(کچھ بےترتیب کہانیاں: ارشدرضوی … تبصرہ : ثمینہ سید


تبصرہ : ثمینہ سید
ڈبویا مجھکو ہونے نے
میرے ہاتھ میں ارشد رضوی کا افسانوی مجموعہ “کچھ بےترتیب کہانیاں “ہے. ایسےلگا کہ زندگی کی ترتیب ہی بدل گئی یے. کوئی ہونے اور نہ ہونے کے درمیان معلق ہے. نفرت ہی نفرت. لوگوں سے, سسٹم سے, روایات سے, رشتوں اور دولت کی تقسیم سے اتنی نفرت اپنے وجود میں پال کر کوئی کیسے زندہ ہے سمجھ سے بالاہے.
مصنف اپنی کہانیوں کی کیفیت میں مبتلا ہے. کربناک کہانی کے ساتھ جیتا ہے. الجھن میں رہتا ہے. جو دیکھتا ہے جوکچھ جھیلتا ہے وہ سب جوں کا توں لکھتا جاتا ہے. ذراسا بھی کہانی کا بناؤ سنگھار نہیں کرتا. شاید وہ زندگی کو تصنع کی عینک سے دیکھ ہی نہیں پاتا. اس قدر سچا اور کھرا انسان ہے کہ تلخیوں نے اس کے رگ و پے میں زہر بھر دیا ہے جسے وہ ابکائیوں کی صورت الٹ رہا ہے. میں حیران ہوں کہ دریدہ وجود کے ساتھ وہ کیسے جی رہا ہے اتنے گھٹن زدہ کردار کیسے رقم کیےہوں گے ؟
وہ کن کی طاقت سے منکر نہیں لیکن آزردہ ہے. ہونے اور نہ ہونے کا مسئلہ شدید ہے.
مصنف کے سارے کردار مضطرب ہیں. اور خیالات منتشر. سچ کہتا ہے کہ اس کی کہانیاں ٹوٹی بکھری ہوئی ہیں. اس نے خود کو کسی لوبھ کسی دھوکے کی نذر کیا ہی نہیں. محبت کی نرمی اگر دھوکہ ہے بھی تو بہت ضروری ہے کچھ دن تو وجود کے تعفن کو قابو کرتی ہے. کچھ دن تو پور پور مہکاتی ہے. ایسے کیسے جیا جا سکتا ہے جیسے “کچھ بےترتیب کہانیاں “کے کردار جی رہے ہیں. لب حیات سسکتے ہوئے. بناوٹ اور ملمع کاری سے عاری بالکل ننگ دھڑنگ. بےشک وہ معاشرتی رویوں کو ان کی اصل شکل میں لکھ رہا ہے.
مبالغہ کی آمیزش نہیں ہے حقیقت زخموں سے کھرنڈ اتار کر مسلسل انہیں تازہ رکھ رہی ہے. مصنف نے بےترتیب کہانیوں کو ترتیب لگانے کی سردردی اپنے ذمے لی ہی نہیں. شاید وہ جھوٹ کی لیپاپوتی نہیں کرسکتا. یہی اس کی انفرادیت ہے. میں داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتی. مصنف نے کمال مہارت سے فگار کہانیاں چھلنی کردار تخلیق کئے ہیں. وہ زندہ رہ کر موت کی اذیت جھیلتا یے. منظرنگاری ایسی باریک کہ کسی کونے کھدرے میں مٹی کا ایک ذرہ بھی اوجھل نہیں.جزئیات نگاری اس قدر جامع کہ قاری مصنف کے ہمراہ ان مدقوق جہانوں میں گھومتا پھرتا ہے. اس کے پاؤں بھی غلاظت سے لتھڑ جاتے ہیں. سانس سینے میں اٹکنے لگتی ہے.
