بڑھتی ہوئی آبادی کا ایک خطرناک پہلو

کالم نگار : یوسف خالد

یہ بے تابی،یہ بے زاری،یہ پیہم الجھنیں کیا ہیں

مری تہذیب کا یہ سلسلہ بگڑا ہوا کیوں ہے

              وطن عزیز کی آبادی اس وقت کتنی ہے؟ اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا جا سکتا-سرکاری محکمہ “منصوبہ بندی” بھی اپنے اعداد و شمار اسی طرح اکھٹے کرتا ہے جیسے دیگر محکمے یہ ذمہ داری پوری کرتے ہیں- یعنی سب اعداد و شمار فرضی اور من گھڑت(مخصوص مقاصد کے لیے) خیراس سے غرض نہیں سوچنے والی بات یہ ہے کہ آبادی میں ہونے والا اضافہ کس نوعیت کا ہے-

         عموما” یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر پڑھے لکھے اور با وسائل افراد کے ہاں دو یا حد تین بچے ہیں-ہر چند کہ ان کے حالات اجازت دیتے ہیں کہ وہ اس سے زیادہ بچوں کی بخوبی کفالت بھی کر سکتے ہیں اور انہیں مناسب تعلیم اور بہتر ماحول بھی دے سکتے ہیں-اور یوں انہیں ایک ذمہ دار اور مفید شہری بھی بنا سکتے ہیں- مگر وہ شاید محکمہ منصوبہ بندی کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں یا واقعتآ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں با شعور شہری کے طور پر بڑھتی ہوئی آبادی کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ بننا چاہیے-وجہ کچھ بھی ہو یہ افراد آبادی میں اضافے کا باعث بہر حال نہیں بن رہے اب دوسری طرف آئیے کہ وہ افراد جو معاشرے کا کم و بیش 95 فیصد ہیں اور انتہائی کمزور معاشی حیثیت کے حامل ہیں ان کے ہاں بچوں کی تعداد عموما” 6 سے لے کر 10 یا 12بچوں تک ہے-یہ افراد نہ تو ان بچوں کو مناسب خوراک دینے کی پوزیشن میں ہیں اور نہ انہیں مناسب تعلیم،تربیت،ماحول اور زندگی کی بنیادی ضرورتیں فراہم کر سکتے ہیں-ان میں بہت سے ایسے بھی ہیں جنہیں چھت تک میسر نہیں نتیجہ یہ کہ ایسے حالات میں پرورش پانے والے بچے شدید احساس محرومی ،غذائی قلت اور ادھوری شخصیت کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں اور بڑے ہو کر معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے لگتے ہیں غور طلب بات یہ ہے کہ گزشتہ 60 سالوں سے اس صورت حال میں اضافہ ہوا ہے کمی واقع نہیں ہوئی-یعنی آبادی کا پھیلاؤ کم وسائل والے طبقہ میں زیادہ ہوا ہے-اس کی کئی وجوہات ہیں جن کا یہاں ذکر ضروری بھی نہیں اور اس کی گنجائش بھی نہیں ـ

       ریاست کی مجرمانہ غفلت الگ قصہ ہے کہ اس نے اس افرادی قوت کو کار آمد بنانے کے لیے بہت ہی کم اقدامات کیےہیں-اور انہیں بے یار و مدد گار چھوڑ دیا ہے- اب ذرا اس فرق کو سامنے رکھیں کہ 5 فیصد طبقہ آبادی کے بہت ہی کم حصے کو پروان چڑھا کر معاشرے کا حصہ بنا رہا ہے اور دوسری طرف 95 فیصد طبقہ ایسے افراد معاشرے کی زینت بنا رہا ہے جو کسی بھی طور معاشرے میں متوازن کردار ادا کرنے کے اہل نہیں ہو سکتے- نا مکمل شخصیت اور بچپن کی محرومیاں انسانوں میں کئی نفسیاتی مسائل پیدا کر دیتی ہیں اور افراد کو معاشرے کے لیے باعث پریشانی بنا دیتی ہیں-آج جب ہم اپنے معاشرے کودیکھتے ہیں تو ہمیں ہر طرف انتشار،بے اطمینانی اور دیگر بہت سے خرابیاں نظر آتی ہیں-

        قومیں افراد کے کردار سے تشکیل پاتی ہیں-جس معاشرے کے افراد ذہنی مریض بن چکے ہوں وہاں ماحول میں کبھی بھی مثبت تبدیلی نہیں آ سکتی- اس وقت ہمارا مسلہ یہ ہے کہ آبادی کا 95 فیصد حصہ کسی نہ کسی طور ان خرابیوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے-اور 5 فیصد طبقہ خوش فہمی کا شکار ہے کہ سب ٹھیک ہے-اسے ادراک ہی نہیں کہ ریاست کی مشینری اب اس طبقہ کے ہاتھوں اپنی موت مر رہی ہے سیاسی اور معاشی عدم استحکام ،عدم تحفظ کو جنم دے کر معاشرتی نا ہمواری،افلاس اور افرا تفری پیدا کر رہا ہے-صورت حال بہت نا گفتہ بہہ ہے-غربت میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اور یہ ایک خطر ناک علامت ہے-

اژدھا غربت کا ڈس لے گا فصیل جسم کو

خواہشوں کے نرم بستر پر دھواں رہ جائے گا

( یوسف خالد) –

         کیا اس مسٗلہ کے حل کے لیے کوئی ترجیحی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا حکومت وقت معاشی ناہمواری ختم کر کے اس محروم طبقہ کو بہتر زندگی گزارنے کا کوئی موقعہ فراہم کر سکتی ہے؟ کیا ہمارا محکمہ منصوبہ بندی شہروں سے نکل کر دور افتادہ علاقوں،جھونپڑیوں کے مکینوں کے پاس جا کر انہیں زندگی کی کوئی روشن تصویر دکھا سکتا ہے ؟ کیا ہمارا میڈیا اس مسلے کو متنازعہ بناے بغیر معقولیت کے ساتھ کسی قابل قبول حل کی جانب لے جا سکتا ہے؟

یہ چند سوال سوچنے والے اذہان کے لیے ہیں–طوالت کے خوف کی وجہ سے بہت سے پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا ہے- سوچیے کہ سوچ سے ہے زندگی ۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post