے ہمارے اختلافات کو دنیا جانتی ہے اور اب بھی ادبی دنیا میں اسکی گونج سناٸی دیتی ہے۔آج مختارا منظر عام پر آ گیا ہے اور وہ راز افشا کرنے جا رہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے راستے جدا ہوٸے۔ماہنامہ “میل کچیل” میں اس کا ایک مضمون بعنوان ” کلچے کی ادبی اہمیت، مباحث تاریخی تناظر میں “شاٸع ہوا۔اس مضمون میں کلچے کی ادبی تاریخ میں تنقیدی نے ڈنڈی ماری اور کہا کہ شعرا کلچہ پانی کےساتھ بھی کھاتے رہے ہیں ڈیڑھ پاو دہی کلچے کے ساتھ ہر گز ضروری نہیں ۔استاد لگڑ بھگڑ نے ہمیں ارشاد کیا مختارے اللہ کا نام لے کر پڑ جاو ہم نے جواباً اگلے شمارے میں “شربت روح افزا، جدید تھیوری اور اردو تنقید” لکھ کر حساب برابر کر دیا اور ساتھ ہی اس کے خاندانی احوال لکھ کر اس کے وہ پرخچے اڑاٸے کہ توبہ ہی بھلی۔ اس تاریخ ساز اور رجحان ساز پرچے میں خطوط کا سیکشن میرے ظالم خط سے شروع ہوتا تھا کونکہ مدیر میل کچیل کی ہم اکثر تواضع کرتے تھے۔ہمارے کہنے پر ملیامیٹ تنقیدی کے مضامین سے کٸی ضروری جملے حذف کر دیے جاتے تھےاور بسا اوقات فہرست سے اس کا نام بھی دانستاً نہیں لکھا جاتا تھا اور اگلے شمارے میں معذرت شاٸع کروا دی جاتی تھی۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post