دائرے میں قدم : نوید صادق


نوید صادق
خالد علیم… ادبی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ نعت، غزل، نظم، تنقید و تحقیق میں ان کا نام ہی گویا سند کا درجہ رکھتا ہے۔ چند برس قبل ان کا افسانوی مجموعہ ’’مردہ آنکھ میں زندہ چہرہ‘‘ شائع ہوا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ دیگر اصنافِ سخن کے مانند وہ اس صنف میں بھی کسی سے کم نہیں۔ شاعروں کے بارے میں ایک عام تاثر یہی ملتا ہے کہ منتشر خیال ہوتے ہیں لیکن خالد علیم کے افسانوں نے یہ قبولِ عام قسم کا تاثر زائل کر دیا۔خالد علیم نے اپنے افسانوں میں شاعرانہ تخیل کے ساتھ فضا بندی کا بھرپور اہتمام کیا ہے۔ان کے افسانے انسانی زندگی سے اپنا مواد حاصل کرتے ہیں۔ انھوں نے بعید ازحقیقت تخیل سے گریز کیا ہے۔ان افسانوں میں ہمارے گرد و پیش کی زندگی رواں دواں نظر آتی ہے۔ نادرموضوعات کا احاطہ کرتے ان کے افسانوں کا اسلوب جاذبِ توجہ ہے ۔ دانش ورانہ طرزِ فکران تمام خوبیوں پر مستزاد ہے۔ خالد علیم کے افسانے متقاضی ہیں کہ الگ سے ان کا جائزہ لیا جائے۔یوں بھی اس تحریر میں ان کے تازہ ترین معرکے… اُن کے ناولٹ ’’ دائرے میں قدم‘‘ کا جائزہ مقصود ہے۔
مجھے وسیع المطالعہ ہونے کا دعویٰ نہیں، خاص طور پر نثر میں لیکن اہم نثری تصانیف ضرورنظر میں رہتی ہیں، اور تمام قاعدے قوانین ایک طرف رکھ کر میرے نزدیک اچھی نثر بلکہ یہاں یہ کہنا زیادہ موزوں ہو گا کہ اچھا فکشن وہی ہے جو قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جائے اور جب قاری اس ماحول، اس فضا سے باہر آئے تو اسے یہ احساس ہو کہ وہ اس جہانِ معنی سے بہت کچھ سمیٹ لایا ہے۔ اور یہ کہ دورانِ مطالعہ ہر ہر مقام پر سسپنس کا عنصر قوی انداز میں قائم رہے۔ کیوں کہ سسپنس کے خاتمہ کے بعد مطالعہ جاری رکھنا قریب قریب ناممکن ہو جاتا ہے ۔ایک صاحبِ علم سے بات ہوئی اور میں نے اپنا یہ نظریہ بغیر کسی جھجھک کے بیان کر ڈالا تو انھوں نے قریب قریب ڈانٹتے ہوئے کہا کہ میاں جو تم کہہ رہے یہ اسی صورت ممکن ہے جب تخلیق کار نے تمام ضروری تقاضے نبھائے ہوں۔ ہاں یوں ہے کہ ہم پروفیسر لوگ تخلیقات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں، پیش نظر تخلیق کے تمام عناصر پر بات کرتے ہیں لیکن تم تخلیق کے حاصلات پر بات کرنے کے عادی ہو، اپنی دل چسپی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی ذاتی رائے کو اہمیت دیتے ہو۔ لیکن کان تو کان ہے اسے جس طور پکڑ لو۔ سو آج پہلی بار اس نسخہ کیمیا پر عمل کرتے ہوئے اس ناولٹ کے عناصر پر گفتگو کی کوشش کروں گا۔
ناولٹ کے بنیادی عناصر کم و بیش وہی ہیں جو مختصر کہانی یا افسانہ کے ہوتے ہیں…پلاٹ، کہانی، کردار، مکالمے، زمان و مکاں، اسلوب، نکتہ نظر، تکنیک، زبان و بیان اور موضوع ۔’’دائرے میں قدم‘‘ کے پلاٹ کی بات کی جائے تو بظاہر سادہ نظر آتے ہوئے بھی انتہائی پیچیدہ ہے۔ دو کرداروں کو لے کر آگے بڑھنا اور ان کے حوالے سے ذیلی پلاٹوں کی تشکیل اور ماضی میں پیش آئے ہوئے واقعات کے لیے فلیش بیک جیسی تیکنیک کا استعمال کم از کم ناولٹ میں نبھانا خاصا مشکل کام ہے لیکن موضوع پر گرفت، کرداروں کے ساتھ نپے تلے برتاؤ، اپنے نکتہ نظر سے گہری وابستگی اور زبان و بیان پر مکمل قدرت کے باعث خالد علیم ان مشکل گھاٹیوں سے بآسانی اور کامیاب و کامران گزر آئے ہیں۔ ’’دائرے میں قدم ‘‘ میں ڈاکٹر ثمینہ اور ڈاکٹر زہیر کے گزرے وقت کی پیش کش فلیش بیک کی تکنیک کا بھرپور استعمال ہے۔ یہی فلیش بیک ایک ذیلی پلاٹ بنتا نظر آتا ہے۔ اور یہ بات ایک اسی واقعہ تک محدود نہیں، اس ناولٹ سے ایسی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ پورے ناولٹ میں بیان کردہ واقعات میں منطقی ربط کہیں بھی مجروح نہیں ہونے پایا۔
