بخیہ ادھیڑ ۔۔۔ کالم : سعیداشعر

سعید اشعر
سعیداشعر
دوہرا معیار
مجھے میرے ایک دوست نے یہ بات بتائی۔ کہنے لگا۔
“یہ اس زمانے کی بات ہے جب عام طور پر لوگوں کے پاس پیسہ موجود نہیں تھا۔ محلے میں ہمارا گھر سب سے اونچا تھا۔ ہمارے والد صاحب کے پاس بہت پیسہ تھا۔ مجھے سکول میں داخل کروانے کا وقت آیا تو کئی لوگوں نے ان کو مشورہ دیا کہ قاضی صاحب شہر میں کئی اچھے پرائیویٹ ادارے کھل چکے ہیں۔ ماشاء اللہ آپ کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ بچے کو کسی اچھے سکول میں داخل کروائیں۔ میرے والد صاحب نے یہ دلیل دے کر سب کا منہ بند کر دیا کہ ایوب خان بھی تو عام سرکاری تعلیمی ادارے میں پڑھ کر صدر بنا تھا۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میرے والد سے پوچھتا کہ قاضی صاحب پھر آپ دسویں جماعت چھوڑ کر سکول سے کیوں بھاگ گئے تھے”
مجھے ان لوگوں سے کوئی شکایت نہیں جو اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر بالکل دھیان نہیں دے رہے۔ کیوں کہ انھیں اس بات کی سمجھ ہی نہیں۔ وہ اس کی اہمیت کا ادراک ہی نہیں رکھتے۔ ان میں اور دوسرے جانوروں میں کچھ خاص فرق نہیں ہوتا۔ کسی جانور سے گلہ کرنا ویسے بھی نہیں بنتا۔ ان کے نزدیک زندگی کا مقصد کھانا، پینا اور بچے پیدا کرنا ہے۔ فی الوقت ہم ان سے صرفِ نظر کرتے ہیں۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں۔ یہ فرضی ہے آپ اسے سچی سمجھیں۔
ایک بچی جس کا نام بی بی ہے جب وہ چھوٹی سی کلاس میں تھی اس کے والد نے اپنے بڑے بیٹے کی ذمہ داری لگائی کہ وہ روز بی بی کو ایک دینی مدرسہ لے کر جائے۔ بچی حافظہ بن گئی۔ اسے دوبارہ سکول اور اس کے بعد کالج میں داخل کروا دیا گیا۔ بی بی نے پری میڈیکل میں ایف ایس سی کر لی۔ اس پورے عرصہ میں وہ اپنی کلاس کی پوزیشن ہولڈر رہی۔ میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے لیے ایگریٹ میں حصہ لیا تو اس کے چورانوے فیصد نمبر آئے۔
اگلی بات سن کر آپ کو ایک بڑا دھچکا لگے گا۔ بجائے میڈیکل میں ایڈمیشن دلوانے کے اس کے بھائی نے اسے پوچھے بغیر اس کا بی ایس فزکس میں ایڈمیشن کروا دیا۔ بقول بی بی کے ساری زندگی اس نے جتنی بھی کامیابیاں حاصل کیں اس کے والد نے کبھی بھی اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ گھر میں ان کا یہ طرزِ عمل صرف بی بی کے لیے مخصوص نہیں بلکہ باقی بہنیں بھی اس سے متاثر رہی ہیں۔ اس کے مقابلے میں ان کا کوئی بیٹا معمولی سا بھی کارنامہ کرے تو والد کا سینہ چوڑا ہو جاتا ہے۔ اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ مبارک بادی کی مٹھائی صرف لڑکوں کے لیے خاص ہے۔ بدقسمتی دیکھیے کہ بی بی کا گھرانا اگر چاہے دس اور لڑکیوں کو سپانسر کر کے ان کو سیلف فنانس سکیم کے تحت میڈیکل کی تعلیم دلوا سکتا ہے۔ بی بی کے معاملے میں وسائل کی کمی رکاوٹ نہیں۔ بلکہ ایک لڑکی کی حیثیت اور اہمیت سے انکار ہے۔ صدیوں پرانے فرسودہ تصورات کی زنجیریں آج بھی کسی نہ کسی صورت ہر دوسرے گھر میں لڑکی کے وجود کو جکڑنے کے لیے موجود ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اسی سے ملتی جلتی ایک خبر ایک نیوز چینل پر بھی چلی تھی۔ شاید مظفر گڑھ کی ایک لڑکی نے میٹرک کے امتحان میں پورے بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی اور اس کے والد کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ اس کے سر پہ ہاتھ تک ہی رکھ دیتا وہ ٹی وی پر یہ بتاتے ہوئے رو پڑی تھی
یہ صرف کسی ایک بی بی کی کہانی نہیں۔ ہمارے ارد گرد ایسی بے شمار بچیاں موجود ہیں جن کے والدین کے ہاں اولاد کے حوالے سے دہرا معیار ہے۔ اپنے بیٹوں کی تعلیم و تربیت پر جائز اور ناجائز طریقے سے حاصل شدہ تمام وسائل اور ذرائع استعمال کر دیں گے۔ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ایسے والدیں کو اردگرد کے لوگ بھی غلط نہیں سمجھتے۔ بیٹیوں کا استحصال روا رکھنے میں ہمارے نیم مذھبی گھرانے بھی کسی سے پیچھے نہیں۔