لفاظی اورجملوں کی بنت کمال ہے. لہجے کی کرختگی نے حسن کے پردے سے اور بناوٹ کی تہہ کے دوسری جانب لا پٹخا ہے. یاسیت زیادہ ہے. نفرت میں شدت ہے. لیکن سب بےیقینی کا شکار ہے. مصنف بےبسی سے کہتاہے
“میں شناخت بنانا بھی چاہوں تو کہانی کی سنگ دل محبوبہ ایسا کرنے نہیں دیتی. اپنے ساتھ رکھتی ہے”
تو مصنف کے ساتھ چلتے چلتے میں بھی اس متعفن ماحول کا حصہ بن گئی ہوں. جہاں پہلی کہانی”کہانی “کے نام سے پنپ رہی ہے. انوکھی منطق. عجیب رمزیں نہاں ہیں
“پورا دن گزر گیا…. جہاں سورج دھرا تھا,وہاں اب چاند دھرا ہے”
مصنف نے شام وسحر کی نئی صورت بنادی. وہ ناصح نہیں بنتا. بس لکھتا جاتاہے. مکروہ چہروں سے نقاب الٹ کر اصل تک رسائی دیتا ہے.
“پرانی مٹی کی دیوار”ایک علامتی افسانہ ہے. سانپ علامت کے طور پر غاصبوں کے پرتسلط پنجوں میں جکڑے بلبلاتے عوام کی رگوں میں اترتا زہر دکھا رہے ہیں. لوگ بے حال اور نڈھال ہیں.
“ایک شہری عورت کی کہانی”عجیب کہانی ہے ڈگر سے ہٹ کے. اس میں چمکتی اٹھلاتی شہری عورت نہیں ہے بلکہ ذمہ داریوں کے بوجھ سے, رویوں کی بدصورتی سے, اپنوں کی ہوس پرستی بےحسی اور بےاعتنائی سے اس کا وجود راکھ ہورہا ہے.مصنف نے مشاقی سے ہر وہ درد لکھا ہے حو اس نے سہا نہیں ہے. تو مشاہدے کی گہرائی دیکھئے جس نقطہء عروج پہ ہے.
“پرندے کے ساتھ کچھ دن” میں لکھتا ہے.
“وہ رینگتے ہوئے کیڑے ہوتے تو انہیں پاؤں سے مسل دیاجاسکتاتھا….وہ تو نہ نظر آنے والا پرندہ تھااور پورے گھر میں اداسی کی کوک الاپ رہا تھا”
اداسی اور مایوسی چہرے بدل بدل کے کہانی میں ڈھل رہی ہے.
اسی طرح”کائنات کی پرانی کہانی” میں نہایت اختصار کے ساتھ تھکے ہارے لوگوں. پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کی فکروں سے شکستہ وجود لوگوں کی کہانی.
“نوکری چھوڑی نہیں جاتی نوکری سے نکالا جاتا ہے. ہمارا سب کچھ باس کی امانت ہے” اس کہانی کے اختتام میں بیوی کو باس کی خواہش پہ نوکری کے لیے آمادہ کرنا اور بیوی کا گھٹن زدہ ماحول سے جھٹ پٹ نکل جانے کو تیار ہونا بھی موت کے مترادف ہے.
“کتنے ہی مرد تھے جو نامرد ہو گئے تو کمپنی کی پروڈکشن کو بڑھانے کی خاطر انکی عورتوں کو رکھ لیا گیا”
ایسے مسائل سے پردے اٹھانے والا اپنی کہانیوں کو بےترتیب کہے تو بات صاف ہے زندگی کی ترتیب بگڑ چکی ہے.
“ابلیس”میں بےشمار شیطانی چہرے. بےیقینی اور بےاعتباری کے کفن میں لپٹے اپنے بہت اپنے رشتے.
“ماضی سے جڑے قصوں کی کہانی” تھکن رگ و پے میں سرایت کرچکی ہےایسے جیسے زندگی میں خوشیوں کے آٹے میں نمک برابر بھی نہ ملے ہوں.
