کالم

سائیکی اور سمارٹ فون اڈکشن : ڈاکٹر اسدمصطفیٰ

سنو سائیکی ! چند دن پہلے تمہارے انٹرنیٹ ایم بیز ختم ہو گئے تھے۔اتم نے بچوں کے موبائل فون کے بے تحاشا استعمال سے پریشان ہوکرانٹر نیٹ پیکج نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ انٹر نیٹ کے نہ ہونے سے بچوں سے زیادہ خود تمہیں پریشانی لاحق ہے۔تم تھوڑی تھوڑی دیر بعد موبائل فون اٹھا لیتی تھی کہ کہیں کوئی وٹس ایپ میسج تو نہیں آیا۔کہیں فیس بک پر کسی دوست نے تمہاری تصویر پر کومنٹ تو نہیں کیا۔ تمہیں معلوم بھی تھا تمہارا نیٹ پیکج نہیں ہے اورکسی قسم کا کوئی تازہ پیغام یا تبصرہ نہیں آسکتا مگر پھر بھی تمہارا ہاتھ اپنے سمارٹ فون کی طرف بار بار اٹھ جاتا تھا۔میں نے جب تمہاری حالت پر غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ تمہارے بچے ہی نہیں خود تم بھی موبائل فون اڈکشن کی بیماری میں مبتلا ہو۔سنو سائیکی! یہ بیماری کرونا سے زیادہ خطرناک ہے اور ہم میں سے ہر اس شخص کو لاحق ہے جس کے پاس اینڈرائڈ یا سمارٹ موبائل فون موجود ہے۔یہ موبائل فون ایک خطرناک وائرس کی طرح یے،جو تمہارے سارے معاملات ،گھریلو زندگی اور ساری پرائویسی کو ہیک کر لیتا ہے۔یہ ہیک شدہ ڈیٹا،سم والی کمپنی کے پاس بھی چلا جاتا ہے،فون بنانے والی کمپنی کے پاس بھی جاسکتا ہےاور گوگل سمیت نہ جانے کہاں کہاں سٹور ہوتا ہے۔مجھے لگتا ہے ہماری پوری قوم کی پرائیویسی انٹرنیٹ کے استعمال کے بدلے میں رہن رکھی جا چکی ہے۔سنو سائیکی وہ تمہیں خوب پہچانتے ہیں۔وہ ہم سب کے معاملات اور معمولات سے اچھی طرح واقف ہیں ۔وہ ہمارےنظریات سے بھی واقف ہیں اور ہماری پسند ناپسند کے متعلق بھی جانتے ہیں۔تم اگر یو ٹیوب ، گوگل یا کسی اور سرچ انجن پر تعلیمی ویب سائٹس کھولتی رہتی ہو توپھر تمہارے پاس زیادہ تر تعلیمی ویب سائٹس ہی کھلتی ہیں ناں۔اور اگر کوئی اسلام کے متعلق سائٹس وزٹ کرتا ہے تو اس کے پاس اسلامک ویب سائٹس سرچ میں آئیں گی لیکن یہ ضروری نہیں ہےکہ ہمیشہ ایسا ہی ہو۔اشتہارات کی صورت میں کئی فحش اور ہوش ربا ویب سائٹس بھی اچانک سامنے آجاتی ہیں جنھیں صرف دیکھنے کے لیے کھولنے والا کہیں دور نکل جاتا ہے۔اس کے علاؤہ مختلف ہیکرز بھی نت نئے طریقوں سے ہمارا پیچھا کرنے میں مصروف ہیں۔میں نے سنا ہے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد اور بھارت کی را،ویب سائیٹس کے علاؤہ وٹس ایپ پر ہمارا سرکاری ڈیٹا ہیک کرنے کی کوششوں میں مصروف ییں۔اس سلسلے میں احتیاط برتنا بہت ضروری ہے کہ قومی اہمیت کا اور سرکاری ڈیٹا وٹس ایپ پر شئر نہ کیا جائے۔
اصل میں دوسرے بے شمار فتنوں کی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی کا یہ سیلاب بھی ایک فتنہ ہی ہے۔علامہ اقبال نے اسی لیے فرمایا تھا "علم کی انتہا ہے بے تابی” ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کی پہچان یہ بتائی ہے کہ وہ دلوں کو کھینچنے والے ہوں گے۔تم خود اندازہ لگا لو کہ کس کس طرح کے فتنے ہمارے معاشرے میں رواج پا چکےہیں جوہمارے دلوں کو کھنچتے ہیں۔یہ فتنے ہمارے دین وایمان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ہم ان کے سیلاب میں چند سوکھی لکڑیوں کی طرح بہے جا رہے ہیں۔