میں ذاتی طور پر ایک خاتون کو جانتا ہوں جس کو تعلیم حاصل کرنے کا جنون تھا۔ اس کے معزز باپ نے اسے ساتویں جماعت کے بعد اچانک ایک دن سکول چھڑوا کے اس سے دگنی عمر سے زیادہ ایک ایسے شخص کے ساتھ رخصت کر دیا جو پہلے ہی صرف شک کی بنیاد پر ایک معصوم لڑکی کو طلاق دے چکا تھا۔ کچھ دن کے بعد اس کا میاں اس خاتون کی ناسجھیوں کی وجہ سے اسے زد و کوب کرنے لگا۔ جب تشدد حد سے زیادہ ہوا تو وہ اپنے ماں باپ کے گھر فریاد لے کر آئی۔ اس موقع پر اس کے والد نے جس ردِ عمل کا مظاہرہ کیا کم از کم میرے لیے بڑا ہی شاکنگ ہے۔ انھوں نے پانچ لوگوں کی موجودگی میں بیٹی کو صاف صاف کہہ دیا۔
“دیکھو اب تمھارے خاوند کا گھر ہی تمھارا گھر ہے۔ وہاں کی کوئی بات لے کر دوبارہ یہاں مت آنا۔ اگر تمھیں اپنے خاوند سے کوئی شکایت ہے تو ہمارے پاس آنے کے بجائے جہاں تمھارا جی چاہتا ہے چلی جانا۔ اس گھر کے دروازے تمھارے لیے بند ہیں”
ایک پندرہ سال کی بچی کتنا جبر سہتی۔ آخر ٹوٹ گئی۔ اس نے اپنی زبان پر تالا لگا لیا۔ وہ ہنسنا بھول گئی۔ ہر دوسرے تیسرے دن اس پر عجیب طرح کے دورے (فٹس) پڑتے۔ کبھی کبھی ایک ہی دن میں اس پر کئی بار دورہ پڑتا۔ اس کا بدن کانپنے لگتا۔ وہ منہ بھینچنے کی کوشش کرتی لیکن پھر بھی آس پاس والوں کو اس کی چیخیں سنائی دیتیں۔ ایک بار تو اس کے منہ سے نکلتی ہوئی جھاگ میں نے بھی دیکھی تھی۔ اس کے میاں کے مطابق وہ مکر کر رہی تھی۔ عزیز و اقارب ہمدردی کرتے اور اس کے لیے مختلف بزرگوں سے تعویذ لے کر آتے۔ میں نے اس خاتون کی آنکھوں میں ساری زندگی سرمہ دیکھا اور نہ کبھی اس کے ہونٹوں پر دنداسہ۔ اس کے چہرے پر جیسے قبرستان کی گرد جمی ہوتی۔
یہاں ہم تھوڑی سی تکلیف کرتے ہیں۔ تصور ہی تصور میں اپنے ارد گرد کے چند گھروں میں جھانکنے ہیں۔ کچھ باتیں ہمیں اکثر گھروں میں مشرکہ ملیں گی۔ جیسے کہ
بھائیوں کے زیادہ تر کام بہنیں کر رہی ہیں۔ جیسے کپڑے دھونا یا انھیں پریس کرنا
دسترخوان ہمیشہ بیٹیاں بچھاتی ہیں۔
بیٹوں کو عام طور پر کھانے کی بہتر چیز دی جاتی ہے۔
کم چیز ہونے کی صورت میں بیٹیوں کو اس سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔
وسائل کی کمی کی صورت میں بیٹوں کو قدرے اچھے تعلیمی اداروں میں داخل کروایا جاتا ہے۔ جب کہ بیٹی کو قریب کے کسی عام سے تعلیمی ادارے میں۔
اسی طرح بیٹے کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے میٹرک کے بعد لڑکی کا تعلیمی سلسلہ منقطع کر دیا جاتا ہے۔
عام طور پر یہ تصور اب بھی موجود ہے کہ لڑکیاں زیادہ پڑھ کے کیا کریں گی۔ پرایا مال ہے۔ ان کو ہانڈی روٹی آنی چاہیے۔
اکثر میٹرک یا انٹر کے بعد والدین کی اکثریت ان کی مزید تعلیم کے بجائے خواہش مند ہوتی ہے کہ ان بچیوں کی کہیں شادی ہو جائے۔
وغیرہ وغیرہ اور وغیرہ
سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ اس سوچ کو بدلنے کے کیا کہیں کچھ مثبت کام ہو رہا ہے۔ اگر ہو رہا ہے تو اس کے مناسب نتائج کیوں نہیں برآمد ہو رہے۔ کیا زیورِ تعلیم کا تعلق صرف تقریری مقابلوں سے ہے۔ وہ کون سی قومیں ہیں جن کے ہاں ایسے اقوالِ زریں کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے
تم مجھے پڑھی لکھی ماں دو میں تمھیں پڑھی لکھی قوم دونگا…نپولین
آخر میں محترم ریاض ساغر کے دو اشعار دیکھیے۔
میرے آگے بھی انا کا مسئلہ تھا
اس نے بھی پہچاننے میں دیر کر دی
تیتری نے تیر، ترکش اور کماں کے
رابطوں کو جاننے میں دیر کر دی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post