ہوا کو بات کرنے دیں/یوسف خالد ۔۔۔ تبصرہ: مہر اللہ یار سپراء

مہر اللہ یارسپرا
مہر اللہ یار سپراء
’’ زورِ موسم کا عذاب ‘‘ سہنے کے باوجود یوسف خالد کا یہ دعویٰ کہ ’’ ابھی آنکھیں سلامت ہیں ‘‘ اس وقت سچ ثابت ہوا جب انہوں نے اپنے عہد کے دانشوروں کو مشورہ دیا کہ بہت کچھ ہو چکا ہے ۔ اب ایک طاقتور اور لامحدود قوت یعنی ’’ ہوا ‘‘ کو دعوت گفتار دی جائے ۔ اہل ہوس اور مفاد پرست تو شاید اسے نقار خانہ میں طوطی کی آواز سمجھیں مگر اہل ذوق کیلئے یہ بارش کا وہ مقدس قطرہ ہے جس کے استقبال کیلئے ہزاروں صدف منہ کھولے کھڑے ہیں ۔ سرکش لہروں ، بپھرے ہوئے گھڑیالوں اور دھاک لگا کر بیٹھے نہنگوں کے جبڑوں سے نکل کر اپنا وجود قائم رکھنا بہت بڑی بات ہے ۔
جنت ِ نظیر سرزمین اگر دکھ درد ، رنج الم غم ، الا بلاد باء ، قرض مرض ، قحط کرب ، بھوک افلاس تنگدستی ، جنگ ، خون ، خوف اور نااتفاقی کی آگ میں جل رہی ہو اور اس آگ کو بجھانے والے تمام حربے ناکام ہو چکے ہوں تو ایسے میں مسائل کو حل کرنے کیلئے ہوا کو دعوت دینا ایک جرأت مندانہ اقدام ہے ۔ ہوا آگ کو مزید بھڑکا بھی سکتی ہے اور کالی گھٹائیں لا کر بجھا بھی سکتی ہے ۔ میرے نزدیک یہی وہ نمایاں تاثر ہے جو یوسف خالد کی تیسری کاوش ’’ ہوا کو بات کرنے دیں ‘‘ میں ابھر کر سامنے آتا ہے ۔ یوسف خالد اسمِ با مسمّیٰ ہیں یعنی جمالِ یوسف اور جلالِ خالد اُن کے ایک ہاتھ میں گلدستہ ہے تو دوسرے میں تلوار ۔ ان کی شخصیت ایک ایسے سنگم پر واقع ہے جہاں ندی کا شور اور سمندر کی خاموشی ایک دوسرے سے بغل گیر ہیں ۔ وہ اپنے عہد کے شاعر ہیں اور اپنے عہد کے مسائل کا سامنا کرنے کیلئے بھی تیار ہیں ۔ ہوا کو دعوت گفتار دینا محض اتمامِ حُجّت نہیں ۔
بقول سید صفدر رضا صفیؔ ’’ انہوں نے کرب ِ ذات کو کرب ِ کائنات کے تناظر میں رکھ کر دیکھنے کی بجائے ذات میں ہی کائنات کو دریافت کر لیا ہے ‘‘ وہ شکست تسلیم کرنے کوہر گز تیار نہیں اور نہ وہ دل کا دروازہ کھول کر کسی کو اندر جھانکنے کی اجازت دیتے ہیں البتہ انہوں نے نبی کریمؐ کے حضور اپنا سارا دکھڑا سنا دیا ہے ۔ غضب کی دھوپ ہو ، سر پر سائبان تک نہ ہو ، انسان کارواں سے بچھڑ چکا ہو ، زمین پائوں تلے سے سرک رہی ہو ، آسمان دور ہو اور زندگی درد و الم کی داستان بن جائے تو ایسے میں مدنی سرکار کا آستانہ عالیہ اُمیدوں کا نخلستان بن سکتا ہے ۔ یہ محض رجائیت پسندی نہیں بلکہ عقیدہ کی پختگی ہے ۔
عجب صورتحال ہے ، خوبصورت الفاظ ان کے حضور دست بستہ کھڑے ہیں مگر بے الفاظ آوازوں نے ان کے گرد اُودھم مچا رکھا ہے ۔ اس شورو غل میں بھی انہیں ایک ایسی آواز سنائی دے رہی ہے جو سماعت کی بے بسی پر نوحہ خواں نہیں بلکہ سماعت کے کانوں میں مدھر آواز کا رس گھول رہی ہے ۔ اگر کوئی ایسا مقام آ جائے جہاں آنکھیں بے نور ہو جائیں اور کان سماعت سے محروم ہو جائیں تو ان کے تخیّل میں کوئی دبے پائوں آ کر اُجالے تقسیم کر جاتاہے ۔