“خواب سانپ اور عورت”یہ عنوان پڑھ کے کہانی خود ہی بننے لگتی ہے. کسی چوٹ کھائے ہوئے شخص کے ٹوٹے بکھرے وجود کی شکست زدہ کہانی جو شروع سے آخر تک یاسیت زدہ یے.
“دور تلک تنہائی” بڑا شاعرانہ سا عنوان ہے. لیکن مصنف کو شاعری کی نرمی سے کیا علاقہ. وہ تو بےحسی بےمروتی کے رونے روتا یے. دھوکہ زدہ رشتوں کا نوحہ کرتا ہے. نشے کی لت میں پڑے دو مردوں کی کہانی جو جینے کی چاہ سے بہت آگے نکل چکے ہیں.اپنی ماں کی بےوفائی کے روگ سے باپ کو مقتول دیکھ کر نشے میں پناہ لینے والا جو اپنے ساتھ نشہ کرنے والے کو ایک سگریٹ کے لیے ماردینے والے کمزور لوگوں کی طاقتور کہانی ہے.
“زندگی سے جڑاہوا ایک شخص “تجریدی تصویر کی طرح مبہم کہانی ہے. کسی بھی زاویے سے دیکھو ترتیب بنتی ہی نہیں. “زندگی کب تک مرنے اور جینے کے خانوں میں بٹی رہے گی”
مصنف جاندار جملوں سے بےجان لوگوں دم توڑتے لمحوں کی کہانیاں لکھی ہیں.
“شہرآشوب”…..جادو گھر”…”وہم”….سدھارتھ…. سورج اور وہ” قدرے مختلف موڈ کی کہانیاں ہیں لیکن شک وشبہ, اضطراب, مایوسی اور ناامیدی حرف حرف ٹپکتی رہی. کیا کیا جائے اتنے دکھ کا,ایسی اندھیر نگری کا کہ جس میں کوئی چراغ جلتا نظر ہی نہیں آتا. “شک سے بوجھل دن” میں کچھ خاص نہیں ہے کوئی وجہ یا مقصد بھی نہیں بس ایسے جیسے مصنف کے کسی ایک دن کی ایک جیسی کیفیت…. نشے سے نڈھال اور مردہ ضمیر مرد کی بےخبر اور انتظار کرتی مطمئن بیوی.. شاید اس اطمینان کے پیچھے کچھ ہو کوئی دھوکا. “بھینٹ ” ایک عمدہ کہانی نفسیاتی پہلوؤں سے بہترین.والدین کی جنسی بےاحتیاطی نے رشیدہ کے لیے تجسس کی دنیا کے در وا کر دئیے. لڑکی بلوغت کے مراحل سے پژمردہ اور ماں باپ اس کی جوانی کے پہلے قدم سے پریشان. مولوی جو کمینی فطرت کا شخص تھا. اس بلے کو دودھ کی نگرانی پہ بٹھا دیا. جو غٹاغٹ پی کے برتن بھی الٹ دیتا ہے. معاشرتی غلاظت کو خوب اچھی طرح لکھا. موضوع سے مکمل انصاف ہوا.
“نچن پئی شرماؤن کیا”الگ طرز اسلوب کی کہانی احساسات کی طغیانی میں ڈانواں ڈول کردار. والدین اور بچوں کے درمیانی فاصلے جرائم کی وجہ بنتے ہیں. بہت سارے علمی حوالے اور منظوم جملے کہانی کا حسن بڑھا رہے ہیں.
“فیصلہ بھی حادثے کی طرح ہوتا ہے. جو وقت کی گود میں پرورش پاپا کر بالغ ہوجاتا ہے. ”
قریب المرگ شخص کی بےبسی کی داستان “موت کے خلاف ایک احساس”طویل عنوانات نے بھی کہانیوں کو انفرادیت بخشی ہے. قاری اپنے آپ کو وہیں کہیں پاتا ہے مرنے والے بندے کے قریب.
