کالم

اپنی بابت سوچیے بچوں سے باتیں کیجیے : اقتدار جاوید

پاکستان کے ادبی جرائد پر پیغمبری زمانہ آیا ہوا ہے۔زیادہ تر جرائد کاغذ کی گرانی کے شکوے اور اس کے ہوشربا اضافوں کے ڈراوے سے اپنے پرچوں کا پیٹ بھرتے ہیں۔ادب کی ناگفتہ بہ صورت حال کا رونا روتے ہیں اور تان پرچے کی سالانہ خریداری پر توڑتے ہیں۔شاید یہ رسم ایک تاریخ ساز پرچے سے چلی تھی۔فنون کے اداریے میں مدیر جنہیں ” امام ِمدیران” کہنا روا ہے، قیمتوں کے اضافے کا رونا ضرور روتے تھے۔یہ رسم اب تک چلی آ رہی ہے۔جرائد کی ایک اور اعلیٰ قسم ہے جہاں اول درجے کے لکھاری ادیب موجود نہیں ہوتے اور پرچے کا پیٹ بھرنے کے لیے ہم سے ادیب ہمہ وقت شائع ہونے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ایسے ادیبوں کے لیے ایسے پرچے ایک نعمت ِغیر مترقبہ ثابت ہوتے ہیں۔ایسے ادیب جو اے کلاس کے معیاری پرچوں میں کبھی جگہ نہیں پا سکتے وہ ان رسائل میں موج میلہ کا سامان بہم کرتے رہتے ہیں۔یوں ادیب اور لکھاری دونوں کا کام چلتا رہتا ہے۔مدیر کو ادب کے معیاری اور غیر معیاری ہونے سے غرض نہیں ہوتی اور لکھاریوں کو اے کلاس مجلے کی ضرورت کا احساس نہیں ہوتا۔بعض ادبی مدیروں کے لیے پرچہ بقول اشفاق احمد منچلے کا سودا ہوتا ہے۔کوئی شائع ہو نہ ہو انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی۔سال کے بعد ایک ضخیم پرچہ ترتیب دیتے ہیں پھر اس کی یادوں میں غرق رہ کر سوشل میڈیا پر اس کی رونمائی کرتے رہتے ہیں۔اس تھیسز کی بنیاد پر آپ ادبی پرچوں کی درجہ بندی آسانی سے کر سکتے ہیں۔کچھ جرائد ایسے ہوتے ہیں جن کو دوسری نسل اپنے سینے سے لگا لیتی ہے اور باپ کی میراث کو حرز ِجان بنا لیتی ہے۔ایسا ہی پرچہ تخلیق ہے جو قریباً نصف صدی سے شائع ہو رہا ہے۔یہ پرچہ بغیر کسی لالچ اور صلے کے اپنی دھن میں مگن ہے اور غالب کے اس شعر
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
کی تفسیر ہے۔یہ ہمارے مہربان اظہر جاوید کا پرچہ تخلیق ہے۔اس کا بھگوان سٹریٹ والا دفتر ہمارے دفتر کے ساتھ پڑتا تھا۔بلکہ بھگوان سٹریٹ جو بعد میں رحمان سٹریٹ ہو گئی کے مالک کا ہمارے دفتر میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔اظہر جاوید سے ہمارا ایک اور تعلق سرگودھا کی وجہ سے تھا۔ایک آدھ بار اوراق کی نظموں کے سیکشن کا آغاز اظہر جاوید کی نظم سے ہوتا اور اختتام ہم جیسے مبتدی نظم نگاروں کی نظم سے ہوتا تھا۔اظہر جاوید نے کم وبیش چالیس سال تک تخلیق جاری رکھا۔وہ اپنی زندگی میں اس شمع کے گل ہونے کے بات کرتے تھے۔انہیں یقین تھا کہ ان کے بعد ان کا جاری کردہ پرچہ جاری نہیں رہ سکے گا۔مگر ان کی اولاد نے اقبال کے اس شعر کو بھی غلط ثابت کر دیا
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر لائق ِمیراث ِپدر کیوں ہو
