غزل : یونس خیال


یونس خیال
پھرنظرمیں شکستہ خواب رہا
رات بھرپھروہی عذاب رہا
مجھ کوپھر اعتماد میں لے کر
وہ    مکرنے میں کامیاب رہا
میری بستی میں ایک جگنو تھا
وہ    مگر بن  کے آفتاب رہا
میں   بظاہر تھا     مطمٗن   لیکن 
میرے پہلو میں  اضطراب رہا
جب ہوا ختم شہر   میں    پانی
میری پلکوں پہ دستیاب رہا
نام لینا بھی جرم ہے اس کا
جو    کبھی شاملِ نصاب    رہا

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post