یوسف خالد ایک مکمل انسان ہیں اور ان کی شخصیت متوازن ہے ۔ دل و دماغ ان کے قابو میں ہیں ۔ تخیّل کی پرواز ہو یا جذبات کا لاوا ، دونوں پر ان کا کنٹرول ہے ۔ نظم میں وہ تخیّل کو میرِ کارواں بناتے ہیں اور جذبات کو کارواں ، جبکہ غزل میں جذبات کو اِمام کھڑا کرتے ہیں اور تخیّل بطورِ مقتدی ۔ میرے نزدیک یوسف خالد کی شخصیت ایک مسدّس نما تصویر ہے ۔ اگر آپ اُسے پرکار سے ناپیں تو تمام زاویے اور خطوط ’’ گنیئے ‘‘ ( ایک جیسی پیمائش کیلئے استعمال ہونے والا اوزارجو عموماً راج مستری کے پاس ہوتا ہے ) میں ہوں گے اور نہ ہی ان کے ہاں کوئی بات انہونی ہے ۔ دماغ اور دل ، روح اور جسم ان کا متوازن اور حسین امتزاج ۔ یوسف خالد کے تخلیقی شاہکار ۔ وہ بوڑھے سورج سے اس لئے مایوس ہے کہ اس میں روشنی تقسیم کرنے کی صلاحیت نہیں رہی جبکہ چاندنی راتوں کی ٹھنڈک سے اُسے پیار ہے کہ اس کی بنیاد محبت پر ہے ، اور محبت کیا ہے ’’ محبت کو محبت ہی کہا جائے تو اچھا ہے ‘‘ ۔
’’ ہوا کو بات کرنے دیں ‘‘ ، ’’ چلو چُپ کا مزہ لیں ہم ‘‘ یہ بھی حقیقت ہے کہ جنہوں نے چپ کا مزہ چکھا انہیں کلام کرنے میں لطف ہی نہیں آتا ۔ اگر پون صدی سے ہم مہمل ، بے ربط ، اور بے مقصد گفتگو کر رہے ہیں تو عقل کا بھی تقاضا ہے کہ ہم کچھ عرصہ کیلئے خاموش رہیں اور اپنی ذات کے اندر ڈوب جائیں اور اپنی ذات میں نئی باتیں ، نئے معنی اور نئے موسم اتار دیں ۔ نیم مردہ جذبوں کو دھیرے دھیرے رگوں میں اتار دیں پھر دیکھیں کہ خزاں زدہ اور ٹنڈ منڈ درختوں سے شاخیں کیسے نکلتی ہیں اور شاخوں پر پھول اور پتے کیسی بہار لاتے ہیں ۔ یوسف خالد کا یہ سوال بہت اہم ہے کہ موسموں کا تغیّر و تبدّل دھرتی کو تو حسن و جمال عطا کرتا ہے مگر یہ راز کیا ہے کہ ’’ کسی نے زندگی کو موسموں میں بانٹ دیا ہے ‘‘ جبکہ انسان تو انسان ان کے نزدیک پتھر بھی بے حس نہیں ۔ لیکن انسان اگر خواہشات کے ملبہ تلے دب جائے تو نہ ہوا اس کے نیم مردہ جسم کو متحرک کر سکتی ہے اور نہ آواز اس کے کانوں میں داخل ہو سکتی ہے ۔ البتہ اگر وہ ’’ چُپ ‘‘ کا مزہ اٹھا لے ، بھیڑ سے باہر نکل آئے ، پگڈنڈیوں سے گذرتا ہوا کسی لمبے اور انجانے راستہ پر محوِ سفر ہو تو شاید اس کی بصارت اور سماعت واپس آ سکیں ۔ چپ کا روزہ افطار ہو ، قوتِ گویائی میں ایسا نکھار آئے کہ لہنِ دائودی بھی انگشت بدنداں ہو ۔
خاموش چٹانوں سے پھوٹتے ہوئے جھرنے اگر یوسف خالد کے ہاں ’’ مجلسی تبسم ‘‘ کا روپ دھار بھی جائیں تو یہ ان کی حقیقی تصویر نہیں ہے ۔ جنگل سے بظاہر نکل کر انہوں نے اپنے پیکر کی جو تصویر کشی کی ہے اسے دیکھ کر تو ہر آنکھ پُرنم ہو جاتی ہے ۔ تار تار پوشاک ، بدن کی کھال کے بدنما داغ ، پائوں کے چھالے ، الجھے بال ، بھدّے ہونٹ ، شکنوں بھرا ماتھا ، سہمی اور ڈری ہوئی آنکھیں ، تبسم کو ترستے لب ، محبت سے تہی دامن درد اور کانٹوں بھرا جیون ، یہ وہ حقائق ہیں جو نصف صدی سے ہمارے سامنے ہیں ۔ یوسف خالد شاید اس حقیقت کو خواب میں بدلنا چاہتے تھے کہ جنگل نہ صرف ان کے دروازہ پر دستک دینے لگا بلکہ اس جنگل کا ایک اور جنگل استقبال کرنے لگا اور یہ جنگل خود ان کی ذات میں اُگ چکا تھا ۔
