بخیہ اُدھیڑ : سعید اشعر


مسٹر زادے
فارسی زبان کا ایک بڑا مشہور محاورہ ہے۔
زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم
ایسا لگتا ہے یہ محاورہ مجھے ہمیشہ سے ازبر ہے۔ میں نے اسے بے شمار بار برمحل استعمال بھی کیا ہے۔
جماعت ششم سے لے کر جماعت ہشتم تک سکول میں، میں نے فارسی پڑھی۔ اس دوران گھر میں گلستانِ سعدی اور بوستانِ سعدی بھی ان کے پانچویں دفتر کے علاوہ پڑھا دی گئی۔ اس سے پہلے کہ تیل بیچنے کی نوبت آتی۔ میں نے میڑک میں سائنس سبجیکٹس لے لیے۔ اس لیے کچی پکی جو فارسی سیکھی بھول گئی۔ اسی کی دہائی میں افغان مہاجرین کا ایک سیلاب پاکستان میں داخل ہوا۔ ان میں فارسی خوان بھی کافی تھے۔ ان میں سے ایک فیملی کے ساتھ میرے بھی اچھے تعلقات استوار ہو گئے۔ مڈل کلاسز میں پڑھی ہوئی فارسی یاد کر کر کے ان کے ساتھ بولنے کی کوشش کی۔ پتہ چلا اس زبان کو متروک ہوئے صدیاں گزر چکی ہیں۔ اس لیے اس سعیِ لاحاصل سے تائب ہو کر اپنی توجہ کابلی پلاؤ تک محدود ہوگئی۔ خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا۔ انھیں ٹھیک ٹھاک اردو آ گئی۔
یہاں گلف میں آئے ہوئے مجھے پندرہ سولہ سال تو ہو چکے ہیں۔ اس دوران بے شمار ملکوں کے لوگوں سے ملاقات رہی ہے۔ جن کی اپنی اپنی زبان اور کلچر ہے۔ ترکی، شام، اردن، سوڈان، فلپائن، ہندوستان، جاپان، کوریا، بنگلادیش، انگلینڈ، فرانس، سری لنکا، نیپال، چین، مصر اور پتہ نہیں کن کن ممالک کے لوگوں سے واسطہ پڑتا رہا ہے۔ عمرہ کرتے ہوئے ایرانیوں سے بھی آمنا سامنا یو جاتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زبانوں کا بھی کوئی حساب نہیں۔ ان سب افراد کا کسی نہ کسی حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ معاملہ رہتا ہے۔ اس کے لیے بہترین زبان عربی ہے۔ اگر عربی نہ آتی ہو تو اردو، انگلش اور اشاروں کی زبان بہترین ذریعہِ اظہار ہیں۔ بہرحال ایک بات طے شدہ ہے۔ آپ کسی زبان کا بھی سہارا لیں۔ آپ کی گرائمر اور لغت کتنی بھی مخدوش کیوں نہ ہو۔ آپ کا مخاطب آپ کا مذاق نہیں اڑائے گا۔ اس کے منہ سے تضحیک آمیز قہقہہ نہیں برآمد ہوگا۔ بلکہ وہ آپ کی بات کو سمجھنے کی پوری کوشش کرے گا۔ عربوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہمیں عجم اس لیے سمجھتے ہیں کہ ان کے نزدیک باقیوں کی زبان اتنی فصیح و بلیغ نہیں جتنی عربی ہے۔ لیکن جب ہم ان کے ساتھ بات کرتے ہیں وہ بھرپور توجہ سے سنتے ہیں۔
ایک بار دمام انڈسٹریل سٹی ٹو میں میری گاڑی خراب ہو گئی۔ اچانک پولیس کی ایک گاڑی کہیں سے آ کر میرے پاس کھڑی ہو گئی۔ اس میں دو جوان موجود تھے۔ مسئلہ یہ ہوا کہ مجھے عربی اور انھیں انگلش نہیں آتی تھی۔ میں نے اشاروں کی مدد سے انھیں اپنی گاڑی خراب ہونے کے بارے میں بتاتا۔ ان میں سے ایک نے کسی نہ کسی طرح گاڑی سٹارٹ کی اور مجھے اور میری گاڑی کو مطلوبہ مقام پر خود پہنچا کر گیا۔
ایک دفعہ ہماری کچھ فرنچ وزیٹرز کے ساتھ میٹنگ تھی۔ کھانے کے وقفے کے دوران میں نے انھیں بتایا کہ فرنچ زبان کا ایک ناول مادام بواری کا میں نے ترجمہ پڑھا ہوا ہے۔ میں نے محسوس کیا ان کی آنکھوں میں میرے لیے محبت کے جذبات امنڈ آئے تھے۔
ہمارے ہاں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ ہم ٹوہ میں رہتے ہیں کہ بولنے والے کی گرائمر اور لغت کی خامیاں تلاش کریں اور جہاں جہاں تک ہماری رسائی ہے اس کو آشکار کریں۔ زبر زیر کے ساتھ ساتھ ہم الفاظ کا مخرج بھی چیک کرتے ہیں۔ دوسرے کو شرمندہ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ بچہ ہے تو دس لوگوں کے سامنے بڑے اس کو تماشا بنا دیتے ہیں۔ سامنے ہمت نہیں تو پیٹھ پیچھے اپنا فریضہ ادا کریں گے۔
یہی حال ہمارے ہاں خط و کتابت کا ہے۔ تمہید سے پہلے القابات کی بھرمار ملے گی۔ ڈیئر سر، ڈیئر مسٹر، ریسپیکٹ ایبل اور ۔۔۔۔۔۔۔۔سجا سنوار کے جملے لکھے جاتے ہیں۔ کامے اور فل سٹاپ اپنی اپنی جگہ پر بٹھاتے ہیں فعل ماضی، حال اور مستقبل کی جملہ شاخیں پیشِ نظر رکھی جاتی ہیں۔ آخر میں رقت آمیز دعاؤں کا تڑکا لگاتے ہوئے تابعداری اور فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔
انٹرنیشنل بزنس میں ایسا نہیں ہو رہا۔ بغیر غیر ضروری القابات کے مطلب اور مدعا کی بات کی جاتی ہے۔ کامے اور فل سٹاپ نہیں گنے جاتے۔ مسٹر بننے کے خواہشمندوں کو نفسیاتی مریض سمجھا جاتا ہے۔ سب کی نظر نتائج پر ہوتی ہے۔
کالج کے زمانے میں ایبٹ آباد سے مجھے کالے رنگ کی ایک بہت ہی شاندار جرسی مل گئی۔ میرا ایک دوست جب بھی اس کے خاندان میں کوئی فنکشن ہوتا مجھ سے وہ جرسی مانگ کر لے جاتا اور دو تین روز تک اسے مزے سے استعمال کرتا۔ محلے کے تمام لوگ اسے مسٹر کہہ کے پکارتے تھے۔
آخر میں ڈاکٹر اسحاق وردگ کا ایک شعر دیکھیے۔
میں خالی گھر میں بھی تنہا نہیں تھا
کہ جب تک آئنہ ٹوٹا نہیں تھا

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post