اے رحم والے رحیم! : ریاض احمد احسان

لاریب! جب قدرت کا دست عطا فیاضی پر آمادہ ھو جائے تو سیاہ و بے آب و گیاہ پتھر کے سینے سے پھول کھلتے ہیں— بنجر پہاڑوں کی کوکھ سے قلقل کرتے چشمے پھوٹتے— دشت سے زم زم جاری ھوتا اور صحراؤں کے درمیان سر سبز و شاداب وادیوں کا ظہور عمل میں آتا ھے-
اے مالک ارض و سموٰت! امام الانبیاءؐ کے صدقے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے تصدق کے صدقے میں اولاد آدم و ہوا پر رحم فرما—
اے رحم والے رحیم!
جن گناہگاروں اور خطا کاروں پر تو نے اپنی طرف آنے والے راستے بند کیے ہیں انہیں گنبدِ خضرٰی پر اترنے والے فرشتوں اور پرندوں کے صدقے میں معاف فرما
ارض پاکستان پر سلام بھیجنے والوں کو ، انسانیت کی بھلائی اور خیر مانگنے والوں کو اپنے حضور سجدہ ریز مخلوقات کے صدقے میں معاف فرما
سجدہ ریز درختوں اور جھاڑیوں کے صدقے میں ماحول پر چھائی وحشتوں کو دور فرما
انسان پر انسانیت نچھاور کرنے والوں پر گنبد خضرٰی کے مکیں کی شفاعت نازل فرما
انسان اور سایا انسان سے محبت کرنے والوں پر رحم فرما
انسانیت کے نابینا دشمنوں کو بینائی یعقوبؑ کے صدقے میں ہدایت نصیب فرما
تقدس مریمؑ، پارسائی یوسفؑ اور توبہ زلیخا کے صدقے میں ہماری کوتاہیوں اور بداعمالیوں سے درگزر فرما
دنیا بھر کے مزدوروں کو مدینے کی خندق کھودنے والے مزدوروں کے صدقے میں اپنے فضل اور رحم کا حق دار بنا
زمین پر پانی کی بوند بوند کو ترستے حلقوم کو اہل کربلا کے صدقے میں معاف فرما
دنیا بھر کے کسانوں پر جناب صالحؑ کے صدقے میں رحم و فضل فرما
دنیا بھر میں محصور غذائی قلت کے شکار انسانوں کو شعب ابی طالب کی گھاٹی کے صدقے میں معاف فرما
اے محسن انسانیتؐ پر درود و سلام بھیجنے والے! اکھوے کا پھوٹنا —-کلی کا چٹکنا—- کونپل کا لجانا—- شگوفے کا مسکرانا—- پودے کا پھبکنا——شہد کی مکھیوں کا پھولوں کی کیاریوں پر دائرہ در دائرہ منڈلانا —- بلبل کا شاخ پر تانیں اڑانا—— چڑیوں کا منڈیروں پر چہچہانا —–شمع کا قطرہ قطرہ پگھلنا——گلاب کا ورق ورق کھلکھلانا——- آمد_بہار پر پتوں کا دف بجانا اور صبا کا صحن چمن کی روشوں پر ناز و ادا سے چلنا سب تیرے ہی حکم کے تابع ھے، ان مظاہر فطرت کو اپنے اپنے مدار میں چلنے کا دوبارہ حکم جاری فرما کہ ترا نائب اپنی تمام تر بد اعمالیوں ، گناہوں اور حکم عدولیوں پر ترے حضور سجدہ ریز ھے-
آمین یا رب العالمین

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post