نظم کی بارگاہ میں


از : ڈاکٹر معین نظامی
خوب صورت نام والے نثری نظموں کے اس عمدہ مجموعے کی خالق محترمہ نجمہ منصور ہیں جن کا قابلِ رشک تخلیقی سفر گزشتہ تین دہائیوں کو محیط ہے۔ ان کے زادِ سفر میں پانچ شعری مجموعے، ایک کلیات اور دو تحقیقی کتابیں شامل ہیں۔ ان کی نظموں کا ایک مجموعہ انگریزی میں ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے۔
       نجمہ منصور کی تخلیقی صلاحیتوں کا بہترین اظہار ان کی نثری نظموں میں ہوتا ہے۔ ان کا ہر شعری مجموعہ ان کی پیش رفت کا ایک اجلا سنگِ میل رہا ہے جس نے ان کے فکری و فنی اعتبار و امتیاز میں شایانِ شان اضافہ کیا ہے۔ جادہء ادب پر ایک پُر اعتماد اور باوقار تسلسل سے ان کی تدریجی ارتقائی پیش قدمی ان کی مستقل مزاجی اور معنوی استحکام کی آئینہ دار ہے۔ ان کا تخلیقی وفور، اخلاصِ مشاہدہ، تنوعِ بیان اور توانا لب و لہجہ بتاتا ہے کہ زیرِ نظر مجموعہ بھی ان کی سرگزشتِ سخن کا محض ایک پڑاؤ ہے اور ابھی اقبال کے لفظوں میں”ہزار بادہء ناخوردہ در رگِ تاک است”۔
         “نظم کی بارگاہ میں” ایک طرح سے جدید اردو نظم کا جیتا جاگتا مرقع بھی ہے اور اس کی بالکل جدا گانہ اسلوب میں لکھی گئی منظوم شخصی و تجزیاتی تاریخ بھی۔ ایسی منظوم مرقع نگاری، تاریخ نویسی اور تنقید کاری کی مثالیں اگر ہوئیں بھی تو کم ہی ہوں گی۔ ان نظموں میں آزاد اور نثری نظم کے بارے میں شاعرہ کے کچھ خیالات بھی جھلکتے ہیں جنھوں نے کتاب کی ثروت مندی میں وقیع اضافہ کیا ہے۔ اس مجموعے کی ہر نظم کا موضوع کوئی نظم گو اور اس کا فکر و فن ہے۔ شاعروں اور ان کی منظومات کے مختلف سطحوں کے نثری مطالعات کے انبوہ میں ایسی زرخیز نثری نظموں کے پیرایہء اظہار میں تخلیقی مطالعات کی یہ نئی اور دل پذیر روایت بے حد ستائش کی سزاوار ہے۔
          ان نظموں میں جا بجا وہ گہری وابستگی موج زن نظر آتی ہے جو نجمہ منصور کو شاعری اور تخلیقیت کے ساتھ ہے، اس عمیق مطالعے کا رچاؤ دکھائی دیتا ہے جو شاعرہ نے بڑی لگن سے کر رکھا ہے، وہ نازک اور لطیف نفسیاتی آگاہی عکس نمائی کرتی ہے جو ایک باشعور اور حساس فن کار کو حاصل ہے اور سب سے بڑھ کر اس تہذیبی عزت و احترام کی حلاوت اور تخلیقی تعلقِ خاطر کی تازگی جھلکتی ہے جو شاعرہ اپنے رفقاے فن سے محسوس کرتی ہے۔ شاعرہ نے ایک کمال اور بھی دکھایا ہے کہ اس زندہ و تابندہ مرقعے میں ان کی اپنی شخصیت کسی دھیمی خوشبو اور کسی مدھم خنک سائے کی طرح قدم قدم پر اپنی موجودگی کا خوشگوار احساس تو دلاتی ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ ان کی موجودگی کسی منظر یا خیال کو بالکل نرغے میں ہی لے لیتی ہو، جو الم ناک صورت قاری کو بہت سے سفرناموں میں جھیلنا پڑتی ہے۔
        مَیں نجمہ منصور کو اتنے عمدہ مجموعہء کلام کی اشاعت پر تہِ دل سے مبارک باد دیتا ہوں اور ان کا بے حد شکریہ بھی ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے میری عزت افزائی کرتے ہوئے ایک نظم نگار کے طور پر مجھے بھی یاد رکھا اور “نظم کی بارگاہ میں” کے عنوان سے لکھی گئی ایک نظم میں مجھے اور میری شاعری کو بھی جگہ دی۔ 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post