سائیکی یہ موبائل فون اڈکشن ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔ماہرین کی رائے میں اگر تمہاراہاتھ ہر دس منٹ میں ایک یا دو بار لازمی طور پر اپنے موبائل فون کی طرف بڑھ جاتا ہے تو سمجھ لو کہ تم موبائل ایڈکٹڈ ہو۔اور سنو سائیکی! تمہاری طرح بے شمار لوگ ہیں جنھوں نے یو ٹیوب پر چینل کھولے ہوئے ہیں یا وٹس ایپ گروپ چلا رہے ہیں یا پھر فیس بک پر کسی پیج کے ایڈمن ہیں۔یہ لوگ اپنی اس مصروفیت کے ساتھ اس قدر منہمک ہوتے ہیں کہ اپنے پیج کی لائیکس اور کمنٹس دیکھے بنا انہیں کسی کل چین نہیں آتا۔وہ ہر پانچ سات منٹ بعد اپنا اکاؤنٹ یا پیج کھول کر دیکھتے ہیں کہ کتنے لائیکس یا کومنٹس آئے ہیں۔ان بیچاروں پر جون ایلیا کا یہ شعر ذرا تصرف کے ساتھ پورا اترتا ہے کہ
یہ تجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی پیج ہے،جہاں میں کیا
یہ موبائل اور سماجی ویب سائٹس کی ایڈکشن بھی ہیروئن،کوکین اور مارفین کے نشہ سے کم نہیں ہے جو ہماری نوجوان نسل سے عمل کی قوت چھین رہی ہے۔ اور،ہمارے دینی و دنیاوی معاملات پر بہت بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔دین سے متعلق لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مذہبی پیج یا گروپ چلا کر دین کی بہت خدمت کر رہے ہیں،جب کہ صحافتی حلقے اسے صحافت کی خدمت اور ادبی حلقے اسے ادب کی خدمت سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے کسی شعبے کی کوئی خدمت نہیں ہو رہی بلکہ بیشتر لوگ اس کو ذاتی پروجیکشن اور پیسے کمانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔تم نے یو ٹیوب پر اپنا چینل بناتے ہوئے خود مجھے کہا تھا کہ اس کی لائیکس بڑھیں گی تو ہمیں بہت پیسہ ملے گا۔ فیس بک پر بھی تم ایک گروپ کی ایڈمن ہو ۔تمہیں پتہ ہے تم اسے ڈیلیٹ کرنا بھی چاہو تو فیس بک انتظامیہ کی مرضی کے بغیر ایسا کچھ نہیں کر سکتی۔۔اور بالفرض اگر تم اپنے گروپ یا پیج یا اپنے اکاؤنٹ ہی کو ڈیلیٹ کر دیتی ہو تو تمہارا کوئی دوست چاہے وہ اس گروپ کا ممبر ہی کیوں نہ ہو،تمہیں میسج یا فون کر کے یہ نہیں پوچھے کہ تم نے فلاں پیج یا گروپ کیوں ڈیلیٹ کر دیا ہے۔یہی حال یو ٹیوب،وٹس ایپ،ایمو اور دیگر سماجی ویب سائٹس کا بھی ہے۔۔۔ سنوسائیکی!سماجی ویب سائٹس کے دوست،دکھ درد کے ساتھی نہیں ہوتے۔ان سے تو جان پہچان بھی نہیں ہوتی۔اکثر وہ بغیر پڑھے اور سرسری دیکھ کر ہی لائیک کا بٹن دبا کر گزرتے چلے جاتے ہیں۔انہیں تو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا ہے کہ انہوں نے دن بھر میں کس کس کو لائیک کیا ہے اور کتنی لائیکس کی ہیں۔اس صورت حال پر میر تقی میر کا ایک شعر بہت یاد آرہا ہے کہ
سرسری ہم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
سائیکی! تمہارے لیے ایک بری خبر یہ بھی ہے کہ جدید تجزیوں کے مطابق آئندہ پچاس سال میں موبائل فون اور کمپیوٹر سکرین استعمال کرنے کی وجہ سے دنیا کی آدھی آبادی کے اندھا ہونے کا خدشہ ہے۔ تمہارےبچے اس کی وجہ سے ابھی سے نظر کی کمزوری کا شکار ہو رہے ہیں لیکن ان حقائق کے اظہار کے باوجود مجھے یقین ہے کہ تمہارے بیٹے اور تمہاری بیٹی سمیت تم میں سے کوئی بھی موبائل کا استعمال ترک نہیں کرے گا۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

(بشکریہ روزنامہ سما)

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

کالم

ترقی یا پروموشن ۔۔۔۔ خوش قسمتی یا کچھ اور

  • جولائی 11, 2019
ترجمہ : حمیداللہ خٹک کون ہے جوزندگی میں ترقی نہ چاہتاہو؟ تقریباًہرفرد ترقی کی زینے پر چڑھنے کا خواب دیکھتا
کالم

کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی

  • اگست 6, 2019
از : یوسف خالد کشمیر جل رہا ہے اور دنیا بے حسی کی تصویر بنی ہوئی ہے — دنیا کی