سیاستدانوں کے غیر سنجیدہ رویے: یوسف خالد


یوسف خالد
جھوٹ کی فرماروائی کے سبب
ہر حقیقت  ہو گئی  زیر و  زبر
سیاستدانوں کے غیر سنجیدہ رویے ،کرپشن،اقربا پروری ،جھوٹ ،فریب ،مکاری اور حقائق کو تسلیم نہ کرنے کی روش نے عام آدمی کو انتہائی ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے –
اکثر سیاست دانوں کو اپنی کہی بات اور وعدے کا پاس نہیں – صورت حال اس قدر تشویش ناک ہے کہ اب سیاستدانوں کی باتوں پر کوئی اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں – یہ بار بار بیان بدلتے ہیں اپنی کہی ہوئی باتوں سے منحرف ہو جاتے ہیں اور انہیں ملال تک نہیں ہوتا ان کا ہر دعویٰ بے بنیاد اور لغو ہوتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک فریب اور جھوٹ کی صورت میں عوام کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے – عوام کو اصل صورت حال سے با خبر رہنے کے لیے ذرائع ابلاغ پر انحصار کرنا پڑتا ہے مگر وہاں بھی اتنی گرد اڑ رہی ہے کہ کوئی منظر بھی صاف نطر نہیں آتا- ٹی وی ٹاک شوز نے عام آدمی کو کچھ شعور تو دیا ہے مگر یہ شعور عام آدمی کو مناسب فیصلے کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوا بلکہ ایک فکری انتشار کی صورت اختیار کر گیا ہے –
سیاستدانوں کے وڈیو کلپس دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ مسلسل جھوٹ بولنے کی کوئی مشق ہو رہی ہے — جھوٹ گویا کوئی برائی نہیں رہی — اتنے تواتر اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ اب اگر کوئی سچی بات بھی کرے تو یقین مشکل سے ہی آتا ہے – معاشروں کے لیے ایسی فکری بے سمتی اور بے یقینی کبھی بھی سود مند نہیں ہوا کرتی – ہم بہت تیزی سے ریاست کے نظام اور انداز حکمرانی سے بےزار اور مایوس ہو رہے ہیں – ہماری ذہنی حالت ہمیں ایک اجتماعی پاگل پن کی جانب دھکیل رہی ہے — مگر سیاستدان اور ان کے حواری عوام کو سبز باغ دکھانے اور گمراہ کرنے کی ڈگر پر قائم ہیں –
ہمیں اس صورت حال سے نکلنے کے لیے عملی جدو جہد کرنا پڑے گی –
کوئی تو احساس کو تحریک دے
ہو گئی ہے بے حسی کی انتہا
سبز پتوں کو نگلنے کے لیے
زرد موسم کی ہوئی ہے ابتدا
——————— یوسف خالد
اس طرزِ خاص پر کوئی رکھے نہ انگلیاں
مکر و فریب اہلِ سیاست کو ہے روا
کرتے ہیں صبح و شام عبادت اسی طرح
رہتے ہیں سب کے سامنے یہ بن کے پارسا
(یوسف خالد)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post