ادھوری کہانی


تحریر: یوسف خالد
انسانی دماغ بہت پیچیدہ مگر ہمارے جسم کا اہم ترین حصہ ہے -صدیوں سے انسان اس کی کارکردگی کو جاننے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے – سائنس نے بتدریج بہت سی گرہیں کھولی ہیں تا ہم ابھی بھی بہت کچھ فہم سے بالا ہے – دماغ کی کارکردگی اتنی متنوع ہے کہ اس کی کارکردگی کو جاننے کے لیے دماغ کا استعمال ہی کرنا پڑتا ہے- گویا معمہ بھی یہ خود ہے اور اس کے حل کی کنجی بھی اسی کے پاس ہے –
            سائنس دانوں نے ساٹھ کی دہائی میں یہ ثابت کیا تھا کہ دماغ دو حصوں پر مشتمل ہے- ایک دایاں حصہ کہلاتا ہے دوسرا بایاں – دونوں کے الگ الگ وضائف ہیں دونوں ایک جیسے ہونے کے باوجود مختلف کارکردگی کے حامل ہیں – تا ہم دونوں ایک دوسرے کے مدد گار ہیں اور انتہائی باریک ریشوں سے ایک دوسرے سے منسلک ہیں -ایک نیٹ ورک ہے جو انسانی کارکردگی کے تمام پہلوؤں کی ڈیزائنگ بھی کرتا ہے اور نگرانی بھی کرتا ہے- دایاں دماغ جسم کے بائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے اور بایاں دائیں حصے کو – دایاں دماغ تصویروں، رنگوں، متخیلیہ اور آرٹ سے متعلقہ امور انجام دیتا ہے جب کہ بایاں دماغ تجزیاتی ،سائنسی اور منطقی نوعیت کی ذمہ داریاں پورا کرتا ہے – ہر چند کی ان کے فنکشن الگ الگ ہیں لیکن یہ ایک دوسرے کی مدد کر کے اپنے امور انجام دیتے ہیں –
         ہم اکثر انسانوں کو ان کے طبعی رجحان اور میلان کو دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ شخص دائیں دماغ کا حامل ہے اور یہ شخص بائیں دماغ کا – ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک سائڈ کے دماغ کا ہی استعمال کر رہا ہے – دماغ کی مجموعی کارکردگی دونوں حصوں کےباہمی تعاون پر ہی مشتمل ہوتی ہے – فرق صرف اتنا ہے کہ آرٹ سے متعلقہ شخص کی کارگردگی کا غالب حصہ دائیں دماغ کا مرہون منت ہے – اور تجزیاتی و منطقی سوچ کے حامل شخص پر بائیں دماغ کے اثرات غالب ہوتے ہیں – ہمارا دماغ اولآ تصویروں سے پہچان کا عمل شروع کرتا ہے – دایاں دماغ ایک رنگوں کے میلے سے امیج کو نشان زد کرتا ہے تو بایاں دماغ جو لفظوں کے ذریعے سوچتا ہے – اسے مدد فراہم کرتا ہے
یوسف خالد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post