ناولٹ کے واحد متکلم(Portagonist) کی جذباتی و نفسیاتی کیفیات کا مطالعہ خالی از دل چسپی نہیں۔یہ ایک نوجوان کے آغازِ بلوغت کے دور میں اس کے دل و دماغ میں برپا مختلف کیفیات کا ماجرا ہے۔اس کے باطن میں ایک کشمکش جاری ہے جو پورے ناولٹ میں روپ بدل بدل کر سامنے آتی ہے۔حقیقت ِحال تک رسائی کی خواہش اور تگ و دو اسے واپسی کے سفر کی جانب راغب نہیں ہونے دیتی اور سامنے ایک سراب کے سوا کچھ نہیں۔ ایک پردہ اٹھتا ہے تو دوسرا اُس کی خواہش کے راستے میں حائل نظر آتا ہے۔ کچھ ناگوار سماجی معاملات اور کچھ معاشی مسائل اسے واپسی پر مجبور بھی کرتے ہیں تو دوبارہ وہی دکھ، وہی کسک کہ حقیقت کیا ہے… اور پھر وہی سفر لاحاصل۔ فریبِ نظر اور اشتیاق اسے اس مقام پر لے آتے ہیں کہ رایگانی کا صحرا اس کا مقدر ٹھیرتا ہے۔
اس ناولٹ کے کردار جیسے اس کا مرکزی کردار، ڈاکٹر ثمینہ، ڈاکٹر زہیر، مرکزی کردار کے گھر والے، ڈاکٹر زہیر کے گھر والے، سومرو خاندان… کردارہونے کے ساتھ ساتھ ٹائپ بھی ہیں۔ان کرداروں کی داخلی ساخت پر غور کریں تو علامات تشکیل پاتی ہیں۔ ناولٹ کا واحد متکلم … سنِ بلوغت کے دور میں قدم رکھتے نوجوانوں کو ظاہر کرتے ہوئے معصومیت اور تجسس و حیرت کا مرقع بن کر سامنے آتا ہے تو ڈاکٹر ثمینہ حریف کردار(Antagonist) … وہ فریب نظر، وہ الجھاوا ہے جو سیدھے راستے سے گمراہ کر دینے والے سرابوں کا اعلامیہ ہے۔ گھر تو ادب میں ہمیشہ سے سکون کی علامت رہا ہے۔دنیا بھر کے فتنوں سے بچاؤ کا واحد مرکز، رشتوں کی مرکزیت اور تعلقات کی رمز اسی میں پوشیدہ ہے۔ناولٹ کے واحد متکلم کو جہاں بھی عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے، اسے گھر اور گھر والے یاد آنے لگتے۔ اور یہ گھر ہی ہے جو ہر بار اسے اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔ مرکزی کردار اور حریف کردار کی شخصیات کا تصادم بڑے واضح انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ دونوں کرداروں کے رجحانات،دماغوں میں سر اٹھاتے خدشات اور سب سے بڑھ کر ترجیحات … ان کرداروں کے مابین تصادم کے اظہاریہ کے ساتھ ساتھ ان کے نفسیاتی پروفائل بن کر سامنے آتے ہیں۔ Foil Characters اور Minor Characters جیسے ڈاکٹر ثمینہ کا بیٹا، ڈاکٹر زہیر، مرکزی کردار کے گھر والے، پولیس والے، ہوٹل کا بیرا حمید،ڈاکٹر زہیر کے گھر والے، سومرو خاندان… کہانی کو آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کرداروں کی کہانی میں مخصوص مقامات پر Entryاور بعد ازاں Exitبڑے حقیقی اور برمحل ہیں۔ کہیں کوئی زور زبردستی کا برتاؤ محسوس نہیں ہوتا۔ ان کرداروں سے وابستہ مناظر میں جزئیات نگاری قاری کو منظر کا حصہ بنا ڈالتی ہے۔ ان کے ہاں جگہ جگہ لفظی صورت گری دکھائی دیتی ہے۔
خالد علیم، صاحب ِاسلوب شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب ِاسلوب نثر نگار بھی ہیں۔ ان کے ہاں واقعات کے بیان کا انداز، کراداروں کے مکالمات ، گفتگو کا سا ماحول، لفظی تصویریں … ان کے جداگانہ اسلوب پر دال ہیں۔اس ناولٹ میں بیانیہ تکنیک کو برتا گیا ہے یعنی واحد متکلم کہانی بیان کرتا چلا جا رہا ہے بس اس فرق کے ساتھ کہ واحد متکلم یا مرکزی کردار پورے ناولٹ میں حریف کردار سے مخاطب ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ حریف کردار کو ساری کہانی سنا رہا ہے۔ تلازمہ خیال کا عنصر کہانی کو مزید دلچسپ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مختصراً یہ کہنا چاہوں گا کہ خالد علیم کہانی کہنے کے فن سے بخوبی آگاہ ہیں۔جدید رجحانات سے مکمل آشنائی اورعصری میلانات و رجحانات سے آگاہی ان کی تحریر میں گہرائی پیدا کرتی ہے۔ انھوں نے ’’دائرے میں قدم‘‘ کے پیش لفظ میں ناولٹ کے حوالے سے بحث بھی کی ہے جس سے ایک اچھی خاصی گفتگو کے در کھلتے نظر آتے ہیں۔یہ ناولٹ دستاویز لاہور نے شائع کیا ہے اور جناب رشید امجد اور جناب عاصم بٹ نے اس کی پذیرائی کی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post