“موت یہیں تھی, کسی عیار بلی کی طرح پلنگ کے نیچے چھپی بیٹھی تھی. ”
مصنف نے بےجان چیزوں کو بھی زبان اور احساس دیا ہے. چپل سے لے کے کمرے کے کونے میں پڑے تنکے تک کو.
“مرے ہوئے اسیر کردار “میں بلا کی مایوسی در آئی جیتے جاگتے لوگوں کے اندر موت جیسا سناٹا تحلیل کردیا.
“انسان موت سے پہلے ہی اپنی بدترین شکل کو پہنچ جاتا ہے”. مصنف دنیا کو پاگل خانے سے ملاتا ہے تو کبھی پاگل خانے کے اندر دنیا دریافت کرنے چل پڑتا ہے.
“آوازیں دیتا ایک سمندر” ایک علامتی افسانہ جو اکثر ہڑھنے والوں کے سر سے گزر جاتا ہے. لکھنے والے کے د ماغ کا خلل لگتا ہے. سطح سے سمندر کی گہرائی تک سب خوں رنگ نظر آتا ہے جو مظالم اور کشت و خون ریزی ہورہی ہے وہ ہی اس کہانی کا موضوع ہے. “وہ سب ساحل پر بیٹھے بےجان کھمبیوں کی طرح کسیل ہوچکے تھے. ”
“بلاعنوان”مصنف جذبات کو تصوف کے چولے نہیں پہناتا بےجا بےحیائی بھی نہیں دکھاتا لیکن فطری حذبوں کی جو لذت ہے اس سے نظر بھی نہیں چراتا. ہلکا پھلکا سا رومانوی افسانہ اچھا لگا. انگریزی کے الفاظ کی بہتات نے بوجھل کیا لیکن فقرے پختہ اور کسے ہوئے ہیں. “عورت کا دل سیپی کی مانند کھلتا ہےآسمان سے کوئی آب نیساں ٹپکتا ہےاور سیپی کا منہ بند ہوجاتا ہے”
“ایک ساموسم”تلخ حقائق کی کہانی. موت کے ڈر نے سارے مزے کرکرے کردئیے. بس روتے کرلاتے بین کرتے موسم ٹھہر گئے. “اس کے ساتھ رہنے کی عادت کے دن “بہت اچھی نظم لکھی جا سکتی تھی لیکن مصنف کا کمال کہ نثر میں نظم کا آہنگ چھلک رہا ہے.
“کچھ بےترتیب کہانیاں”میں تنہائی چیختی ہے, بےحسی بین کرتی ہے, دھوکہ, فریب چنگھاڑ تا ہے. رویے چھید کرتے ہیں, چہرے دوغلے پن کا شکار ہیں. یہی ان کا اصل ہے جو مصنف نے دیکھا ہے. وہ اس کی عمیق نظری سے بچ نہیں سکتے. یہ ایک نایاب کتاب ہے اسے سرسری پڑھ کے سمجھا نہیں جاسکتا. بہت عمدہ تحریریں ہیں.روح کو لرزا دینے والے حقائق ہیں. کتاب کی کامیابی اور مقبولیت کی دعاؤں کے ساتھ ایک ادنیٰ سی گزارش ہے کہ جو آپ نے لکھا سب سچ ہے لیکن اپنے مخصوص انداز میں محبتیں بھی لکھئیے. قربانی, ایثار, بھرم اور کسی کے ساتھ ہونے کے طاقتور احساس کو بھی محسوس کیجئے.خوف تو ہے موت کا. دہشت گردی کا. ہر قدم پہ دھوکے کا. لیکن کوئی امید کا دریچہ وا رکھیں. بہت سی نیک خواہشات کے ساتھ ایک بار پھر مبارکباد. کہ الفاظ امر ہیں یہی رہ جائیں گے یہی ہمارا حوالہ ہیں.

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post