غزل : ناصرمحموداعوان

اُلفت پہ حقیقت کا گُماں یاد رہے گا
بچپن کی محبت کا جہاں یاد رہے گا

وہ پاس رہا ہے تو مرے ساتھ رہا ہے
وہ دُور رہے گا تو کہاں یاد رہے گا

بستی میں طلسمات کا تھا محور و مرکز
اُجلی سی پری کا وہ مکاں یاد رہے گا

معصوم سے دل کی وہ دل آویز کہانی
الفاظ نہیں طرزِِ بیاں یاد رہے گا

اٹھتے ہوئے شعلوں کی جو تعبیر ملے گی
بُجھتے ہوئے خوابوں کا دھواں یاد رہے گا

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post