سرکار مدینہ ؐ سے فیضیاب ہونے کے بعد یوسف خالد نے اپنی اس تخلیق ’’ ہوا کو بات کرنے دیں‘‘ میں 35 نظمیں سجائیں اور 15 غزلیں پیش کیں ۔ ہر غزل تقریباً پانچ سے سات اشعار پر مبنی ہے ۔ ویسے اگر کسی غزل میں ایک دو شعر ایسے مل جائیں جو قاری کے ذہن کو ہِلا دیں تو اسے معیاری غزل کہا جا سکتا ہے مگر یہاں معاملہ ذرا مختلف ہے ۔ پوری غزل میں شاید کسی ایک آدھ شعر کو ہی نظر انداز کیا جا سکتا ہے جبکہ بعض اشعار تو ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں اور معنی کے اعتبار سے کوزے میں سمندر سمونے والا محاورہ بھی بے بس نظر آتا ہے ۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یوسف خالد نے واصفی ساگر کو گاگر میں بند کر دیا ہے ۔
حصہ نظم میں طوالت کے خوف سے جان بوجھ کر شعری حوالہ جات سے پرہیز کیا گیا ہے البتہ اشارات واضح ہیں۔ لیکن حصہ غزل میں میری یہ حکمت عملی کامیاب نہیں رہی کیونکہ یہاں معاملہ دل کا ہے ۔ کوشش کے باوجود کسی شعر کو محض اشاروں میں سمونے سے قاصر رہا ۔ اشعار کی لامحدودیت اور آفاقیت کو حصار میں بند کرنے کی صلاحیت خود شاعر کے پاس ہے ۔ مجھ پر تو پہلے ہی یہ خوف طاری ہے کہ شاید میں رِنگ سے باہر جا چکا ہوں ۔ مجھ جیسا معمولی قاری ان کی غزلوں پر تبصرہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا البتہ مجھے جن اشعار نے ہِلا کر رکھ دیا ان میں سے چند درج ذیل ہیں
دعائوں میں اثر کیسے ہو خالدؔ خدا سے رابطہ ٹوٹا ہوا ہے
میں کون ہوں کہاں ہوں مجھے کچھ خبر نہیں کیا مل گیا اسے مجھے حیرت میں ڈال کر
ہوا کے رُخ کا اندازہ بھی کر لیتے تو کیا ہوتا ہمیں کب راس آیا ہے ہوا سے رابطہ رکھنا
میرے گھر میں شام سے پہلے تیری یادیں اترتی ہیں تیرا بخشا ہوا ذوقِ طلب اب بھی سلامت رہے
جو درد میری رگوں میں اُتر رہا ہے ابھی یہ دَرد وُہ ہے جو کر دے گا بے مثال مجھے
یوسف خالد کے اس شعر کا تذکرہ ضرور کروں گا جس کے وہ معنی جو میں سمجھ سکا اس کی مزید تشریح پر سید صفدر رضا صفی نے پابندی لگا دی تھی ۔ شعر کیا ہے ، میرے وطن عزیز کی پون صدی کی تاریخ قیامِ پاکستان سے لے کر انتقامِ پاکستان تک کا سفر جلتی جھونپڑیوں سے لے کر جگمگاتے ایوانوں تک ، کسان کی بے بسی سے لے کر لٹتے کھلیانوں تک ، مزدور کے پسینہ سے چلنے والے کارخانوں تک ، لفظوں کے بیوپاریوں سے لے کر شعراء کے دیوانوں تک ، نیم مردہ اور سسکتی رُوحوں سے لے کر پھیلتے قبرستانوں تک اور گلیوں کے گلی ڈنڈوں سے لے کر کرکٹ کے میدانوں تک کیا ہم نے سارے فیصلے ’’ سکّہ اُچھال ‘‘ کر ہی کئے تھے ۔
کچھ بھی نہیں بچا جسے رکھیں سنبھال کر ہم نے کیا تھا فیصلہ سکّہ اُچھال کر
صدیوں سے مچلتی خواہشات حقیقت کا روپ دھار گئیں ۔ ہم نے سکّہ اُچھالا ، چاند ستارے کی خواہش کی اور ٹاس بھی جیت لیا ، مگر ۔۔۔ مگر۔۔۔ ’’ قائد کی تھیلی میں واقعی کھوٹے سکّے تھے ‘‘ اور ہم میچ ہار گئے ۔
بائیس کروڑ انسان جو تالیاں بجانے آئے تھے ، آنسو بہاتے سٹیڈیم سے سر جھکائے نکل رہے ہیں ۔ عقابی روح کی بیداری کا دعویٰ کرنے والی نسل اپنی منزل کو آسمانوں پر تلاش کرنے کی بجائے زمین پر حشرات الارض کی طرح پون صدی سے پیٹ کے بل بے مقصد رینگ رہی ہے اور حوادثِ زمانہ کے وقوع پذیر ہونے کی منتظر ہے ۔ کوئی بجلی گرے ، کوئی زلزلہ آئے ، کوئی سیلاب آئے یا کوئی ہلاکو اور چنگیز خان آئے جو مقدس دھرتی کو ان کے وجود سے پاک کر دے جنہوں نے بائیس کروڑ عوام کے پیٹ پر لاتیں مار مار کر انہیں ادھ مؤا کر دیا اور اپنی توندیں بڑھا لیں ۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post