سونان اظہر ایک کامیاب بزنس مین ہیں مگر انہوں اپنے آپ کو اس میراث کا بھی اہل ثابت کیا ہے۔نہ وہ شاعر ہیں نہ افسانہ نگار مگر باپ کے جاری کردہ تخلیق کو اولین فرض کی طرح نبھا رہے ہیں۔سالنامہ 2024 میں بہت سے سینئر ادبا موجود ہیں جن میں نذیر قیصر، ڈاکٹر مبارک علی، محمود شام، ایوب خاور، گلزار بخاری، عذرا اصغر، ڈاکٹر غافر شہزاد وغیرہ شامل ہیں۔پرچے کو پہلی بات، حمدونعت، 12واں تخلیق ایوارڈ، مضامین، توشہ خاص، منظومات، سرائیکی افسانہ، افسانے، غزلیں، یاد رفتگاں، طنزومزاح، سفر نامہ، پنجاب رنگ، جائزے، تبصرے اور انجمن خیال میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلی بات میں مدیر نے اس پرچے کی غرض و غایت اور اس کے جواز کے بارے میں بہت خوبصورت بحث چھیڑی ہے۔ادبا اور اس پرچے کے مستقل قلمی معاونین پر فرض ہے کہ وہ اس بحث کو آگے بڑھائیں۔مدیر کو خلوص دل سے مشورہ دیں کہ اس پرچے کو مزید کس طرح مستقبل گیر بنایا جا سکتا ہے۔ادبی پرچہ جدید تقاضوں سے کس طرح ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔پہلی بات میں باپ بیٹے کے تعلق ِخاطر کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اظہر جاوید پرچے سے کمٹمنٹ کی عمدہ مثال تھے اور کسی سرکاری گرانٹ کے طلب گار تھے نہ روادار۔انہوں نے پرچے کو ایک خودداری کے ساتھ جاری رکھا۔اگلی نسل کو مالی طور پر تو جاری رکھنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں اور ریگولر بنیادوں پر پرچے کو شائع کرنا بذات خود ایک قابل تعریف روایت ہے۔
مدیر نے والد کو یاد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے والد نے کامیابی کے لیے تین زینے اور اصول بتائے تھے ان میں اول محنت دوئم ایمانداری اور سوئم ہنر۔ان تینوں کی یکجائی کامیابی کی ضمانت ہے۔مدیر نے پہلی بات میں بعض ادیبوں کو میٹھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور بالکل درست انداز میں گوشمالی کی ہے۔
اس شمارے کی خاص بات 12 ویں تخلیق ایوارڈ کی روداد ہے جو ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے بیان کی ہے۔اس روداد میں انہوں نے بانی مدیر اور ان کی مساعی جمیلہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔یہ امر ہمارے لیے بھی خوشی کا باعث ہے کہ اظہر جاوید کی ادبی خدمات پر ڈاکٹریٹ مکمل ہو گئی ہے۔اسی تقریب میں ان کے فکر و فن پر پی ایچ ڈی کرنے والے فیصل شہزاد کو بھی خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ایوارڈ کی یہ تقریب بذات خود ایک اہل قلم کانفرنس ہی تھی جس کے لیے مدیر تخلیق مبارک باد کے مستحق ہیں۔
ہر اردو پرچے کے غزلوں کے سیکشن میں ہم سب سے پہلے نذیر قیصر کی غزل دیکھتے ہیں اس پرچے میں فہرست میں تو ان کا نام تو شامل ہے مگر ان کی غزل موجود نہیں۔جب بھی ان کی غزل شائع ہوتی ہے تو ہم لازماً ان کے چند شعر کوٹ کرتے ہیں۔اس بار ان کی غزل نہ دیکھ کر باقی غزلوں پر گزارہ کیا۔ان کی غزل میں آپ کسی کرافٹ کا مظاہرہ نہیں دیکھتے بلکہ لفظوں کے بطون میں پوشیدہ پراسراریت کو احساس میں ڈھلتا دیکھتے ہیں۔پرچہ کے
غزل سیکشن سے محمود شام کے دو اشعار
عالم وحشت ہے انسانوں سے رکھیے فاصلہ
پتھروں کو چومیے اینٹوں سے باتیں کیجیے
آپ کتنے خاص ہیں یہ بات اب تو عام ہے
اپنی بابت سوچیے بچوں سے باتیں کیجیے

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

کالم

ترقی یا پروموشن ۔۔۔۔ خوش قسمتی یا کچھ اور

  • جولائی 11, 2019
ترجمہ : حمیداللہ خٹک کون ہے جوزندگی میں ترقی نہ چاہتاہو؟ تقریباًہرفرد ترقی کی زینے پر چڑھنے کا خواب دیکھتا
کالم

کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی

  • اگست 6, 2019
از : یوسف خالد کشمیر جل رہا ہے اور دنیا بے حسی کی تصویر بنی ہوئی ہے — دنیا کی