شاعروادیب کی سبکدوشی ضروری ہے : خ.ق.تنولی


خالد قیوم تنولی
ڈاکٹر انور سدید (مرحوم) سے بہت سی ملاقاتیں رہیں۔ وہ تقریباً نوے برس کے قریب تھے۔ جذبہ جوان تھا مگر شیاٹیکا کے مرض سے اکتا چکے تھے۔ ایک دو بار ایسا ہوا کہ انھیں فون پر اپنی لاہور آمد کے بارے بتایا اور ملاقات کی اجازت چاہی تو انھوں نے ترنت انکار کر دیا مگر ساتھ ہی واضح بھی کر دیا کہ اس وقت کمر کی شدید تکلیف میں مبتلا ہوں‛ گفتگو کا لطف غارت ہو جائے گا لیکن پانچ سات گھنٹوں بعد خود ہی فون پر پوچھ لیتے کہ کہاں ہو ‛ آجاؤ۔
زود نویس تھے۔ کہنے لگے: “نوائے وقت سےطویل عرصہ تعلق رہا۔ قویٰ جواب دے گئے تو نظامی صاحب کو استعفیٰ پیش کر دیا کہ اب تھک گیا ہوں۔ ریٹائر کیجیے۔”
نظامی صاحب سن کر ہنسے اور کہا : “ادیب کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتا۔ آپ بے شک دفتر نہ آیا کریں مگر کام جاری رکھیے۔”
ہم نے کہا : “بات تو نظامی صاحب نے درست ہی کہی۔”
بولے : “نہیں یار ‛ ہر شے کی ایک ڈیٹ آف ایکسپائری ہوتی ہے۔ طبعی موت سے پہلے بہت کچھ ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ راوی بولتا رہتا ہے لیکن سامعین سو جاتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ ادب کی نہیں بلکہ ادیب کی ہوتی ہے بلکہ ہوتی کیا ہے ہونی چاہیے۔ خود کو دہرانے سے بہتر ہے خاموش ہو لیا جائے۔”
ہم نے حجت کی : “بڑھاپا تو تجربات کا خزینہ ہوتا ہے۔ خود کو دہرانے والی بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی ۔۔۔”
“او یار عزیز ! بڑھاپا بار بار چلا ہوا کارتوس ہوتا ہے۔ ٹھس ٹھس ٹھس۔ ایک دیوار سے لگے ہوئے فرد کا مشاہداتی سفر چاردیواری سے آگے نہیں بڑھتا۔ وہ ناسٹلجک ہو جاتا ہے۔ بیان کر چکے افکار کا ورد شروع کر دیتا ہے۔ اپنی ہی کتابوں سے الرجی ہونے لگتی ہے۔ ستارے کی توانائی خرچ ہو جائے تو وہ بلیک ہول میں بدلنے لگتا ہے۔ ایک اور قباحت یہ بھی کہ بعض لوگ اپنی ہی اذکار رفتہ تخلیقات سے طفیلیا بن کر چمٹ جاتے ہیں۔ نئی نئی توجیہات گھڑنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ سامعین کو جگائے رکھیں۔”
اس مقام پر ہماری ہنسی چھوٹ گئی اور ہم نے تپائی پر پڑے ایک قدیمی گول جستی کنٹینر میں سے بسکٹ نکالا ‛ کہا : “کوئی مثال؟”
فرمایا : “انور مسعود ‛ اس کی ایک پنجابی نظم ہے “امبڑی” ‛ سنی تو ہو گی۔ مشاعروں کی چکی میں اس نظم کو خوب باریکی سے پیسا گیا ہے ۔۔۔ لیکن ایک ہی راگ ہمیشہ مرغوب نہیں رہتا۔ اب چونکہ انور مسعود بار بار ٹھس ہو چکا تو وہ اس نظم سے طفیلیا بن کر لپٹ گیا اور اب مشاعروں کے سامعین کے جذباتی استحصال پر اتر آیا۔ ۔ ۔ اور ایک نئی کہانی گھڑ لی کہ اس نظم میں جو ماسٹر جی کا کردار ہے‛ وہ دراصل انور مسعود خود ہے۔ حالانکہ یہ سچ نہیں۔ لیکن چونکہ انور مسعود کے پاس کچھ تازہ مال نہیں رہا تو پرانے پر ہی ٹاکی پھیر کر اسے نیا بتا کر پیش کر رہا ہے۔ باقی چند معروف نظموں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ ۔ ۔ تو میرا خیال ہے ایسا وقت آنے سے بہتر ہے کہ انسان بھرے میلے سے آپ ہی آبرومند ہو کر نکل جائے۔”
ڈاکٹر صاحب کی بیان کردہ اس مثال سے ہم آج بھی متفق ہیں اور کئی مثالیں ہم نے خود بھی دیکھی ہیں جو ہنوز ریٹائر ہونے پر تیار نہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو سرکاری ادبی اداروں کے وجود سے جونک بن کر چمٹی ہوئی ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post